غریب کی آمدَن نہیں مہنگائی بڑھے گی! شاہد ندیم احمد

citytv.pk

 

پاکستان میں عوام کا سب سے بڑا مسئلہ مسلسل بڑھتی ہوئی مہنگائی ہے،لیکن یہ کسی بھی طرح حکومت کے قابو میں نہیں آرہی ہے، حیرت کی بات ہے کہ مہنگائی پر قابو پانے میں ایک ایسی جماعت ناکام دکھائی دے رہی ہے کہ جس نے کئی برس تک عوام کو بار بار یقین دلایا ہے کہ ان کی معاشی ٹیم دنوں میں معیشت سدھارنے کی صلاحیت رکھتی ہے،لیکن اقتدار میں تین سال سے زائد عرصہ گزارنے کے بعد بھی مہنگائی میں کمی تو دور کی بات کنٹرول بھی نہیں کیا جاسکاہے، عوام آئے روز بڑھتی مہنگائی کے ہاتھوں پہلے ہی بہت زیادہ پریشانی کا شکار ہیں،اُوپر سے وفاقی وزارت خزانہ نے خبردار کیا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت بڑھنے سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہوگا۔

یہ امر واضح ہے کہ ملک بھر میں آمدن بڑھنے کی بجائے مہنگائی میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے،تاہم حکومتی وزراء نے کبھی بڑھتی مہنگائی کو مانا نہ مارکیٹ کی حقیقت کو تسلیم کیا ہے، بلکہ عوام کو باور کروانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے کہ دنیا کے دوسرے ممالک کی نسبت یہاں بہت کم مہنگائی ہے، حکومت نے تین سال مہنگائی ماننے سے انکاری میں گزاردیئے اور اب چوتھے سال لب پر یہ بات آئی ہے کہ ہمیں عوام کی مشکلات اور مجبوری کا علم ہے، اس لیے اقدامات کررہے ہیں،وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے بھی مہنگائی میں روز افزوں اضافے پر احساس کے اظہار تک محدود رہا ہے اور آج بھی عوام کو یہی یقین دلاتے رہتے ہیں کہ اچھے دن آرہے ہیں، گھبرانے کی بات نہیں، لیکن سیاسی صورتحال اب اقتصادی اور معاشی صورتحال کی مشترکہ ابتری کا اشارہ دے رہی ہے۔

معاشی ماہرین کے مطابق مہنگائی 9 فی صد کے سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہے، لیکن اگر حکومتی اعداد و شمار کو درست مان بھی لیا جائے تو آمدنی میں اضافے کے بجائے 25 سے 30 فی صد تک کمی ہوئی ہے اور یہ کمی آئے روز بڑھتی مہنگائی کے باعث ہے، اس مہنگائی کے باعث صرف ایک سال میں 20 لاکھ سے زائد افراد غربت کی لکیر سے نیچے آگئے ہیں، ملک کی 40 فی صد آبادی کی غذائی ضروریات عدم تحفظ کا شکار ہوگئی ہیں، اگر ورلڈ بینک کے معیارکو بھی سامنے رکھا جائے تو پاکستان کی تقریباً 60 سے 70 فی صد آبادی غربت کی لکیر کے نیچے ہے، حکومتیں غربت کے درست اعداد و شمار بتانے میں خاصی ہیرا پھیری کرتی رہی ہیں، سرکاری ذرائع کے مطابق پاکستان میں غربت کی شرح 17 فی صد بتائی جاتی ہے،جبکہ اس سے کہیں زیادہ ہے۔

ہر دورحکومت میں معاشی ماہرین اعداد و شمار کی جادوگری سے عوام کو الجھا کر اپنے آپ کو معصوم ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں اور وہی کام اب بھی ہورہا ہے،حکومت ایک طرف آئے روز پٹرول،گیس،بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کرتی جارہی ہے تو دوسری جانب ماننے کیلئے بھی تیار نہیں ہے کہ اس کے اثرات عام عوام پر پڑ رہے ہیں،حکومت عوام کو مہنگائی کی چکی میں پیس رہی ہے توبے لگام مہنگائی مافیاغذائی اجناس کی قیمتوں میں بھاری اضافہ کرکے عوام کا خون نچوڑ رہا ہے، حالاں کہ ہمارا ملک ایک زرعی ملک ہے، غریب کا کھانا تو دالیں، آٹا، سبزی، آلو، پیاز، ٹماٹر،انڈے اور مرغی ہے،

یہ ملک بھر میں بکثرت ہونے کے باوجود غریب کی دسترس سے دور کردیا گیا ہے، اس کی سب سے بڑی وجہ حکومت کی بدانتظامی ہے، حکومت مہنگائی پر قابو پانے کے دعوؤں کے باوجودعملی اقدامات سے تو معذور لگتی ہے،لیکن اس کے لیے آئے روز مہنگائی بڑھانا بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔

برسراقتدار طبقہ مہنگائی میں کمی لانے کے عملی اقدامات کی بجائے مہنگائی مزید بڑھنے کی توجہیہ پیش کر نے میں لگا ہے، اگر دنیا کے دیگر ملکوں میں اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے تو یہ عمل اس کا جواز نہیں بن سکتا کہ ہمارے ملک میں قیمتوں میں اضافہ بھی جائز ہے، اس اعتبار سے موجود حکومت کی ناکامی زیادہ تشویش ناک ہے کہ تبدیلی اور انقلاب کا نعرہ لگا کر آئی ہے،مگر عام آدمی کی زندگی میں تبدیلی لانے میں ناکام رہی ہے،حکومت کے ہر ناقد نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ کسی بھی حکومت کے پاس الہ دین کا چراغ نہیں کہ لمحوں میں حالات بہتر ہوجائیں، لیکن موجودہ حکومت کی تین سالہ کارکردگی ایسی رہی ہے کہ جس سے مستقبل کے بارے میں مایوسی گہری ہوتی جارہی ہے،

ملک میں کمر توڑ مہنگائی نے عوام کا جینا عذاب کردیا ہے، ذرائع آمدنی میں اضافے کے اسباب کہیں سے نظر نہیں آرہے،اُلٹا حکومت ی وزراء عوام کو مہنگائی کے عذاب سے نجات دلانے کی بجائے آئندہ مزید اضافے کی پیش گویاں دیے رہے ہیں، اگر تحریک انصاف اپنے دور اقتدار میں مہنگائی پر قابو نہ پاسکی تو اس بات کا بہت کم امکان ہے کہ آئندہ انتخابات میں عوام اس جماعت پر اعتماد کریں گے۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں