ریس میں ڈرائیور نہیں کار فاتح ،بغیر ڈرائیور کار نے رفتار کا نیا ریکارڈ قائم کر دیا

citytv.pk

 

گزشتہ دنوں امریکہ کی انڈیانا پولس موٹر سپیڈ وے پر ایک خودمختار کار نے ایک ریکارڈ قائم کر دیا۔ بغیر ڈرائیور کے یہ کار 218کلو میٹر فی گھنٹہ (135میل فی گھنٹہ) کی رفتار سے چلی اور اس طرح خود مختار گاڑیاں (Autonomous Vehicles) یقینی طور پر ایک نئے دور میں داخل ہو گئی ہیں۔ کاروں کی اس ریس میں ڈرائیور نہیں بلکہ وہ کار فاتح ٹھہری جو مذکورہ بالا رفتار سے چلی اور خوب چلی۔

رفتار کا نیا ریکارڈ قائم کرنے پر ٹیکنیکل یونیورسٹی اور میونخ کی ایک ٹیم نے 10لاکھ ڈالر کا انعام جیت لیا۔” یورو ریسنگ‘‘ ایک اور یورپین ٹیم تھی، جو اپنے ایک طالب علم انجینئر کی کوڈننگ غلطی کا شکار ہو گئی۔ حالانکہ یہ 223کلو میٹر فی گھنٹہ 139میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چلی۔ یورو ریسنگ ٹیم کے ہیڈ اور اٹلی کی یونیورسٹی آف موڈینا اور ریگوامیلیاکے پروفیسر مارکو برٹوگنانے اس اس موقع کہا تھا کہ ان کی زبان کا ذائقہ تلخ ہو گیا تھا جب یہ سب ہوا۔ تیسری یورپی ٹیم فتح کے قریب تھی لیکن بد قسمتی سے اس ریس کے دوران جی پی ایس ٹریکرز بند ہو گئے جس سے ان کی کار مکمل طور پر اندھی ہو گئی ۔

 

اس کا انکشاف پولی ٹیکنیک یونیورسٹی آف میلان کے پروفیسر اور ٹیم مینیجر سرگیو میتیو ساورسی نے کیا۔ ہر” خود مختار ‘ ‘کار سینسرز، کیمروں اور ریڈار کی مرہون منت ہے۔ اس کار کا بھروسہ انہی مشینوں پر ہوتا ہے۔ لیکن اہم ترین جی پی ایس ہے جو کے بغیر کنٹرول میں رہنے والی حرکت (Controlled Motion)ممکن نہیں۔
ہر ٹیم نے ڈیلارا آئی ایل ایل 15استعمال کی۔ یہ فارمولا ون کار سے ملتی جلتی ہے اور اس کی قیمت دو لاکھ 30ہزار ڈالر ہے۔ کاروں کے اس مقابلے کے منتظم کا کہنا ہے کہ اگر ٹیکنالوجی کے حوالے سے دیکھا جائے تو اس کار کی قیمت دس لاکھ ڈالر سے زیادہ ہونی چاہیے۔

 

گاڑیوں کے اندر جو ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے وہ دراصل سینسرز ہیں۔ ٹی یو ایم ٹیم کی اوسط رفتار 218کلو میٹر فی گھنٹہ رہی جو کہ ڈرائیوروں کی رفتار سے زیادہ دور نہیں‘‘۔ ریس والے روز انڈیانا کا موسم ٹھنڈا اورنم آلود تھا۔فاتح کار کی ٹیم کے رکن وچ نیوسکی کا کہنا تھا ”ہم نے جس چیز کا مظاہرہ کیا ہمیں اس پر فخر ہے‘‘۔ کسی کے علم میں نہیں تھا کہ یہ ”خود مختار‘‘ کاریں مقابلے میں اتنی رفتار سے چل سکتی ہیں۔

دو سال سے مقابلے میں حصہ لینے کیلئے 9کالج کے طلبا کی ٹیمیں یہ سوچ کر تیاری کر رہی تھیں کہ تمام کاریں ساتھ ساتھ دوڑیں گی لیکن منتظمین نے آخری وقت میں فیصلہ کیا کہ ٹائم ٹرائل مقابلہ ہو گا۔

اب یہ باتیں ہو رہی ہیں کہ ”خود مختار‘‘ کاروں کی ریس کا مناسب اہتمام کیا جائے اور اس کے لیے اگلے برس جنوری کے آغاز کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ لیکن دوبارہ مقابلہ ہو گا یا نہیں، ابھی اس بات کی تصدیق نہیں کی گئی۔ ”خود مختار‘‘ گاڑیوں کی صنعت انڈیانا پولس ریس کا بخوبی جائزہ لے رہی ہے اور اس مقصد کیلئے یہ صنعت 120ملین ڈالر تک اپنے حصے کے طور پر ڈال سکتی ہے۔

 

حال ہی میں جو کار ریس ہوئی، اس سے مٹھی بھر لوگوں نے لطف اٹھایا۔ جنہیں منتظمین نے کم تعداد قرار دیتے ہوئے مایوس کن قرار دیا۔
59سالہ پٹی ایرونز نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ 50برسوں سے زیادہ موٹر سپیڈ وے پر آ رہی ہے لیکن ”خود مختار‘‘ کاروں کی ریس دیکھ کر اس پر سحر طاری ہو گیا۔ ”میرا خون تیزی سے گردش کرنے لگا، مجھے یہ ریس بہت پسند آئی‘‘۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں