مونگ پھلی کا کھیت سے پلیٹ تک کا دلچسپ سفر


لائف سٹائل

منگل 23 نومبر 2021 6:18

شاہد عباسی -اردو نیوز، اسلام آباد

سردیوں میں گھر والوں کے ساتھ محفل ہو یا ہم عمر افراد کی بیٹھک، گھر و دفتر کے باہر چائے وغیرہ کی باری ہو یا یونہی ٹہلتے ہوئے دوستوں کے ساتھ گپ شپ کا موقع، مونگ پھلی ہر موقع پر یوں فٹ ہِوتی ہے گویا بنی ہی اس خاص ایونٹ کے لیے ہو۔
گرما گرم مونگ پھلی کو توڑ کر کھانے کی مشقت ہو یا کڑکڑاتے سنیکس پیکٹ میں دستیاب نمک و مصالحہ لگی پینٹ، مارجرین ہو یا پینٹ بٹر، ہر ایک اپنی پسند کے مطابق مونگ پھلی یا اس کی کوئی پروڈکٹ منتخب کرتا ہے، مگر ایسے میں یہ کم ہی سوچا جاتا ہے کہ ہماری پلیٹ تک پہنچنے سے قبل یہ ننھا سا دانہ کتنے عرصے میں اور کن مراحل سے گزر کر ہم تک پہنچا ہے۔
کچھ عرصہ قبل کی اوپر ذکر کی گئی مصروفیات ہوں یا ڈیجیٹل دور میں موبائل فون، لیپ ٹاپ یا کسی اور سکرین کے سامنے من پسند ایکٹیویٹی، پینٹس یہاں بھی ساتھ رہتی ہیں۔
دنیا کے 40 سے زائد ملکوں میں کاشت کی جانے والی مونگ پھلی پاکستان کے زیادہ تر بارانی علاقوں جب کہ سندھ اور خیبرپختونخوا میں زرعی نظام آبپاشی رکھنے والے علاقوں میں بھی کاشت کی جاتی ہے۔
پاکستان میں مونگ پھلی کی کاشت پنجاب کے اضلاع اٹک، چکوال، خوشاب، میانوالی، بھکر اور بہاولنگر جب کہ خیبرپختونخوا میں کوہاٹ اور کرم، سندھ میں خیرپور، گھوٹکی، سکھر اور سانگھڑ میں کاشت کی جاتی ہے۔
دیگر فصلوں کی طرح تینوں صوبوں میں مونگ بھلی کی فصل کی کاشت اور کٹائی وغیرہ کی مدت بھی قدرے مختلف ہے۔
پینٹ یا گراؤنٹ نٹ کے ناموں سے بھی پہچانے جانے والی مونگ پھلی گرمیوں کی ایسی فصل ہے جو ملک کے بالائی اور ان سے ملحق علاقوں میں سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی تیار ہو کر مارکیٹ میں پہنچ جاتی ہے۔


مونگ پھلی کی کاشت کا سلسلہ اپریل کے ابتدائی دنوں سے شروع ہو جاتا ہے۔ (فوٹو: فری پک)

مونگ پھلی کی کاشت کا سلسلہ اپریل کے ابتدائی دنوں سے شروع ہو جاتا ہے۔ اکتوبر اور نومبر کے مہینوں تک اس کی کٹائی اور تیاری کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ اس کے بعد مونگ پھلی کے دانے نکال کر انہیں کھانے، تیل نکالنے سمیت دیگر مصنوعات کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ جب کہ تیل نکالنے کے بعد بچ جانے والے جزو سمیت اس کے خول کو جانوروں کی غذا کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

فصل کی کٹائی کیسے؟

مونگ پھلی کی فصل تیار ہونے پر روایتی طریقوں کے ساتھ ساتھ جدید مشینری استعمال کر کے اس کی کٹائی اور تھریشنگ ہوتی ہے۔ معیار کے لحاظ سے سب سے بہتر مونگ پھلی وہ مانی جاتی ہے جو پکنے پر پودے سے الگ ہو۔ بہت سے علاقوں میں ایسی مونگ پھلی کو اب بھی ہاتھوں سے چنا جاتا اور بہتر قیمت پر مارکیٹ میں فراہم کیا جاتا ہے۔
مونگ پھلی کے ایک دانے میں 50 فیصد تیل پایا جاتا ہے۔ اس کا تقریبا ایک فٹ یا کچھ زیادہ کی اونچائی تک کا پودا نسبتا زیادہ پھیلاؤ رکھتا ہے۔ مونگ پھلی کے خول میں ایک سے چار تک دانے پائے جاتے ہیں۔
زرعی ماہرین کے مطابق مونگ پھلی دنیا میں اگائی جانے والی غذائی فصلوں میں تیرہویں اہم فصل تسلیم کی جاتی ہے۔ دنیا میں کھانے کے لیے استعمال کیے جانے والے تیل کے حصول کے لیے یہ چوتھا بڑا ذریعہ ہے جب کہ ویجیٹیبل پروٹین کا تیسرا بڑا ذریعہ تسلیم کی جاتی ہے۔

مونگ پھلی کی غذائیت

مونگ پھلی میں 43 تا 55 فیصد تیل، آسانی سے ہضم ہو جانے والی 25 تا 32 فیصد پروٹین اور 20 فیصد کاربوہائیڈریٹس پائے جاتے ہیں۔
انڈیا کے انٹرنیشنل کراپس ریسرچ انسٹیٹیوٹ فار دی سیمی ایرڈ ٹراپکس (آئی سی آر آئی ایس اے ٹی) کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا میں پیدا ہونے والی کل مونگ پھلی کا 50 فیصد تیل نکالنے، 37 فیصد کھانے اور 12 فیصد بیج کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔


مونگ پھلی کے ایک دانے میں 50 فیصد تیل پایا جاتا ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)

پاکستان میں مونگ پھلی کی پیداوار

سرکاری اعدادوشمار اور عالمی پیداوار کا جائزہ لیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ پاکستان میں پیدا ہونے والی مونگ پھلی کل عالمی پیداوار   (47 ملین میٹرک ٹن) کا بہت چھوٹا سے حصہ ہے۔
وزارت فوڈ سکیورٹی کی جانب سے اردو نیوز سے شیئر کیے گئے ڈیٹا کے مطابق 2020.21 کے دوران پاکستان میں ایک لاکھ 36 ہزار ایکڑ پر مونگ پھلی کاشت کی گئی۔ جہاں سے کل ایک لاکھ 21 ہزار ٹن سے زائد پیداوار ہوئی۔ سب سے زیادہ 80 ہزار ٹن پنجاب، 700 ٹن سے زائد خیبرپختونخوا جب کہ 100 ٹن سے زائد سندھ میں پیدا ہوئی۔
پاکستان میں 2020.21 کے دوران مونگ پھلی کی کاشت اور پیداوار گزشتہ 18 برسوں میں سب سے زیادہ رقبہ پر کی گئی اور اس سے سب سے زیادہ مقدار حاصل ہوئی ہے۔
بھنی ہوئی مکمل یا خول سے نکال کر الگ کی گئی مونگ پھلی یوں تو پورا برس ہی ڈرائی فروٹ کے طور پر کھائی جاتی ہے۔ اس سے بنا پینٹ بٹر، مارجرین اور دیگر مصنوعات بھی روزمرہ زندگی کا حصہ ہے، البتہ سردیوں کے موسم میں مونگ پھلی زیادہ ڈیمانڈ رکھنے والے ڈرائی فروٹس میں سرفہرست آ جاتی ہے۔
مونگ پھلی کی عالمی پیداوار کا 95 فیصد ترقی پزیر ملکوں میں کاشت کیا جاتا ہے جب کہ کل پیداوار کا 70 فیصد ایشیائی ملکوں میں کاشت ہوتی ہے۔ چین اور انڈیا مونگ پھلی پیدا کرنے والے سب سے بڑے ملک ہیں جہاں کل پیداوار کا 50 فیصد کاشت کیا جاتا ہے۔
اقوام متحدہ کی فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن کے مطابق پاکستان محدود مقدار و رقبہ کے باوجود مونگ پھلی پیدا کرنے والے ترقی پزیر ملکوں میں سولہویں نمبر پر ہے۔

واپس اوپر جائیں
City Tv Pk

اپنی رائے کا اظہار کریں