آبی پرندوں کیلئے گوشہ عافیت کنیجھر جھیل

 

کنیجھر جھیل کئی لحاظ سے اہمیت کی حامل ہے، موسم سرما میں معتدل آب و ہوا اور خوراک کی تلاش میں آنے والے آبی پرندوں کیلئے گوشہ عافیت ہے۔ پاکستان کے سب سے بڑا شہر کراچی کیلئے پانی کی ضروریات پوری کرنے کیلئے اہم ذریعہ اور تفریح کے متلاشیوں کیلئے جھیل کے بیچوں بیچ سندھ کی لوک رومانوی داستان کے کردار نوری جام تماچی کا مزارہے۔

کنیجھر پاکستان میں میٹھے پانی کی ایک بڑی محفوظ آب گاہ ہے۔ یہ کراچی سے 122اور حیدر آباد سے 86 کلو میٹر دور قومی شاہراہ پر ضلع ٹھٹھہ میں واقع ہے۔ یہ آب گاہ 1932ء میں دو جھیلوں کلری اور کنیجھر کو ملا کر بنائی گئی۔ جھیل کا موجودہ رقبہ13ہزار چار سو 68ایکڑ ہے۔ اس کی طوالت 24کلو میٹر جبکہ چوڑائی چھ کلو میٹر رقبے کے قریب ہے۔

جھیل کو کوٹری بیراج سے نکالی گئی نہر کلری بھگار فیڈر (کے بی فیڈر) کے ذریعے دریائے سندھ کے پانی سے بھرا جاتا ہے جبکہ اس کے علاوہ شمال اور مغرب کی جانب سے یعنی موسمی برساتی نالے بھی جھیل میں گرتے ہیں اور موسم برسات میں ان کے ذریعے بارش کا پانی جھیل میں بھر جاتا ہے۔ جھیل کے اطراف کا موسم گرمیوں میں سخت گرم اور موسم سرما میں سخت سرد ہوتا ہے اور یہاں پر بارش کا سالانہ اوسط 175 ملی میٹر ہے۔

جھیل کو 1971ء میں پہلی مرتبہ مغربی پاکستان وائلڈ لائف پروٹیکشن آرڈیننس شق نمبر 15کے تحت محفوظ گیم سنیکچری کا درجہ دیا گیا اور پھر1977ء میں اسے سندھ لائف پروٹیکشن آرڈیننس کے وائلڈ لائف سنیکچری قرار دیا گیا۔ جھیل کا انتظام وانصرام حکومت سندھ کے صوبائی محکمہ انہار کے ذمہ ہے جبکہ محکمہ فشریز اور بعض دیگر محکموں پر بھی جزوی طور پر اس کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ کنیجھر جھیل 23 جولائی 1976ء کو (امسر سائٹ نمبر99) قرار پائی اور اسے عالمی طور پر بھی تحفظ حاصل ہوا۔

کنیجھر جھیل کراچی اور ٹھٹھہ کو پینے کے پانی کی فراہمی کا ایک اہم ذریعہ ہے جبکہ جھیل میں تجارتی بنیادوں پر ماہی گیری بھی کی جاتی ہے۔ جھیل پر کشتیوں میں زندگی بسر کرنے والے سیکڑوں ملاحوں کے علاوہ اس کے کنارے پر آباد پندرہ سے زیادہ گوٹھوں کے باشندوں کی گزر اوقات کا اہم ذریعہ کنیجھر سے پکڑی جانے والی مچھلی ہے جھیل موسم سرما میں آنے والے سرد ممالک کے آبی پرندوں کی مہمان گاہ اور ان کی افزائش نسل کا کام بھی سرانجام دیتی ہے۔

سندھ وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ کے مطابق جھیل پر سرد ممالک سے آنے والے پرندوں کی 65اقسام ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ یہاں ہر سال لاکھوں پرندے معتدل آب و ہوا اور افزائش نسل کیلئے رخ کرتے ہیں۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں