پاک بھارت تعلقات میں تنازعہ کشمیر! شاہد ندیم احمد

citytv.pk

 

بھارت اور پا کستان کے درمیان کشمیر درینہ مسئلہ ہے، بھارت نے مقبوضہ کشمیر پر ناجائز قبضہ کررکھا ہے،اس بھارتی اقدام کی بنیاد پر ہی پاکستان اور بھارت کے مابین کشیدگی کا ماحول ہے،پا کستان خطے میں قیام امن کیلئے کشمیر کا تنازع حل کرنا چاہتا ہے،مگر بھارت نے حالات سازگار بنانے کے بجائے کشیدگی بڑھانے والے اقدامات پر زور دیا ہے، بھارت کو پا کستان کا استحکام ایک آنکھ نہیں بہاتا ہے،اس لیے پاکستان کی سلامتی تاراج کرنے کی سازشوں میں مگن رہتاہے،

اس نے ایٹمی ٹیکنالوجی حاصل کی تو پاکستان کو بھی اپنی سلامتی کیلئے ایٹم بم بنانے پڑا، اس ایٹمی صلاحیت کے باعث ہی بھارت اب تک پاکستان پر باقاعدہ جنگ مسلط کرنے کی جرأت نہیں کرسکا ہے، مگر اس کے توسیع پسندانہ عزائم اس سے کچھ بھی کرا سکتے ہیں، اگر بھارتی شرانگیزیوں سے دونوں ممالک میں جنگ کی نوبت آئی تو علاقائی اور عالمی تباہی پر ہی منتج ہو گی، کیونکہ یہ روایتی کے بجائے ایٹمی جنگ ہو گی۔

پاکستان اور بھارت کی دشمنی کی بنیاد کتنی گہری ہے اور اس دشمنی کا خاتمہ کیسے کیا جا سکتا ہے، وزیراعظم عمران خان نے دنیا عالم کوواضح طور پر بتا دیاہے کہ مسئلہ کشمیر حل کردیا جائے تو پاکستان کا بھارت سے کوئی جھگڑا نہیں ہے،یعنی کشمیر کا تنازع حل ہو جائے تو پاکستان اور بھارت اپنے بجٹ کا بڑا حصہ دفاعی تیاریوں پر خرچ کرنے کے بجائے اپنے شہریوں کی بنیادی ضروریات پوری کرنے پر خرچ کر سکیں گے،اس سے پیداواری عمل تیز ہوگا، خطے میں امن قائم ہوگا،سرمایہ کاری بڑھے گی اور ریاست کا خزانہ بھرے گا، تاہم اس کے لیے لازم ہے کہ تنازع کشمیر کے حل کے لیے صرف پاکستان سے تقاضا نہ کیا جائے، بلکہ بھارت پر زور دیا جائے کہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے روبرو کئے گئے اپنے وعدے پورے کرے،مگر بھارت کشمیریوں کو حق رائے دہی دینے کی بجائے اظہارے رائے بھی چھین رہا ہے۔
اس وقت مقبوضہ کشمیر کی حالت یہ ہے کہ سوا دو سال ہو گئے،

بھارتی سکیورٹی فورسز نے مقبوضہ وادی کے چپے چپے پر فوج تعینات کر رکھی ہے، بھارت نے سکیورٹی کونسل سے وعدوں کی تکمیل کیا کرنا تھی، الٹا شیخ عبداللہ اور مہاراجہ ہری سنگھ سے کئے گئے ان وعدوں کو بھی فراموش کردیا ہے کہ جن کو الحاق کی دستاویز اور بعدازاں بھارتی آئین میں 35 اے اور شق 70 3کی صورت میں سمویا گیاتھا۔ بھارت نے طاقت کے زور پر کشمیری باشندوں کو دبا رکھا ہے، کشمیری باشندوں نے ہر موقع پر کھل کر بتایا کہ وہ بھارت کے ساتھ رہنے پر آمادہ نہیں، کشمیری باشندے مرنے پر بھی پاکستانی پرچم کو اپنا کفن بنانے کی وصیت کرتے ہیں،اس لیے بھارت جتنا مرضی مقبوضہ کشمیر پر اپنا تسلط برقرارکھنے کی کوشش کرے،کا میاب نہیں ہو سکے گا۔

در حقیقت پاکستان اور کشمیری باشندے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں،بھارت کے لیے ممکن نہیں ہے کہ دونوں کو الگ کرسکے،یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو جب کبھی بین الاقوامی فورمز پر بات کرنے کا موقع ملتا ہے، وہ کشمیر کے تنازع پر اپنا موقف ضرور پیش کرتا ہے،وزیراعظم عمران خان ہر فورمز پر مسئلہ کشمیر اجا گر کررہے ہیں،اُن کی درینہ خواہش ہے کہ مسئلہ کشمیر کو جنگ کی بجائے مزاکرات کے ذریعے حل کیا جائے،لیکن انہوں نے جب کبھی کشمیر کے تنازع کے حل کی خاطر مذاکرات پر رضا مندی ظاہر کی ہے تو بھارتی قیادت نے اپنے قدم پیچھے ہٹا لئے ہیں،بھارت مسئلہ کشمیر پر بات چیت تو درکنار کنٹرول لائن پر کشیدگی برقرار رکھ کر معاملے کو دراندازی اور دہشت گردی سے جوڑ تا رہتاہے۔

بھارتی سر کار کبھی جبرو تشدت اور کبھی سیاسی سازشوں کے ذریعے کشمیر عوام کو دھوکہ دینے سے باز نہیں آرہی ہے،بھارتی سر کار کی جانب سے اب مقبوضہ کشمیر میں ریاستی انتخابات کا اعلان کیاگیا ہے، بھارت کا خیال ہے کہ نئی ریاستی اسمبلی میں اپنے آلہ کار افراد کو کشمیریوں کا منتخب نمائندہ بنا کر بھیجا جائے اور پھر ان نام نہاد نمائندوں سے ایسی قانون سازی کرالی جائے کہ جس سے بھارت کے لیے کشمیر کو ہڑپ کرنا آسان ہو جائے، دوسری طرف بھارت کے وزیر خارجہ امیت

شاہ کشمیریوں کو دھوکا دے رہے ہیں کہ ریاستی انتخابات کے بعد کشمیر کی سابق آئینی حیثیت بحال کردی جائے گی،جبکہ بھارت ایسا کبھی نہیں کرے گا۔
بھارت کی دغلانہ پا لیسوں سے مقبوضہ کشمیر کے عوام بخوبی آگاہی رکھتے ہیں،اس لیے بھارتی وزیر داخلہ کے وعدوں پر عام کشمیری تو در کنار بھارت نواز کشمیری رہنما عمر فاروق عبداللہ اور محبوبہ مفتی بھی یقین کرنے کو آمادہ نہیں ہیں،مسئلہ کشمیر کا حل ریاستی انتخابات سے نہیں،بلکہ کشمیری عوام کو حق رائے دہی دینے سے ہی حل ہو سکے گا،اس کے لیے عالمی قوتوں کو آگے بڑھتے ہوئے مظلوم کشمیریوں کو انصاف دلانا ہو گا،

امریکہ اور سعودی عرب کے پاکستان اور بھارت کے ساتھ خوشگوار تعلقات ہیں، اگریہ دونوں ممالک تنازعہ کشمیر حل کروانے میں مدد کریں تو عشروں سے بھارتی جبر کے شکار کشمیری باشندے آزاد ہو سکتے ہیں،مقبوضہ کشمیر کا تنازع حل ہونے میں سب سے بڑی رکاوٹ بھارت خود ہی رہاہے، اگریہ درینہ تنازع حل ہو جائے تو خطہ ایٹمی جنگ کی تباہ کاریوں سے بھی محفوظ ہو سکتا ہے۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں