16دسمبر ایک المناک سانحہ : کل پہلی بارپھولوں کاجنازہ دیکھا ! تحریر: مولانامحمدطارق نعمان گڑنگی

میرے اللہ ہر برائی سے بچانامجھ کو نیک جوراہ ہواس راہ پہ چلانامجھ کو

0 119

پاکستان کاجودشمن ہے یقیناوہ اسلام کادشمن ہے یہ جملہ ان لوگوں کوگولی سے کم نہیں لگے گا جومادروطن کودنیاکے نقشے میں نہیں دیکھناچاہتے لیکن وہ لوگ اس وقت تک اس کے نام ونشان کوختم نہیں کرسکتے جب تک اسلام باقی ہے کیونکہ اس کی بنیادوں میں لاالہ الااللہ کی صدائیں اورادائیں نظر آتی ہیں
ملک خداد میں امن کی تلاش کے لیے اگر کوئی نکلے تواسے امن کی کوئی جانہیں ملتی ان معصوم بچوں نے بھی امن کودعوت دینے کے لیے ہاتھ میں قلم اورقرطاس کوتھاماہواتھاوہ اپنے من ڈوب کر علم کی شمع روشن کررہے تھے آج بھی سکول کی راہیں ان کوتک رہی ہیں اورگھر کی منزلیں انہیں تلاش کررہی ہیں وہ معصول پھول آخر کس سنگدل نے مسل ڈالے جن کے مرجھانے پہ بھی ابھی وقت باقی تھا
اکثر جنازوں پہ پھول دیکھے ہیں

کل پہلی بارپھولوں کاجنازہ دیکھا
وہ چمن جس نے خوبصور تی کواپنے اندران بچوں کی رنگینیوں نے ساتھ سمیٹاہواتھاآج وہ ویران نظر آرہاہے ،ان بچوں کی زبان پہ روزانہ یہی صداہوتی تھی کہ
میرے اللہ ہر برائی سے بچانامجھ کو
نیک جوراہ ہواس راہ پہ چلانامجھ کو

 

آخر ان کاکیاقصور تھاوہ تونیکی کے رستے کے راہی اورطالب تھے وہ توبرائی سے کوسوں دور تھے ان کی منزل توپاکستان کوترقی پہ ڈالناتھاان کی چاہت ملک کی سلامتی تھی ان کانغمہ تو”زندگی شمع کی صورت ہوخدایامیری”تھاوہ توروشنی پھیلانے والے تھے وہ اسلام کی محبت میں لبریز تھے وہ توقائد اعظم کے ملک کوبچانے والے تھے وہ توتاریخ پاکستان کے خاکے میں اپنے مستقبل کودیکھ رہے تھے وہ توعلامہ اقبال کی سوچ پہ عمل کرنے کی کوشش کر رہے تھے وہ توعلامہ شبیر احمد عثمانی کے ہاتھوں میں ہاتھ دے کر پرچمِ پاکستان کوبلند کر رہے تھے وہ توپاکستا ن کے دشمنوں کواپنااوراسلام کادشمن سمجھ رہے تھے اسی سوچ کومٹانے کے درپے وہ لو گ تھے جنہوں نے ان معصوم کلیوں کومسل ڈالا، ان بچوں کوصرف ایک ہی قصور تھاکہ انہوں قلم کوکیوں تھاماہواہے یہ مستقبل میں پاکستان کے نام کوکیوں روشن کرناچاہتے ہیں یہ
پاک سرزمین شادباد
کشورحسیں شاد باد
کاترانہ کیوں گاتے ہیں یہ اس ملک میں امن کے داعی کیوں بنتے ہیں آخران کی مائیں انہیں کیوں ایسے راستے پہ ڈال رہی ہیں جن سے قوموں کوترقی ملتی ہے
آج بھی ان بچوں کی مائیں کون کے آنسورورہی ہیں اورراہیں تک رہی ہیں کہ کب بیٹادروازے پہ آکے آوازلگائے گاکہ ماں جی آج کادن بہت اچھاگزرالیکن دن اچھاگزرتاتوبیٹاآتابھی ضرورایسا ہونہ سکا۔
انہوں نے اپنے خون سے شمع کوروشن کیااورکہ گئے
چراغِ زندگی ہوگافروزاں ہم نہیں ہونگے
چمن میں آلگیں فصلیں بہاراں ہم نہیں ہونگے

 

جب یہ سانحہ ہواتویقینادرددل رکھنے والے لوگ غمزدہ ہوئے ہونگے کیوں نہیں یہ سانحہ تودلوں کوہلادینے والاتھایہ سانحہ فرعون کے مظالم سے بھی بڑھ کے تھاکیونکہ اس کے ظلم کے بارے میں اللہ پاک نے فرمایا
یذبحون ابناء کم ویستحیون نسائکم کہ وہ تمہارے بیٹوں کومارتاتھااورتمہاری بیٹیوں کوزندہ چھوڑتاتھایہاں کوئی امتیاز نہیں کیاگیابچوں کوکیابچیوں اورعورتوں کوبھی ان ظالموں نے خون کی ندی میں ڈبویاآج فرعونیوت بھی ان کے مظالم پہ پیچھے رہ گئی اوریہ درندہ صفت میں اتنے آگے بڑھ گئے بس کیاکہاجائے۔۔۔۔۔۔میں نے بھی ایک معصوم بچی کے جنازہ میں شرکت کی جواس سانحے میں شکارہوئی اس کی عمر تقریباً6سال تھی خولہ ا لطاف جس نے سکول میں پہلادن گزارناچاہاابھی اس بچی نے الف سے اللہ اورب سے بسم اللہ کاورد بھی شروع نہیں کیاتھاابھی اس نے قلم کوقرطاس پہ چلایابھی نہیں تھاوہ اپنے باباکے ساتھ جانے کے لیے بضد تھی کہ میں نے آرمی سکول میں ہی پڑھناہے لیکن آگے کس کومعلوم کے کیاہونے والاہے بچی کے معصوم سے چہر ے کوآج کے دن دیکھانہیں جاسکتاتھابس آنکھوں نے آنسوئوں کے سوامجھے کچھ نہ دیاحوصلہ آنکھوں نے توڑ دیااوردل بھی جواب دے گیاآخر اس کاکیاقصور تھا۔۔خدایااس معصوم بچی کے صدقے میرے ملک کی باشندوں کی حفاظت فرمامیرے ملک کے دشمنوں نے بچوں کوعورتوں اوربوڑھوں کوبھی معاف نہ کیااب کسے معافی کی راہ مل سکتی ہے ۔جھولوں پہ جھولنے والے ،مائوں کے لاڈلے ،اب نظر نہیں آتے ایساغم دے گئے کہ کہ آخرمجھے کہناپڑا
ہرآنکھ اشکبار ہے ان اُن پھولوں کے لیے

لڑتے تھے کبھی باغ میں جوجھولوں کے لیے
نیند اتنی گہری سوگئے مائوں کے لاڈلے

اب کیسے جگائیں گے ان کوسکولوں کے لیے

جہاں آگ لگتی ہے درد اسی جگہ کوہوتاہے جن مائوں کے یہ لال تھے وہ یقیناہم سے بہت زیادہ غموں میں ڈوبی ہونگی ایسی مائیں بھی ہیں کہ اس دن سے لے کرآج کچھ کھایاپیانہیں روروکرچہرے پہ گھڑے بن چکے ہیں اورظالموں کے لیے ان کے ہاتھ بددعائوں کے لیے اٹھے ہوئے ان کاایک ہی ظالموں سے سوال ہے
میراشہر میری نسل لوٹنے والو!
پتہ ہے کس طرح بیٹاجوان ہوتاہے ؟
قلم نے یہیں تک سہارادیامزیدکچھ لکھنے کے لیے نہیںبڑھ رہااورقرطاس بھی اپنے آنسوئوں کونہیں سمیٹ رہابس یہی دعاہے کہ اے خدایااس ملک کواس کے دشمنوں اوراسلام کے دشمنوں سے صاف فرمااوراسلام اورپاکستان کے پرچم کوہمیشہ سربلندفرما(آمین یارب العالمین بحرمة سیدالانبیاء والمرسلین)

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.