پاکستان کے گردشی قرضے میں 1139 ارب روپے کا اضافہ

2020ء کی پہلی ششماہی میں 243 ارب روپے جب کہ دوسری ششماہی میں 294 ارب روپے گردشی قرضے کی مد میں بڑھ گئے ، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں انکشاف

0 15

پاکستان کے گردشی قرضے میں 1139 ارب روپے کا اضافہ ہوگیا ، مجموعی حجم 2300 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ تفصیلات کے مطابق رانا تنویر حسین کی زیر صدارت ہونے والے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کےاجلاس میں انکشاف ہوا

کہ توانائی کے شعبے میں موجودہ دور حکومت کے دوران گردشی قرضے میں 1 ہزار 139 ارب روپے کا اضافہ ہوچکا ہے ، جس کے ساتھ ہی یہ قرضہ 2300 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔

سیکرٹری توانائی کی طرف سے اجلاس میں بتایا گیا کہ گزشتہ تین ماہ میں 116 ارب روپے گردشی قرضہ بڑھا ،

جب کہ مالی سال 2019 کی پہلی ششماہی میں گردشی قرضے میں 288 ارب روپے اور گزشتہ سال کی دوسری ششماہی میں 198 ارب روپے کا اضافہ دیکھا گیا ، تاہم مالی سال 2020ء کی پہلی ششماہی میں 243 ارب روپے جب کہ دوسری ششماہی میں 294 ارب روپے گردشی قرضے کی مد میں بڑھ گئے۔

دوسری طرفر چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی رانا تنویر نے کرتارپور راہداری پراجیکٹ کا آڈٹ کروانے کا فیصلہ کرلیا ، انہوں نے کمیٹی اجلاس میں کہا کہ ایف ڈبلیواو کو کرتارپورراہداری کا آڈٹ کرانا پڑےگا، ایف ڈبلیواو اگر کرتارپور راہداری کا آڈٹ نہیں کراتا تو ڈی جی پی اےسی میں آکرجواب دیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پی اے سی میں پاکستان انجینیرنگ کونسل کے آڈٹ نہ کرانے کا معاملہ زیربحث آیا ، آڈٹ حکام نے کہا کہ پاکستان انجینئیرنگ کونسل پارلیمنٹ کے ایکٹ کے ذریعے قائم ہوئی ، پی ای سی آڈیٹر جنرل سے آڈٹ کرانے کی پابند ہے ، پی ای سی پارلیمنٹ کے ایکٹ کے تحت بنی ،

پاکستان انجینیرنگ کونسل کے چیئرمین کوطلب کیا جائے ، آڈٹ حکام نے کہا کہ ایف ڈبلیواو نے کرتارپورراہداری کے آڈٹ نہ کرانے کے حوالے سے جواب دیا ، ایف ڈبلیواو کا کہنا ہے کہ کرتارپورراہداری کی ایکنک نے ابھی منظوری نہیں دی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.