علامہ اقبال ؒ اور نوجوان تحریر:صارم اقبال رائیار دودھ پتھری بڈگام

Allama Iqbal and Young Writer: Sarem Iqbal Rayar Milk Stone Budgam

0 60

بر صغیر میں حکیم الامت حضرت علامہ اقبالؒ شاعر تو تھے ہی مگر یکتائے زمانہ شاعر ہو نے کے ساتھ ہی ساتھ اس نے مسلمانوں کو جو نسخے فراہم کئے

 

جن نسخوں نے مسلمان ہندکو انقلابی قوت عطا کی۔علامہؒ نے لفظوں میں انسانی زندگی کے عروج و بلندی کے رازوں کی جو منظر کشی بیان کیاس کی مثال ملنی آج تک محال ہو گئی۔

 

حضرت علامہؒ نے انسانیت کو عزت کے ساتھ جینے،اپنے حقوق کو محفوظ رکھنے،دین دنیا کو آباد رکھنے،ایمان کی لذت و چاشنی کو حاصل کرنے،

 

ہستی و نیستی، انفرادی شخصیت کی تعمیر کے ساتھ حیات اجتماعی کے بے شمار اسرار و رموذ بیان فرماء کر برصغیر کے مسلمانوں پر احسان کیا۔

 

اقبالؒ نے فلسفہ حیات کو سمجھنے کے لئے تصور خودی اور اس کے مختلف مراحل پیش کئے۔علامہؒ نے ایسے دور میں آنکھیں کھولیں

 

جب مسلمان ہند انگریزوں کی غلامی اور ناکامی سے مایوس ہو گئے تھے۔مسلمان ہند اپنے مقصد حیات بھول گئے تھے اور ان کے ذہنوں میں احساس کمتری کے جذبات حائل ہو گئے تھے۔مسلمان اپنے ماضی کے ان ہوشیار شیروں سے نا واقف ہونے لگے تھے

 

جنہوں نے قیصر و کسرای کے محلات میں لا اللہ کا پرچم گاڈ دیئے تھے۔ جب علامہ اقبالؒ نے قوم کے ان نوجوانوں کی نا امیدی اور زبوں حالی دیکھی تو آپ نے اپنی انقلابی شاعری کے ذریعے بر صغیر میں خاصکر مسلم امہ کے ان نو جوانوں سے مخاطب ہو کر

 

انہیں اپنے دین قوم و ملک کے تعی ذمہ داریوں کا احساس دلایا جس وجہ سے علامہؒ کو شاعر مشرق کے نام سے آج بھی یاد کرتے ہیں۔

 

آپ نے اپنے افکار نظریات میں خود کو قومیت کے لحاظ سے مسلمان ہند کے ساتھ ساتھ عالمگیر انسان کا فرد مان کر قلم اٹھا کر مسلمان ہند خاصکر مسلم امہ کے نوجوانوں کے ذہنوں کو بیدار کر کے مساوات انسانیت کے عظیم مقاصد بیان فرما کر اسلاف شناسی سے جڑے رکھا۔

 

اقبال نے اپنے نظموں میں مسلمان نوجوانوں کو مخاطب کر کے ان کے زندگیوں کو کامیاب ذندگی اور ان کے اندر ولولہ لانے میں اہم رول ادا کیا۔ ذات پات، مرزا،سید،افغانی ہونے مسلمان پر ناز کرتے تھے

 

لیکن ان کے اندر جذبہ حب الوطنی اور ایک سچے مومن اور مسلمان ان کے دین کے تئیں خدمت و ذمہ داریوں کا احساس نہ ہونے کے برابر تھا۔

 

مسلمانوں کی اندرونی حالت کو بھانپ کر علامہؒ نے مسلمان ہند سے مخاطب ہو کر انہیں یہ باور کرایا کہ اگرچہ ہمیں اپنے سید،مرزا افغانی و تورانی پر ناز ہے لیکن ہمیں پہلے ایک سچے مسلمان ہونے کا ثبوت دینا ہے۔

 

مسلمانوں کی پسپاہی کے وجوہات بیان کر کے علامہ نے مادیت پرستی اور مغربی تہذیب کے عنصر ات کے متعلق ایک واضح لایحہ عمل پیش کیا۔

 

 

علامہؒ مادیت پرستی کے خلاف نہ تھے لیکن مغربیت سے بھی دوچار نظر آتے تھے۔علامہ اقبالؒ کے نزدیک مغربی تہذیب اگرچہ زندگی کی آلام و آسایش کو حاصل کرنے میں مگن نظر آتی ہیں

 

 

لیکن ان کا نظریہ انہیں عروج کی جگہ زوال کی طرف گامزن ہو کر پوری انسانیت کے لئے خطرہ بن سکتا ہے۔علامہ اقبال ؒ کے نزدیک افراد و اقوام کی زندگی کی ترقی تین چیزوں پر منحصر رکھی، یقین محکم،عمل پہم اور سوم فاتح عالم۔

 

آپ کے نزدیک انسانوں کے درمیان فرق برتنا قدرت کے طے شدہ اصولوں کے خلاف ہے۔ آج جو مغرب بظاہر انسانیت کی بقاء کے خاطر اپنا بیڑہ اٹھاتے ہوئے

 

باقی ملکوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتا ہے وہ صرف اور صرف انہیں اپنے ذاتی مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے انجام دیتے ہیں۔

 

حالات واقعات ایسے پیدا کئے گئے کہ اغیار نے مسلمانوں کو پسپا کرنے کے لئے ہتھیاروں کی دوڈدھوپ کا سہارا لے کر اپنی معشیت کو مظبوط کرنے میں کامیاب ہو گئی۔

 

جس طرح عصر حاضر میں جوزندگی کے ہر شعبے میں بحران نظر آتا ہے جس کی خاص وجہ ہے یہ ہے کہ مسلمانوں نے اسلام اپنے اسلاف کی روشن ہدایت سے دوری اختیار کی ہے۔اپنے مذہب اور اسلام کے نیک خصائل رکھنے

 

 

عظیم ہستیوں کے پاکیزہ اصولوں کو نظر انداز کر کے انسانیت کے اعلی اخلاقی اقدار کی دولت کھو بیٹھے۔

 

 

جس وجہ سے جب ہم اپنے ارد گرد نظر دوڑاتے ہیں تو ہمیں بد عنوانی کی تاریکی ہی تاریکی نظر آتی ہیں۔ وقت کی اہم پکار ہیکہ ہم علامہ اقبالؒ کی صدایں عصر حاضر میں عام کریں تا کہ امت کو اغیار کی غلامی سے نجات ملے۔

 

 

اگرچہ بظاہر ہمارے ہاتھوں می اور پاوئں میں زنجریں نظر نہیں آ رہی ہیں لیکن اغیار کے قوموں نے ہمارے ذہن پر اپنا غلبہ اور طاقت مسلط کیا جس سے ہمیں وہ بظاہر وہ ہمارے دوست نظر آ رہیے ہیں لیکن وہ اندر سے ہمیں وہ کھوکھلا کرنے میں لگی ہوئی ہیں۔

 

 

ہمارے اکثرنوجوان اپنے مقام عظمت سے نا واقف ہو کر انسانیت کے لئے بہت کچھ ہونے کے باوجود بھی کچھ نہیں کر سکتے ہیں۔

 

 

جس قوم کے نوجوان اپنے مقام و عظمت و اپنے اسلاف شناسی سے نا واقفیت رکھتے ہوان کی مثال اس موٹے پاگل ہاتھی کی طرح ہے جو جسم توانا رکھنے کے باوجود

بھی فائدے کے بجائے نقصان پہنچاتا ہے۔

 

 

اگرچہ نوجوانوں کے چہرے پر چمک دمک قائم دیکھتا ہے لیکن ان کے دلوں میں وہ دنیا کی لذت پرستی میں زنگ آلودہ ہے

 

جو انہیں قران پاک کی حرارت اور نگاہ سوز سے دور رکھے ہوئے ہیں۔ نوجوان قوم کے معمار ہوتے ہیں

 

ان کے ہاتھوں میں قوم کا مستقبل ہوتا ہے۔علامہؒ چاہتے ہیں کہ اگر قوم کا مستقبل ان جوانوں کے ہاتھ لگا جو دشمن سے ڈر و خوف میں مبتلا ہو گئے

 

تو قوم کا ہر فرد غلامی کی زنجیر میں ہمیشہ پھیرتا رہیے گا۔ ان جیسے نوجوان کو علامہؒ یاد دلاتے ہوئے فرماتے ہیں کہ۔

 

کبھی اے نوجوان مسلم تدبر بھی کیا تو نے۔ وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا تجھے اس قوم نے پالا اپنی آغوش محبت میں۔ کچل ڈالاتھا جس نے پاوئں میں تاج سر دارا۔

 

 

آپ چاہتے ہیں کہ نوجوان اپنے اندر اسلاف شناسی کا مادہ پیدا کریں جس کے ذریعے ان کے اندر اسلام دشمنوں کا خوف،مایوسی،وسوسہ دور ہو سکے

 

۔اسلام کے ان جانثاروں کو پہنچانے جنہوں نے کسر و قیصر کی ظلمت طاریک کوٹھیروں سے لے کر یورپ کے تپتے صحراوں تک علم و دین کی شمع کو روشن کیا۔

 

جب ہم اپنے اسلاف کے بتائے ہوئے روشن خیلات،افکار نظریات کو اپنا مشعل راہ بنانے کی سعی کریں توہمارا معاشرہ ایک مثالی معاشرہ بن کر پھولے اور پھلے گا۔

 

 

یہ کام صرف اور صرف ہمارے نوجوانوں کے ہاتھوں میں ہے کہ وہ ملک و قوم کی حالت کو سدھارنے میں سائنسی علوم جدید تقاضوں کے مطابق حاصل کرنے کی سعی کریں۔

 

انسان کی تخلیق اگرچہ خالق نے بظاہر ایک ہیچ قطرے سے شروع کی لیکن اس کے اندر قدرت نے اپنے بہترین سانچے میں ڈھال کر ایجادت کی ان گنت صلاحتیوں و خوبیوں سے نوزا۔

 

علامہ اقبالؒ نے ملت کے ہر فرد کے ساتھ ہی ساتھ نوجوان سے مخاطب ہو کر قوم و ملت کی ترقی کے ساتھ معاشرے کی تعمیر و ترقی پر زور دیا۔

 

چونکہ آدم کو خلیفہ کا کام سونپ کرخالق نے اپنے مخلوق خلیفہ کو اپنے تابع فرمایا تا کہ بندہ اپنے خالق سے جڑ کر اس کی معرفت حاصل کرے۔

 

جوانوں سے مخاطب ہوتے ہوئے انہیں دین و ملت کو بچانے کی کوشش کو اپنا ہدف قرار دینے پر زور دیا۔ نوجوانوں کی درد لئے ہوئے علامہؒ نے اللہ سے دعا کرتے ہوئے فرمایا۔

 

جوانوں کو میری آہ سحر دے پھر ان شاحین بچوں کو بال و پر دے۔
خدایا میری آرزو یہی ہے میرا نور بصیرت عام کر دے۔

 

علامہؒ نے ماضی کی مسلمانوں کے شان و شوکت دور حاضر کی زبوں حالی اور کہیں مسلمانوں کی کسمپرسی کا نقشہ کھینچا ہے۔ آج ہمارے نفس ہم پر غالب آگئے ہیں ناپاک محبتوں کے نشوں میں نوجوان خود کا مقام و مرتبہ فراموش کر چکے ہیں۔

 

محض حسن پرستی اور نفس پرستی کو لے کر ہمارے اکثر نوجوانوں نے اپنے جذبات کو دنیوی محبوبوں کی محبتوں کے دلدل میں گرفتار کر کے خالق حقیقی سے دوری اختیار کی ہے۔مغربی تہذیب کے اداوئں پر فخر کرنے والا نوجوان ان کی اخلاقی اقدار اور نسل پرستی کے حوالے سے دم توڑ چکی ہیں۔

 

شاید ہمارا نوجوان یہ جان کر بھی انجان ہوتا جا رہا ہے کہ مغربی دنیا میں جو کچھ ہوتا جا رہا ہے وہ صرف شرمناک ہی نہیں بلکہ انسانیت کی گراوٹ کی بد ترین مثالوں میں سے ہیں۔

 

علامہ چاہتے ہیں کہ ہم مغرب کی تقلید کے بجائے خودی کے راستے کا انتخاب عمل میں لاکرباطل کے مکرو فریب کی قوت کو قرارہ جواب دیں۔

 

فدا کرتا رہا دل کو حسینوں کی اداوئں پر مگر دیکھی نہ اس آینئے میں اپنی ادا تو نے۔

 

علامہ اقبالؒ نے نوجوان کو شاحین کا نام دے کر ان کے اندر شاحین کی خصلتیں پیدا کرنے کی تلقین فرمائی۔

 

علامہ اقبال چاہتے تھے کہ مسلمان نوجوان دنیا پرستی کو اتنا ہی زور دیں جتنی وہ انہیں وہ اپنے دین اور قوم کو غافل نہ بنا سکیں۔

 

مادیت پرستی میں محو ہونا انسان کو اپنے قوم،دین و ملت کے تعمیر ترقی میں روکوٹ بنا دیتی ہیں۔ وہ چاہتے تھے

 

کہ نوجوان اپنے اندر شاحین وصف پیدا کر کے لا ہوتی پرواز حاصل کر کے اپنی اڑان خدا کی رضا اور ایمان کی چاشنی حاصل کر نے کے لئے بلند سے بلند تر ہو۔عصر حاضر میں اگر نوجوان علامہ اقبالؒ کو اپنا مشعل راہ بنا دیں

 

تو یہ بات محال نہیں کہ ہمارے نوجوان چاند ستاروں،پہاڈ و دریا سے بھی ذیادہ بلندی و گہرائی اورعقاب جیسی پرواز اور خوداری حاصل کر سکتے ہیں۔علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں

 

کہ انسان ایک ایسی واحد مخلوق ہے جس کو قدرت نے اپنے بیش بہا صلاحتیوں سے مالا مال کیا ہے۔ بشرطیکہ وہ ان صلاحیتوں کو کسی مرد کامل کے نگاہوں سے سرشار کرے۔

 

ان کے بعقول جب انسان کسی مرد کامل کے ذریعے خودشناسی کے زیور سے آراستہ ہو جاتا ہے اور وہ اپنے اندر ودیعت کردہ ملکوتی صفات سے روشناس ہو کر ر وحانی پاکیزگی کے ساتھ خدا تک رسائی حاصل کر کے ان کے اندر کی بینائی سے روشناس ہو جاتا ہے۔یہ برتری صرف سانس کھنچنے والے انسان کو حاصل ہو گئی

 

کہ وہ قدرت کے بے شمار پوشیدہ رازوں سے خالق حقیقی کی معرفت کو گریہ نیم شب،عمیق غور فکر سے حاصل کرے۔

 

علامہؒفرماتے ہیں خالق نے آدم کو ظاہر و باطن کی منصب خلافت و قیادت کے لئے پیدا فرمایا اور اس کے اندر اطاعت فرمانبرداری،ہمدردی،اعتدال و انصاف،حب الوطنی جیسے جذبے سے سرفراز کیا تا کہ انسانوں کے بیچ باہمی ربط قاہم رہیے۔

 

تو اے اسیر مکاں، لا مکاں سے دور نہیں وہ جلوہ گاں تیرے خاکداں سے دور نہیں۔

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.