انسانی یکجہتی کی ضرورت ، آؤ عہد کریں۔۔ایک دوسرے کی مدد کریں گے

citytv.pk

 

خود غرضی، نفرت، انتشار، خلفشار کے شکار معاشرے کو آج پہلی ضرورت انسانی یکجہتی کی ہے۔ فلاح انسانی کے لیے انتہائی ضروری ہے کہ ہم اپنی چھوٹی بڑی خوشیو ں میں دوسرے انسانوں کو شریک کریں اور دوسروں کے غموں میں باہم شریک ہوں اور دکھی انسانوں کے سماجی و معاشرتی مسائل کے حل میں اپنا مثبت کردار ادا کریں۔ ایک دوسرے کے ساتھ خیر خواہی کا معاملہ اپنائیں اور جو مسائل ہمیں درپیش ہوں ان کو باہم اتفاق و یکجہتی سے حل کریں۔ بلاشبہ اتفاق اتحاد اور یکجہتی انسانوں کی سب سے بڑی طاقت ہے اس کا مشاہدہ ہم زندگی کے ہر مرحلے میں کرتے ہیں۔ انسانوں کے زندگی گزارنے کا سماجی نظام اسی وحدت اور یکجہتی کو حاصل کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔ اسی سے تہذیبیں وجود پاتی ہیں اور نئے سماجی نظام نمو پاتے ہیں۔ مگر بد قسمتی سے ہمارے معاشروں میں انسانی یکجہتی کا شدید فقدان پایا جاتا ہے ، دوسروں کے مسائل سے قطع تعلق لوگوں میں خود غرضی اور بے حسی روز بروز بڑھتی جارہی ہے۔

ہرسال 20 دسمبر کو انسانی یکجہتی کا عالمی دن منانے کا مقصد دنیا سے غربت اور تنگ دستی کے خاتمے ، اورانسانوں کی باہمی یکجہتی کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔اقوام متحدہ کے مطابق یہ دن پوری دنیا میں انسانوں میں اتحاد کا دن ہے تاکہ دنیا میں رہنے والے تمام انسان اس بات کا عہد کریں کہ مشکل میں ایک دوسرے کے کام آئیں گے ، ایک دوسرے کی مدد کریں گے اور سہولیات پیدا کریں گے۔اس دن کو منانے کا مقصد یہ بھی ہے کہ دنیا کی حکومتوں کو یہ بات یاد دلائی جا سکے کہ ایک دوسرے کا احترام کرنا اور بین الاقوامی معاہدوں کی پابندی بھی کرنی ہے۔ انسانی یکجہتی کے عالمی دن کا ایک مقصد عوام میں شعور پیدا کر نا بھی ہے۔ غربت اس وقت دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ ہے اور 90فیصد جرائم اور برائیاں اسی غربت کی وجہ سے جنم لیتی ہیں ۔اس دن کو منانے کا فائدہ اس وقت ہی ہو گا جب ہم اس عالمی مسئلہ سے لڑنے کے لئے ایک دوسرے سے اتحاد کریں گے ۔

یہ دن دسمبر 2002ء سے منایا جارہا ہے ، جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے عالمی یکجہتی فنڈ قائم کیا۔ یہ فنڈ اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کو فنڈ دینے کے لئے فروری 2003 میں قائم کیا گیا تھا ، جس نے غربت کے خاتمے کے لئے کام کیا۔ 22 دسمبر 2005 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے عالمی یکجہتی کے طور پر یکجہتی کی نشاندہی کی۔
اقوام متحدہ کے اعلامیے کے مطابق ، یکجہتی ان بنیادی اقدار میں سے ایک ہے جو صحت مند بین الاقوامی تعلقات کے لئے ضروری ہے۔ اس طرح ، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اس کی یقین دہانی کرائی کہ غربت کا مقابلہ کرنے کے لئے یکجہتی کی ثقافت اور مشترکہ جذبے کو فروغ دینا ضروری ہے اس طرح 20 دسمبر کو عالمی یوم یکجہتی دن منایا گیا۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ عالمی یوم یکجہتی ایک ایسا دن ہے جو حکومتوں کو بین الاقوامی معاہدوں کو یاد دلا نے اور ان کا احترام کرنے کی حوصلہ افزائی کراتا ہے۔ انسانی یکجہتی کا عالمی دن ایک ایسا دن ہے جو غربت کے خاتمے اور دنیا کے مختلف ممالک میں رہنے والی عوام کے درپیش مسائل کا مل کر مقابلہ کے اور ان مسائل کیخلاف اقدامات اٹھانے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔

دنیا کی تمام اقوام و مذاہب میں سب سے پہلے یکجہتی کا درس دین اسلام نے دیا ہے کہ تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں، خواہ کوئی مشرق ومغرب کا رہنے والا ہو یا شمال وجنوب کا، کوئی مسلمانوں کے علاقے میں رہتا ہو یا کافروں کے علاقے میں، سب مسلمان بھائی ہیں اور بھائیوں کے ساتھ اظہاریکجہتی کرنا ایک شریف اور باکردار قوم کی پہچان ہوتی ہے۔ اسلام نے بلا تفریق مذہب وملت انسانی برادری کا وہ نقشہ کھینچا ہے جس پر سچائی سے عمل کیا جائے تو شر و فساد ،ظلم و جبر اور بے پناہ انارکی سے بھری دنیاجنت کا منظر پیش کرنے لگے۔

محض انسانیت کی بنیاد پر تعلق و محبت کی جو مثال اسلام نے قائم کی ہے د نیا کی کسی تعلیم،کسی مذہب اور کسی مفکر کی وہاں تک رسائی نہیں۔ نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ کا ارشاد گرامی ہے ”ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو، حسد نہ کرو،ایک دوسرے سے منہ نہ پھیرو،سب مل کر خدا کے بندے اور آپس میں بھائی بھائی بن جائواور صحیح بخاری کی ایک روایت میں ہے کہ ایک دوسرے کو دھوکہ نہ دو۔ ایک دوسری جگہ ارشاد ہے ”جورحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔ تم زمین والوں پہ رحم کرو تم پر آسمان والا رحم کریگا‘‘

 

اپنی رائے کا اظہار کریں