ہواؤں کا رخ بدل رہا ہے! تحریر: شاہد ندیم احمد

citytv.pk

حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات، گیس و بجلی کے نرخ مسلسل بڑھانے سے عوام پہلے ہی مہنگائی کا عذاب جھیلنے پر مجبور ہیں کہ اب مزید مختلف اشیائے کا بحران پیدا کرکے ان کے مسائل میں اضافہ کیا جارہا ہے،ملک سے ابھی چینی، ِآٹے کا بحران ختم نہیں ہوا تھا کہ گیس کے شد ید بحران کا عندیہ دیا جارہا ہے،عوام جائیں تو جائیں کہاں،کس سے فر یاد کریں،کس سے دادرسی چاہیں،عوام کا کوئی پر سان حال نہیں، چار سو عوام کی مشکلات بڑھتی جارہی ہیں، اس وقت جو بحرانی اور گمبھیر صورت حال ہے، اتنی شدت کبھی نہیں دیکھی گئی ہے،حکومت جب بھی کسی چیز کا نوٹس لیتی ہے، اس کاملک بھر میں بحران شروع ہوجاتا ہے۔

اس میں شک نہیں کہ تحریک انصاف کو اقتدار سنبھالتے ہی بہت سے سیاسی وعوامی مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے،تاہم وزیر اعظم کی تمام تر کاؤشوں کے باوجود مسائل کم ہو نے کی بجائے بڑھتے جارہے ہیں،حکومت ایک طرف احساس پروگرام کے تحت عوام کو رلیف دینے کی کوشش کرتی ہے تو دوسری جانب شوگر، پٹرول اور آٹے کے بحرانوں نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے، یہ حکومتی وزراء کی نا اہلی ہے کہ ایک بعد ایک بحران کا سد باب کرنے کی بجائے الزام تراشی کے ذریعے وقت گزارنے میں لگے ہیں، انہیں اندازہ ہو نا چاہئے کہ لوگ اُن کی گھسی پٹی باتیں سن کر تھک چکے ہیں،اس جان لیوا مہنگائی، پٹرول، شوگر اور آٹے کے بحران کی ذمہ داری سابق حکمرانوں پر نہیں ڈالی جاسکتی، اس کی ذمہ داری اب موجودہ حکومت کو خود ہی اٹھاناپڑے گی۔

تحریک انصاف قیادت نے اقتدار سنبھالتے ہی جودعوئے اور وعدے کیے تھے، انہیں عوام بھولے نہیں ہیں،حکومت کے معاشی دانشور اسد عمرکا دعویٰ تھا کہ ہم گردشی قرضوں کو 2020 کے آخر تک ختم کردیں گے، لیکن گردشی قرضے کم ہو نے کی بجائے مزید بڑھتے جارہے ہیں، حکومت کے تمام وزیر و مشیر ملکی معیشت بہتر بنانے کے صرف دعوئے کرتے آرہے ہیں،مگر ابھی تک کوئی خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آئے ہیں،حکومت کے اہل معیشت کے پاس ملکی معیشت کو بہتر بنانے کا کوئی واضح پلان نہیں ہے، آئی ایم ایف کی غلامی در غلامی کرکے پوری عوام کو ابن غلام بنادیاگیاہے، یہاں پر حکومتی کابینہ کے اجلاس عوام کی بھلائی کے اقدامات کی بجائے عوام پر مزید ٹیکس لگانے اور گرانی و مہنگائی میں اضافے کی منظوری کیلئے منعقد کیے جاتے ہیں،یہ وہی ریاست مدینہ ہے کہ جس کاخواب وزیر اعظم عوام کو دکھاتے رہتے ہیں۔

وزیر اعطم آئے روز ریاست مدینہ کی بات کرتے ہیں،پا کستان کو ریاست مدینہ کی طرح بنانا چاہتے ہیں، مگر زمینی حقائق بالکل مختلف ہیں، ریاست کی ترقی کا انحصار عوام کی خوش حالی پر ہے اور عوام اُس وقت خوش حال ہوتے ہیں کہ جب ریاست انہیں برابری کی بنیاد پر مواقع فراہم کرتی ہے، مگر یہاں تو موقع ہی رشوت و سفارش پر مل رہا ہے،ہر ادارے میں میرٹ کی دھجیاں اُڑائی جارہی ہیں، اہلیت پر نااہلی کو فوقیت دی جارہی ہے،ملک بھر کے اداروں میں آج بھی سیاسی وسفارشی بھرتیاں ہو رہی ہیں، جبکہ باصلاحیت نوجوان ہاتھوں میں ڈگریاں لیے بے روز گار گھوم رہے ہیں،حکومت کبھی قرضے دینے کی باتیں کرتی ہے تو کبھی بے گھروں کو گھر دینے کی سکیموں سے بہلایا جا تا ہے،لیکن عملی طور پر عوام ایک کے بعد ایک بحران کی زد میں ہیں،پانی سے لے کر پٹرول تک اورآٹا، چینی سے لے کر گیس تک کس کس بحران کا ذکر کیا جائے،عوام کی قسمت میں تو بحران در بحران سے نبر آزما ہو نا لکھ دیا گیا ہے۔

تحریک انصاف قیادت کو نہ چاہتے ہوئے بھی ماننا پڑے گا کہ حکومت کی تین سالہ حکومت کی کار کردگی انتہائی برُی رہی ہے،وزیر اعظم کے تمام کھلاڑی تمام تر دعوؤں کے باوجود ناکام ثابت ہوئے ہیں،حکومت کی مدت پوری ہونے کا وقت جوں جوں قریب آرہا ہے، سیاسی و معاشی بحران مزید سر اُٹھانے لگے ہیں،ایک طرف سیاسی اتحادی حکومت کا ساتھ چھوڑ رہے ہیں تو دوسری جانب اپنے حصے کا دانہ دچننے والے پنچھی اُڑان بھرنے کی تیاری کررہے ہیں، سیاست کی ہواؤں کا رُخ بدلنے لگاہے، اگر حکو مت نے اب بھی عوامی مسائل حل کرنے کی سنجیدہ کوشش نہ کی تو اگلی حکومت تو دُورکی بات موجودہ مدت پوری کرنا بھی مشکل ہو جائے گی،

عوامی سطح پرپہلے ہی یہ بات زبان زدعام ہے کہ جو حکومت تین سال میں کچھ نہ کرسکی، وہ اگلے چند ماہ میں کیا بڑے کارنامے سرانجام دیے گی، ایک ہی بات عوامی کی منفی سوچ بدل سکتی ہے کہ وزیراعظم زبانی کلامی باتوں کی بجائے خود ذاتی طور پر ایسے عملی اقدامات کو یقینی بنائیں کہ جس سے خود ساختہ مہنگائی کے بحران کا خا تمہ ہوجائے،ورنہ یہ مہنگائی کا بحران حکومت کو بہا لے جائے گا۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں