’’ہیری پوٹر‘‘ ریکارڈ ساز ناول سے متعلق دلچسپ حقائق

citytv.pk

ہیری پوٹر ناولوں کی آمدن 770 کروڑ ڈالر سے زیادہ
دنیا بھر میں اس کی 50کروڑ سے زائد کاپیاں بک چکی ہیں
مصنفہ کے اثاثہ جات کی مالیت 120کروڑ ڈالر ہے

،”ہیری پوٹر‘‘ بنیادی طور پر ایک برطانوی مصنفہ جے کے رولنگ کے سات ناولوں پر مشتمل جادوئی کہانیوں کا ایسا سلسلہ ہے جو کتابوں سے نکل کر فلموں، ڈراموں اور وڈیو گیمز میں منتقل ہو کر کامیابی کے جھنڈے گاڑھتا چلا گیا۔ دنیا میں ایسا بہت کم دیکھا گیا ہے کہ کسی ایک مصنف کی کتابوں کے طویل سلسلے کو اس قدر پزیرائی ملی ہو۔

جے کے رولنگ وہ مصنفہ ہیں جن کے یکے بعد دیگرے سات ناول دنیا بھر میں مقبولیت کی بلندیوں کو چھونے لگے۔ اس سلسلے کی پہلی کتاب 1997ء میں جبکہ آخری 2007ء میں منظر عام پر آئی۔ اس کی مقبولیت کا اس سے بڑا ثبوت بھلا اور کیا ہو گا کہ 2018ء تک ”ہیری پوٹر‘‘ کی کتابوں کی دنیا بھر میں 50کروڑ سے زائد کاپیاں فروخت ہو چکی تھیں۔ اس کے 68 سے زائد زبانوں میں ترجمے ہو چکے تھے جو تاریخ میں کسی بھی ناول کی فروخت اور دوسری زبانوں میں ترجموں کی سب سے زیادہ تعداد تھی۔ اس کتاب کو یہ اعزاز بھی حاصل رہا کہ یہ ان کتابوں میں سے ایک تھی جس کی بکنگ اس کی اشاعت سے پہلے مکمل ہو جاتی تھی۔ ایک امریکی جریدے کے مطابق ہیری پوٹر ناولوں کی آمدن 770 کروڑ ڈالر سے زیادہ ہے۔

جہاں ناولوں کی اس سیریز نے متعدد ریکارڈ اپنے نام کئے وہیں سیریز کے آخری ناول کویہ اعزازملا کہ24 گھنٹوں کے اندر اندر امریکہ میں 83لاکھ کاپیاں جبکہ برطانیہ میں 27 لاکھ کاپیاں فروخت ہوئیں۔
2016ء میں ایک امریکی اخبار نے جے کے رولنگ کے اثاثہ جات کی مالیت کا اندازہ 120 کروڑ ڈالر لگایا تھا۔ دوسرے اخبار نے کہا تھا کہ اس کی آمدن 770 کروڑ ڈالر کی رائلٹی کو اگر 15 فیصد ہی فرض کر لیا جائے تو یہ کم از کم 100 کروڑ ڈالر بنتی ہے۔ اس پر بنی فلموں کی رائلٹی کا تخمینہ 77 کروڑ ڈالر کے لگ بھگ بنتا ہے۔

ان کتابوں پر فلمیں بننے کا سلسلہ ایسا شروع ہوا کہ فلمیں بنتی چلی گئیں۔ 7 ناولوں پر 8 فلمیں بنائی گئیں (آخری ناول پر دو فلمیں بنیں)۔”وارنر برادرز‘‘ نے ہیری پوٹر سیریز کی پہلی فلم 2001ء میں ”ہیری پوٹر اینڈ فلاسفر اسٹون‘‘ ریلیز کی جبکہ اس کا آٹھواں سیزن ”ہیری پوٹر اینڈ ڈیتھلی ہیلوز‘‘ کا پارٹ ٹو تھی جو 2011ء میں ریلیز ہوا۔

ہیری پوٹر ناولوں کی تفصیل:جے کے رولنگ کے لکھے گئے سات ناولوں کے نام اردو ترجمہ کے ساتھ کچھ یوں ہیں۔ ”ہیری پوٹر اور پارس پتھر‘‘(1997ء)، ”ہیری پوٹر اور تہہ خانے کے اسرار‘‘(1998ء)، ”ہیری پوٹر اور اڑقبان کا اسیر‘‘(1999ء)، ”ہیری پوٹر اور شعلوں کا پیالہ‘‘ (2000ء)، ”ہیری پوٹر اور قفس کا گروہ‘‘(2003ء)، ”ہیری پوٹر اور کم ذات شہزادہ‘‘(2005ء)،”ہیری پوٹر اور موت کے تحفے‘‘(2007ء)۔

ہیری پوٹر کی کہانی کا پس منظر:بنیادی طور پر یہ کہانی اس ناول کے مرکزی کردار نوعمر ہیری پوٹر کے گرد گھومتی ہے۔اس کے ساتھ اس کے دوست رونلڈ ویزلی اور ہرمائنی گرینجر شامل ہوتے ہیں جو ”ہوگ اسکول آف میجک‘‘ میں ملتے ہیں۔ ہیری پوٹر بنیادی طور پر ایک جادوگر ہوتا ہے جس کا نشانہ ایک شیطان خصلت جادوگر لارڈ وولڈ مورٹ ہوتا ہے جو دنیا بھر میں اپنی دھاک بٹھانا چاہتا ہے۔ انہی عزائم کی وجہ سے وہ ہیری کے والدین کو بھی قتل کر چکا ہوتا ہے۔ تصوراتی دنیا میں جادوئی کرداروں کی شیطانی طاقتوں سے ٹکر اور تہلکہ خیز واقعات پر مبنی فلم سیریز ”ہیری پوٹر‘‘ نے بچوں اور بڑوں کو اپنے سحر میں گرفتار کر رکھا تھا۔

مقبولیت اور عوامی تاثرات:ہیری پوٹر ناول ہو یا اس سے بنی فلمیں ، دونوں نے شہرت کی ان حدوں کو چھوا جو بہت کم کتابوں اور فلموں کے حصے میں آیا ہو گا۔ اس کی منفرد بات یہ ہے کہ ناول پر بننے والی فلموں میں استعمال شدہ 1200 یادگار اشیاء کو نیلامی کیلئے پیش کیا گیا۔اس کی چھڑی اور چشمے کی نیلامی 30 ہزار ڈالرز سے لیکر 50 ہزار ڈالر تک متوقع ہے جبکہ ایک کردار انڈیانا جونز کے شہرہ آفاق ہیٹ کی قیمت کا متوقع اندازہ ساڑھے 3لاکھ ڈالر ہے۔ نیلام گھر انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ شائقین کی دلچسپی کودیکھتے ہوئے توقع کی جاسکتی ہے کہ یہ اشیاء 61 لاکھ ڈالر تک کا ہدف پورا کر لیں گی۔

اس ناول کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ جے کے رولنگ نے ”ہیری پوٹر‘‘ سیریز لکھنے سے پہلے 800الفاظ پر مشتمل کہانی کا تصوراتی خاکہ تیار کیا تھا جو ایک کارڈ پر لکھا گیا تھا۔ناول کی اشاعت کے بعد جب برمنگھم میں اس کارڈ کو نیلامی کیلئے پیش کیا گیا تو یہ 25 ہزار پونڈ میں فروخت ہوا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ 2017ء میں یہ کارڈ چوری ہو گیا تھا۔

”رائٹرز‘‘ کے مطابق جے کے رولنگ کے 1997 میں لکھے گئے سب سے پہلے ناول ”ہیری پوٹر اور پارس پتھر‘‘ کے پہلے ایڈیشن کی تاریخی کاپی 4 لاکھ 71 ہزار ڈالر میں نیلام ہوئی ہے۔منتظمین کے مطابق یہ بیسویں صدی میں فکشن کی کسی کتاب کی سب سے زیادہ قیمت ہے۔

مصنفہ کے بارے میں:شہرہ آفاق ناولوں کی خالق جے کے رولنگ کو شہرت سے چڑ ہے۔ وہ اپنی ذات بارے گفتگو کرنے سے گریز کرتی ہیں۔ امریکی جریدے ”فور بز‘‘ نے سب سے پہلے جے کے رولنگ کو دنیا کی مہنگی ترین ناول نگار کا لقب دیا تھا۔ ساتھ ہی اس کا ایک انٹرویو بھی شائع کیا تھا جس میں اس نے کہا تھا کہ ”مجھے یہ اعتراف کرنے میں کوئی قباحت نہیں کہ میں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ مشکلات میں بسر کیا۔بحیثیت ”سنگل مدر‘‘ میرے راستے میں قدم قدم پر مشکلات تھیں۔ مجھے حکومت کا سہارا نہ ہوتا تو میں شاید بے گھر ہو چکی ہوتی۔ قدرت مجھ پر اتنا مہربان ہو جائے گی اس کا میں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا۔ یہ برطانوی حکومت کا کمال ہے جس نے مجھے بے گھر ہونے سے بچا لیا اور اب میں برطانیہ کی سب سے زیادہ یعنی 45 فیصد ٹیکس ادا کرنے والی کلاس میں پہنچ کر سکون محسوس کرتی ہوں‘‘۔

جہاں ایک طرف جے کے رولنگ کو اپنی محرومیوں کا احساس ہر لمحہ بے چین کئے رکھتا تھا، وہیں دوسری جانب معاشی طور پر خوشحال ہونے کے بعد معاشرے کی خوشحالی کا جنون اسے ہر دم کچھ نہ کچھ کرنے پر متحرک کئے رکھتا رہا ہے۔
ایک اندازے کے مطابق جے کے رولنگ فلاحی کاموں کیلئے 15کروڑ ڈالر سے زائد خرچ کر چکی ہیں۔ اس نے بچوں کے حقوق کے تحفظ اور ان کی فلاح کیلئے بین الاقوامی تنظیم ”لومو فاؤنڈیشن‘‘ کی بنیاد رکھی۔ دل کھول کر اس کی مدد کی۔ اس نے اسکاٹ لینڈ میں فلاح عامہ اور بنیادی حقوق سے محروم طبقے کیلئے ”وولانٹ چیریٹیبل‘‘ نامی ٹرسٹ کی بنیاد رکھی۔

وہ اپنی والدہ کے نام سے منسوب ایڈنبرا یونیورسٹی میں ”اینی رولنگ ری جنریٹیو نیورولوجی کلینک‘‘ کے قیام کیلئے ایک کروڑ 60 لاکھ ڈالر خرچ کر چکی ہیں۔ ایک امریکی جریدے کے مطابق جے کے رولنگ کے فلاحی کاموں کی ایک اور فہرست عنقریب منظر عام پر آنے والی ہے۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں