یہ کشکول کب ٹوٹے گا؟ تحریر: شاہد ندیم احمد

citytv.pk

قرض ملک کی معیشت ہی نہیں،خود مختاری کو بھی متاثر کرتا ہے،اس کے باوجود ہر آنے والی حکومت قر ض نہ لینے کے دعوؤں کے ساتھ قرض لیتی نظر آتی ہے،اس کے نتیجے میں پاکستان پر قرضوں کا بوجھ اتنابڑھتا چلا جا رہا ہے کہ حکومت کو سمجھ ہی نہیں آرہی کہ کیا کرے اور عوام کو پتا نہیں چل رہاکہ کہاں جائے،موجودہ حکومت نے قرض کے مسائل اور ان کے حل کے سلسلے میں ایک کمیٹی بنائی تھی، اس کمیٹی نے جوحل پیش کیے، ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ اب دوبارہ کشکول نہ پھیلایا جائے، خاص طور پر قرض کے حصول کے سلسلے میں آئی ایم ایف سے رجوع نہ کیا جائے، حکومت کی طرف سے یہ دعویٰ کیا جاتا رہا کہ اب کشکول توڑ دیا گیا ہے،حکومت کسی عالمی ادارے سے قر ض نہیں لے گی، لیکن اس اعلان کے کچھ عرصے کے بعد ہی حکومت ایک بار نہیں یک بعد دیگر ے آئی ایم ایف سرکار کے دروازے پر کشکول لیے کھڑی نظر آتی ہے۔

یہ امر واضح ہے کہ تحریک انصاف کو اقتدار میں آنے کے بعد احساس ہوا کہ ملک کی معاشی حالت ان کی توقعات سے کہیں زیادہ خراب ہے، تاہم موجودہ حکومت نے بہت کوشش کی کہ مزید قر ض نہ لینا پڑ ے،لیکن پچھلے قرضوں کی ادائیگی کے لیے نئے قرضے لینا ضروی ہو گئے تھے،حکومت کو باعث مجبوری آئی ایم ایف کا دروازہ بار بارکھٹکھٹا نا پڑرہا ہے، وزارت خزانہ کی سینٹ میں پیش کردہ رپورٹ کے مطابق تین سال میں قرضوں کے حجم میں 14 ہزار 906 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے، پاکستان پر مجموعی طور پر 41 ہزار ارب قرض ہے،جبکہ سود کی مد میں 7 ہزار 460 ارب روپے ادا کئے جارہے ہیں۔

اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ موجودہ حکومت نے اپنے تین سالہ دور اقتدار میں 22 ارب ڈالر سے زیادہ کا بیرونی قرضہ واپس کیا ہے،جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن)کے پہلے ڈھائی سالہ دور حکومت میں بیرونی قرض کی واپسی کی مالیت 9.953 ارب ڈالر تھی،پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنی حکومت کے پہلے ڈھائی برس میں 6.454 ارب ڈالر کا بیرونی قرض واپس کیا تھا، اگر موجودہ نامکمل اعداد و شمار کے لحاظ سے دیکھا جائے تو یقینی طور پر یہ سب سے زیادہ ادا کیا جانے والا قرضہ ہے، لیکن اسے معیشت کے حجم کے تناظر میں بھی دیکھنا ہوگا،کیونکہ معیشت کا سائز بڑھا ہے تو اس لحاظ سے قرض بھی زیادہ لیا گیا ہے اور اسی حساب سے اس کی واپسی بھی زیادہ ہوئی ہے،لیکن کسی بھی دور حکومت میں قرض سے ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کے موثر اقدامات نہیں کیے جاسکے ہیں۔

عمومی طور پر پاکستان کی سابق حکومتوں نے خام مال پیدا کرنے‘ عالمی مارکیٹ میں مسابقت کو مدنظر رکھ کر مصنوعات سازی‘ سروسز اور آئی ٹی ایکسپورٹ جیسے منصوبوں پر سرمایہ کاری نہیں کی ہے،روایتی کارخانے اور قدیم طریقوں سے ہونے والی زراعت افرادی قوت کو روزگار دے سکی نہ معیشت مستحکم کر سکی ہے،حالانکہ عمومی طور پر مالیاتی ماہرین قرضوں کے شکنجے سے نکلنے کے لیے مسلسل تجاویز دیتے آرہے ہیں کہ ملکی معیشت کو اس قدر ترقی دی جائے کہ ملک قرضوں کو ادا ئیگی ہو سکے یا پھر قرضوں کی ادائیگی کی مہلت اور قسط کی رقم پر قرض دینے و الوں سے ازسرنو بات کی جائے، اس کے ساتھ ٹیکسوں کی شرح میں اضافہ کرتے ہوئے اخراجات کو کم کیا جائے، ان تمام تجاویز پر عمل کرنے کے مثبت اور منفی اثرات ظاہر ہو سکتے ہیں،لیکن ہاتھ پر ہاتھ دہرے رہنے اور قرض لے کر قرض کی ادائیگی کرتے رہنے سے کبھی مسائل حل ہوں گے نہ ملکی معیشت میں استحکام آئے گا۔

ہر ملک اپنی ضرورت‘ صلاحیت اور ترجیحات کو پیش نظر رکھ کر قرضوں سے نجات کے راستے کا انتخاب کرتا ہے منتخب
کرسکتا ہے،موجودہ حکومت کی جانب سے قرض پر انحصار کم کرنے اور معاشی استحکام پیدا کرنے کے لیے جو پالیسی اختیار کی گئی ہے، اس میں بجٹ میں اخراجات کم کرکے اسے آمدن سے کم رکھنا‘ افراط زر کو کم اور مستحکم رکھنا‘ ایسے اقدامات کو فروغ دینا جو طویل المدتی معاشی بڑھوتری میں مددگار ثابت ہو سکیں اور شرح تبادلہ کو معاشی مبادیات سے ہم آہنگ رکھنا شامل ہے،لیکن جب تک مقرر کردہ اہداف کے حصول کو ممکن بنانے کے اقدامات کو یقینی نہیں بنایا جائے گا،ملک میں معا شی ا ستحکام نہیں آئے گا، گزشتہ دور میں معاشی استحکام کے اہداف مقرر کرکے حصول ممکن بنانے کے محض دعوئے ہی کیے جاتے رہے، آج بھی وہی دعوئے دہرائے جارہے ہیں،لیکن اس کے مثبت نتائج کہیں نظر نہیں آرہے ہیں۔

پاکستان قرضوں کی گرفت میں کیسے آیا اور کن حکومتوں نے قرض کو غیر دانشمندانہ طریقے سے استعمال کیا، یہ بحث ماضی قریب میں تسلسل کے ساتھ ہوتی آرہی ہے، خرابی کی تشخیص میں یہ امر شامل ہے کہ بگاڑ کے ذمہ داروں کے کردار کو سامنے لاکر ان سے قرضوں کے استعمال سے متعلق سوال کیا جائے اور آئندہ کے لیے ایسے ضابطے ترتیب دیئے جائیں کہ جو قرضوں کو انتخابی اور سیاسی فوائد کے لیے استعمال کرنے سے روکیں اور صرف ان منصوبوں پر خرچ کی اجازت دیں کہ جو دولت پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں،ہمیں اپنے معاشی استحکام کیلئے خود انحصاری کی راہ پر چلنا ہو گا،ایک عرصے سے ہاتھوں میں تھاما کشکول توڑ نا ہو گا،یہ کشکول جب تک نہیں ٹوٹے گا،اس وقت تک ملکی معیشت کے استحکام کا خواب ادھورا ہی رہے گا، یہ بات عزم و حوصلے اور کر گزرنے کی ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ معاشی میدان میں تبدیلی لا کر دکھائے اور قرض کا حجم کم سے کم کرنے کی کوشش کرے،جو کہ ہاتھ میں تھامے کشکول توڑنے سے ہی ممکن ہوگا۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں