حکائیت ِ سعدیؒ، بادشاہ کی خوبی

citytv.pk

 

ایک شہنشاہ شکار کھیلتا ہو اس مرغرازمیں پہنچ گیا جہاں اس کے گھوڑے چرا کرتے تھے۔بادشاہ کا لشکر پیچھے رہ گیا تھا اور بادشاہ تنہا بہت آگے نکل گیاتھا۔گلہ بان نے شہنشاہ کو دیکھا تو وہ پیشوائی کے لئے اس کی طرف بڑھا۔

دوسری طرف بادشاہ نے خیال کیا کہ یہ کوئی دشمن ہے جو مجھے تنہا پا کر بری نیت سے میری طرف بڑھ رہا ہے۔ اس نے فوراً کندھے سے کمان اتار لی اور گلہ بان کا نشانہ لے کر تیر چلانے کا ارادہ کیا۔

گلہ بان نے یہ دیکھا تو خوفزدہ ہو کرچیخا، ”حضور مجھے پہچانئے! میں دشمن نہیں، حضور کے گھوڑوں کی نگرانی کرنے والا گلہ بان ہوں‘‘۔ بادشاہ نے اس کی یہ بات سن کر ہاتھ روک لیا اور کہا کہ ”تیری قسمت اچھی تھی جو بچ گیا ورنہ میں نے کمان کا چلہ چڑھا لیا تھا۔ ایک ساعت اور خاموش رہتا تو تیری ہلاکت یقینی تھی‘‘۔

گلہ بان نے کہا، حضور والا! ”یہ بہت تعجب کی بات ہے کہ حضور اپنے اس خادم کو نہ پہچان سکے جو کئی بار سلام کے لئے خدمت میں حاضر ہو چکا ہے۔ میں ایک معمولی چرواہا ہوں لیکن اپنے گلے کے ایک ایک گھوڑے کو پہچانتا ہوں۔ حضور والا! جس گھوڑے کو طلب فرمائیں ہزاروں گھوڑوں میں سے اسے نکال لاؤں گا۔ اے شہنشاہ عالی وقار! یہ ہر گز مناسب نہیں ہے کہ حضور اپنی رعایا سے اس طرح غافل ہوں کہ دوست اور دشمن میں تمیز نہ کر سکیں‘‘۔

حکمرانوں کے لئے لازم ہے کہ وہ رعایا کے تمام افراد کو اچھی طرح جانتے اور سمجھتے ہوں۔ حکمران کو چاہئے کہ وہ اپنا چھپرکھٹ آسمان پر نہ بچھائے۔ زمین پر اتر کر مظلوموں کے دکھ درد کا حال جانے۔ ہر فریادی کی فریاد اس کے کانوں تک پہنچے۔ اے شہنشاہ!اگر کوئی ظالم کسی پر ظلم کر رہا ہے تو وہ دراصل تیرا ظالم ہے۔

حضرت سعدی ؒ نے اس حکایت میں اپنے خاص رنگ میں حکمرانوں کو ان کے اس فرض کی طرف توجہ دلائی ہے کہ ان کے اور عوام کے مابین گہرا رابطہ ہونا چاہئے۔ جو حکمران عوام کے دکھ درد میں دل سوزی کے ساتھ شامل نہ ہو گا۔ اس کا اقتدار ناپائیدار ہوگا۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں