افسانچہ کیا ہے؟ پرویز بلگرامی

citytv.pk

یہ ایک ایسا سوال ہے جو ہر کچھ دن بعد اٹھتا ہے اور اساتذہ جواب بھی دیتے رہےہیں۔اس بات سے تقریبا ہر افسانچے کا شوقین خواہ وہ قاری ہو یا لکھاری ،واقف ہے۔۔اس بات سے آپ بھی واقف ہوں گے کہ چھوٹے افسانوں کا پہلا مجموعہ “افسانچہ”جو سامنے آیا وہ برج موہن دتریہ کیفی کا تھا۔وہ 1944 میں شائع ہونے والی اس تصنیف کے پیش لفظ میں لکھتے ہیں”افسانچہ لکھنا افسانہ لکھنے سے زیادہ مشکل اور دقعت طلب ہے۔جیسے تمام اصناف شعری میں رباعی لکھنا مشکل ہے۔

” حالانکہ دتریہ کیفی نے جو افسانچے لکھے وہ طوالت کا شکار رہے۔ مگر مکتبہ ادب دہلی سے 1948 میں قدوس صہبائی کا “نئے خاکے” میں جو افسانچے شامل تھے ان میں جدت تھی اور اختصار تھا۔پھر جب 1948 میں ہی سعادت حسن منٹو کا “سیاہ حاشئے”آیا تو وہ اختصار کے ساتھ جدت و چبھن میں بہت آگے نظر آیا۔اور تب ناقدین نے کہا ” افسانچہ مختصر ہوتے ہوئے بھی جلتی ہوئی سلاخ جیسا ہو جوپڑھنے والے کے ذہن کو دغتا ہوا محسوس ہووہی بہتر افسانچہ ہوگا۔” منٹو کے افسانچے کو رول ماڈل مان کر بہت لوگوں نے اپنا ہنر آزمانا شروع کر دیا۔

لیکن افسوس بہت کم لوگوں نےافسانچہ کی جانب توجہ دی۔اس لیے کہ اسے کوئی پلیٹ فارم نہیں مل رہا تھا۔نہ کوئی اخبار اور نہ کوئی جریدہ اس پر دست شفقت رکھنے پر آمادہ تھا یہی وجہ تھی کہ سینئر افسانہ نگاروں نے افسانچے نہیں لکھے اور فکشن کے ناقدین نے بھی اس سمت کوئی خاص توجہ نہیں کی اور نہ ہی بحیثیت صنف اسے اہمیت دی گئی۔

البتہ ۱۹۸۰ء کے بعد کچھ لکھنے والوں کے نام ضرور ملتے ہیں جن میں ڈی ایچ شاہ، طاہر نقوی، علی حیدر ملک، احمد داؤد، ظفر خان بہاری، افتخار ایلی، علی تنہا،سرور غزالی(سرور ظہیر) اور عباس خاں وغیرہ شامل ہیں۔ مگر سیاہ حاشئے کے بعد جو مجموعہ سامنے آتا ہے وہ ڈی ایچ شاہ کے منی افسانوں کا مجموعہ ’’حرفوں کے ناسور‘‘ ہے۔ان کے بعد عباس خان،سرور غزالی،اخلاق گیلانی،ابن عاصی کا نام لیا جاسکتا ہے۔اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اردو ادب کو جو ترقی وطن عزیز میں ملی وہ اپنی جگہ لیکن جب بات افسانچے پر آتی ہے تو صاف نظر آتا ہے کہ افسانچے کا گلا گھونٹا گیا۔

ادب کے بہت سارے پرچے تھے لیکن افسوس ان سب میں افسانچے کے لیے ایک صفحہ تک نہ تھا۔اگر کوئی افسانچہ نگار بھولے بھٹکے افسانچہ بھیج دیتا تو یہ کہہ کر واپس کر دیا جاتا کہ اسے کھینچ تان کر بڑا کریں۔ایسے کئی سینئر افسانچہ نگار ہیں جنہوں نے قبول کیا کہ ہم نے جب بھی کسی ادبی پرچے میں افسانچہ بھیجا ،واپس کر دیا گیا۔ اس کے بر عکس انڈیا میں افسانچہ نگاری پر خصوصی توجہ دی گئی۔

نہ صرف ادبی پرچے بلکہ فلمی پرچے بھی افسانچے کو اہمیت دیتے۔بیسویں صدی ہو یا شمع دہلی،ان میں افسانچے کے لیے صفحات مخصوص ہوتے۔یہی وجہ ہے کہ وہاں افسانچہ نگاری کا رجحان بڑھا۔بڑی تعداد میں افسانچہ نگار سامنے آئے۔خوشی کی بات یہ ہے کہ بڑی تعداد میں لوگوں نے فن افسانچہ نگاری پر پی ایچ ڈی کی۔انٹر نیٹ پر میں اب تک سات یا آٹھ تھیسس پڑھ چکا ہوں جب کہ ہمارے یہاں صرف دو نام سامنے آتے ہیں۔

ایک جناب ابن عاصی اور دوسرا علی رضا قاضی۔جنہوں نے مختصر کہانیوں یعنی فلش فکشن/افسانچہ پر ایم فل کیا۔مختصر کہانیوں کا جب ذکر ہوگا تو دو نام ضرور زیر بحث آئیں گے۔ایک مبشر علی زیدی جنہوں نے سو لفظی کہانیوں کو وطن عزیز میں مقبول کیا اور دوسرا جناب تحسین گیلانی جنہوں نے فلش فکشن کی مقبولیت کو اوج پر پہنچایا۔گو کہ یہ دونوں صنف انگریزی ادب سے مستعار ہیں لیکن افسانچے سے قریب ہیں۔افسانچہ خاص پاکستانی صنف سخن ہے۔منٹو نے لاہور سے اسے پھیلایا۔

اس لیے ہم اپنی صنف سخن کہہ سکتے ہیں۔اس کے قواعد وہی ہیں جو افسانے کے ہیں۔یعنی کہ ایک انتہائی مختصر افسانہ۔افسانچے میں کہانیت ہو۔اختتام ہو۔اچھا افسانچہ پنچ لائین بھی مانگتا ہے۔اتنا کچھ میں نے اس لیے لکھا کہ کچھ لوگ دانستہ افسانچے کے قواعد کو مجروح کر رہے ہیں۔پتا نہیں کیا کیا لکھ کر اسے افسانچہ کہنے لگے ہیں۔۔۔عرصہ قبل ایک معروف ہفت روزہ جریدہ افسانچے کے نام پر لطیفے چھاپتا تھا اسی طرح ڈھائی ڈھائی تین تین صفحے کا افسانچہ لکھا جا رہا ہے۔

کچھ میں تو ڈرامے کی طرح مکالمے سے پہلے کردار کا نام آتا ہے اس انداز میں بھی افسانچہ لکھا جا رہا (ان کے بقول وہ افسانچہ ہے)۔ایسے تمام دوستوں سے التماس ہے کہ خدا را افسانچے کے قواعد سے نہ کھیلیں۔افسانچہ کو افسانچہ رہنے دیں۔اسے لطیفہ نہ بنائیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں