ارتغرل کے بعد جلال الدین خوارزم شاہ پر ڈرامہ بنانے کا اعلان

مشہور ترکی ڈرامے کے پروڈیوسر نے ایک اور ترک بادشاہ کو فلمانے کا عندیہ دے دیا

0 3

اگر مسلم اُمہ کے ماضی پر نظر دوڑائی جائے تو ایک کے بعد ایک شہنشاہ ایسا دکھائی دے گا کہ جس نے روئے زمین پر اپنی دھاک بٹھا رکھی تھی۔

 

لگ بھگ آدھی دنیا پر مسلمان حکمرانوں نے حکومت کی اور ہر طرف ان کا طوطی بولتا تھا۔مسلمان بادشاہوں کی شان و شوکت اور جاہ و حشمت کے قصے غیر مسلم مصنفین نے بھی اپنی کتابوں میں درج کر رکھے ہیں۔

 

گزشتہ دنوں ترکی کے مشہور ڈرامہ ارتغرل نے ہر طرف اپنی دھاک بٹھائی اور بھولے بیٹھے مسلمانوں کو اپنی عظمت و شان کے قصے سنائے اور ایک ایسی اسلامی ریاست کااحوال بیان کیا کہ جس کے جاہ و جلال کی مثالیں دی جاتی ہیں۔

 

ارتغرل ڈرامہ کمرشل کامیابی کے جھنڈے گاڑ گیا۔لہٰذا اب اس ڈرامے کے پروڈیوسر نے جلال الدین خوارزم شاہ کی زندگی پر ڈرامہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔

 

ان کا کہنا تھا کہ خوارزم شاہی سلطنت بھی تاریخ کی بڑی مشہور سلطنت رہی ہے جس نے منگولوں کے ساتھ اس وقت ٹکر لی جب پوری دنیا ان کی دہشت سے لرز رہی تھی۔خوارزم شاہ سلطنت ترکی، ایران اور افغانستان کے کچھ حصے پر مشتمل تھی۔

 

 

 

 

چنگیز خان نے جلال الدین کے والد کو شکست دی تھی اور یہ جلاوطن ہو کر ہندوستان آ گیا تھا۔یہاں تخت لاہور پر قابض ہونے کے بعد اُچ شریف پر قبضہ کرتے ہوئے

 

وادی سندھ کا بھی حکمران بن گیااور بعدازاں ایران کو بھی اپنی سلطنت میں شامل کرنے کے بعد ایک بڑی فوج تیار کر کے منگولوں کو للکارااور اِس نے ان کے قبضے سے مملکت ترکی واپس لے کر اپنے والد کے تخت پر جانشیں ہوا۔

 

پرڈیوسر کی طرف سے ایک اور تاریخی ڈرامے بنائے جانے کا اعلان سن کا شائقین کی دلچسپی بڑھ چکی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ہمیں خوشی ہے کہ ایک بار پھر اپنے اسلامی حکمرانوں میں سے ایک اور شخص کی زندگی کی کہانی سننے اور دیکھنے کو ملے گی۔

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.