کرونا سے ڈرنا نہیں لڑنا ہے تحریر: منشا قاضی

citytv.pk

آپ کہتے ہیں تو سچ ہی کہتے ہوں گے کہ کرونا وائرس بیماری سے ڈرنا نہیں لڑنا ہے اور حقیقت بھی یہی ہے کہ ہم کرپشن، رشوت، وحشت و درندگی، نفرت اور اللہ سے بغاوت جیسے عظیم گناہ میں مبتلا ہیں اور یہ دھرتی گناہوں کے بوجھ تلے کپکپا رہی ہے۔ پوری کائنات نصف کائنا ت کی آزادی کے سامنے غلامی کو ہزار درجہ بہتر خیال کر رہی ہے۔ نا امیدی، یاس، قنوطیت اور بے یقینی کے تپتے ہوئے صحرا میں جب انسانیت جھلس رہی ہو تو اس گھٹا ٹوپ اندھیروں میں ایک امید کی کرن ظلمتِ شب کا سینہ چیر کر صبح کاذب کو صبح صادق میں بدل دیتی ہے۔ قرنہا قرن سے یہ کرن روشنی کا سامان پیدا کر رہی ہے روشنی کے سفر کو اندھیرے اور ظلمتیں نہیں روک سکتیں اور وہ کرن کو راستہ دینے میں ہی عافیت سمجھتی ہیں۔

 

مایوسیوں کے بادلوں سے یقین کا آفتاب ڈاکٹر آصف محمود جاہ کی صورت میں طلوع ہوتا ہے تووہ اندھیروں کو اپنے عزم بالجزم کے سورج سے دور بہت دور بھگا کر ہی دم لیتا ہے۔ کرونا وائر س سے نہ ڈرو اپنے اعمال کا محاسبہ کرو۔ گزشتہ روز کسٹم ہیلتھ کیئر سوسائٹی کے زیر اہتمام یک روزہ کانفرنس کا انعقاد زیر صدارت بین الاقوامی علمی و روحانی شخصیت جن کی نیم شبی دعاؤں کی تاثیر ملت اسلامیہ کے لئے اکسیر ہے۔ میری مراد فضیلت مآب حضرت مولانا فضل رحیم مہتمم جامعہ اشرفیہ سے ہے۔ آپ کی آمد کے امکانات دور دور تک نہیں تھے۔ مگر ڈاکٹر آصف محمود جاہ کو بھلا کیسے قرار آسکتا ہے کہ وہ شدت انتظار میں اپنی آنکھیں اور پلکیں بچھا کر بیٹھے ہوئے تھے۔

 

آمد جو سنی اُن کی اللہ رے انتظار
آنکھیں بچھا دی ہم نے جہاں تک نظر گئی

مولانا فضل رحیم کی آمد سے صحن چمن پر بہار آگئی اور کانفرنس کا آغاز قاری عثمان کے لحن داؤدی سے ہوا اور ڈاکٹر نادر کے نادر اقوال زریں نے کرونا وائرس اور اس سے بچاؤ کی تدابیر بتائیں۔بچپن اور پچپن سے زیادہ عمر کے لوگوں کی قوت مدافعت کی کمزوری کو طاقت وری کی ضرورت ہے۔ پاکیزگی اور طہارت کی ترکیب ترتیب او ر تواتر و تسلسل سے دونوں ہاتھوں کو دھونے کی ضرورت پر زور دیا۔ ڈاکٹر ثنا نے بڑی خوبصورتی اور بے ساختگی سے گفتگو کا آغاز کیا او ربڑی روانی سے کرونا کے زہریلے اثرات سے بچنے کا تریاق بتایا۔ ڈاکٹر ثنا نے بڑا حوصلہ دیا اور کرونا کو خوفناک بیماری قرار نہیں دیا بلکہ لوگوں کے خوف کو غارت کر دیا۔

 

 

میں سمجھتا ہوں کہ ڈاکٹر ثنا نے کرونا کو سر سے پکڑ کر طبی حوالوں سے یوں پلٹایا کہ وہ فنا کے گھاٹ اتر گیا۔ ڈاکٹر یمنیٰ نایاب نے بھی جو انداز اپنایا اس نے تو کرونا کو انسانی ذہنوں سے کھرچ کر باہر پھینک دیا۔ ڈاکٹر یمنیٰ نایاب نے قوت ارادی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کرونا کوئی ایسی بیماری نہیں ہے جو جان لیوا ہو۔ کرونا بیماری سے ابھی تک موت واقع نہیں ہوئی ہے جتنی اموات آپ سن رہے ہیں یہ کرونا کے خوف سے ہوئی ہیں۔ اس لئے آپ صفائی اور پاکیزگی کی عادت بنا لیں اللہ تعالیٰ آپ کی اس عادت کو عبادت میں بدل دے گا کیونکہ صفائی نصف ایمان ہے۔ باقی پرہیز علاج سے بہت بہتر ہے۔ ڈاکٹر یمنیٰ نایاب کی تقریر حوصلہ افزا تھی اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ حوصلے واقعی آگ کو گلزار بنا دیتے ہیں۔

 

 

پروفیسر ڈاکٹر ایم اے رفرف نے اپنے اوپر اور اپنے اعصاب پر ماروی سرمد مسلط کی ہوئی تھی اور صبح 7 بجے گلشن اقبال میں آپ کا لیکچر بھی تھاآپ نے دونوں عنوانات سے انصاف کیا اور دل و نگاہ تک وہ اپنی بلیغ گفتگو سے بہت کچھ سمجھا گئے۔ خیالات کی پاکیزگی، الفاظ کا باوضو ہونا اور گفتگو کوثر و تسنیم کی موجوں سے دھلی ہوئی ہو تو کون کافر ہوگا جو ڈاکٹر ایم اے رفرف کو نہ سنے آپ کی تقریر کے دوران حضرت مولانا فضل رحیم تشریف لے آئے تو ڈاکٹر آصف محمود جاہ کے چہرے پر رونق اور دل میں اطمینان افروز لہر دوڑ گئی۔ رحیم کا فضل آپ پر بہت زیادہ ہے اور مولانا فضل الرحیم کی نیم شبی دعاؤں کے ہم سب محتاج ہیں۔ ڈاکٹر ایم اے رفرف نے بڑا عرصہ جامعہ اشرفیہ میں لیکچر دیئے ہیں اور علمائے اکرام سے اپنی بصیرت افروز دلائل و براہین سے آراستہ تقریروں پر داد و تحسین کا خراج وصول کیا ہے۔

 

 

مولانا فضل الرحمن نے بھی کرونا سے زیادہ لوگوں کو اپنے اعمال، اقوال، افعال اور کردار کا محاسبہ کرنے پر زور دیا۔ پروفیسر احسن مزمل شیخ نے بھی کرونا وائرس کو ایسی بیماری نہیں کہا جس سے موت واقع ہوتی ہو دراصل اس کے خوف سے ہی اموات ہوتی ہیں۔ ڈاکٹر آصف محمود جاہ نے ہمیشہ کی طرح مسیحائی کے نئے انداز اپنائے اور ڈینگی جیسی موذی مرض کے زہر کا بھی تریاق جس طرح ڈھونڈا تھا بالکل اسی طرح کرونا کی گردن کو اپنی مسیحائی سے دبوچ لیا ہے اور انشاء اللہ پاکستان میں اسے فنا کے گھاٹ اتار دیا جائے گا۔

 

کوئی کرے تو کہاں تک کرے مسیحائی
ایک زخم بھرے دوسرا دہائی دے

 

اِن حالات میں ڈاکٹر آصف محمود جاہ کا وجدان جاگ اٹھا ہے اور وہ قول سے نہیں اپنے عمل سے ثابت کرتے ہیں کہ
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے

 

مولانا فضل رحیم نے اپنے صدارتی روشن کلمات میں اُن چند گمراہ عورتوں کو ملت کی بیٹیاں قرار دیا اور انتہائی احترام اور خوش نظری کا انہیں سزاوار قرار دیتے ہوئے اس بیماری کی تشخیص کی جو اِن عورتوں کو لاحق ہے۔ آپ نے اخلاق کے مضبوط ویپن سے جب تبلیغ کی تو یقین جانئے ہمارے ٹی وی اینکر پرسنز کی تنقید دھری کی دھری رہ گئی آپ نے کہا کہ ہمیں نفسیاتی مریضوں کو نہیں کوسنا ہم نے مرض کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہے۔آپ نے گمراہ عورتوں کو راہ راست پر لانے اور سیدھا راستہ دکھانے کے لئے ابریشم سے زیادہ نرم لہجے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں مریض سے نہیں الجھنا بلکہ مرض کے خلاف پوری قوم کو سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جانا ہے۔

 

 

یہ مرض ہماری آنے والی نسلوں کی فصلوں کو خراب کرے گا جس کا تدارک وقت کی ضرورت ہے۔ آپ نے ڈاکٹر آصف محمود جاہ اور اُن کی پوری ٹیم کو صالح معاشرے کی تشکیل میں شاندار کردار ادا کرنے پر مبارک باد دی اور انہیں قابل تقلید قرار دیتے ہوئے ان کی ہمت پامردی مومن کے عزم بالجزم کی تعریف کی۔ آخر میں مولانا فضل رحیم نے اپنی رندھی ہوئی آواز میں امت مسلمہ کے لئے اور پوری انسانیت کے صحت مند ماحول کے لیے دعائیہ کلمات میں پورا سمندر قطرے میں انڈیل دیا۔ میری دلی دعا ہے کہ مولانا فضل الرحیم، آصف جاہ اور مولانا عبدالرؤف ملک جیسے ملت کے درد مندوں کو اللہ تعالیٰ ظفر مندیوں سے ہمکنار فرمائے(آمین)۔ ہمارے دوست ہمدم دیرینہ ملک ریاض اپنی تمام تر نیک خواہشات کے ساتھ موجود تھے اور اپنے رفیق صادق فاروق تسنیم کو ڈھونڈ رہے تھے۔ بالآخر آپ نے سٹیج پر آکر ڈاکٹر آصف محمود جاہ کا شکریہ ادا کیا اور برقی ذرائع ابلاغ نے ان متحرک لمحات کو اپنے کیمرے کی آنکھ میں قید کر لیا۔

 

مشاق صورت گر فرحان یوسف کی فرض شناسی میں بھی ہمیں یادگار تصاویر ملیں۔ پروفیسر ڈاکٹر رفرف کے انتہائی حساس اور بے انتہا ضروری”میرا جسم میری مرضی“ کے موضوع پر خصوصی لیکچر کا بھی اعلان کر دیا گیا۔ تادم تحریر آپ کی تقریر کی تاثیر میں اکسیر نتائج برآمد ہورہے ہیں۔ ایسے نابغہ لوگ قوم کی تقدیر اور ملت کی پیشانی کا جھومر ہو ا کرتے ہیں۔ آپ کی ہر بات میں ایک بات اور ہر بات میں ایک کہانی اور ہر کہانی میں ایک حیرانی اور ہر حیرانی میں ایک جاودانی اور ہر جاودانی میں ایک زندگانی اور ہر زندگانی میں فروغِ خوش بیانی اور فصاحت و بلاغت کے دریا بہہ رہے تھے۔ ڈاکٹر آصف محمود جاہ کو اللہ تعالیٰ اپنی حفاظت میں رکھے ایسے لوگ قسمت سے

 

قوموں کو ملتے ہیں قیمت سے نہیں:
آباد ہم آشفتہ سروں سے نہیں ہے مقتل
یہ رسم ابھی شہر میں زندہ ہے کہ تم ہو

 

برداشت کرنا بزدلی نہیں بلکہ زندگانی کا ایک اہم اصول ہے کیونکہ جس شخص کے پاس قوت برداشت ہے وہ کبھی ہار نہیں سکتا۔ ڈاکٹر آصف محمود جاہ کے پاس قوت برداشت کا ذخیرہ ہے ایسی ذخیرہ اندوزی پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ ہمارے ٹی وی اینکر پرسن اور تیز طرار گفتگو طرازوں کو اپنی قوت برداشت میں اضافہ کرنے کی ضرورت ہے۔ مجھے بڑے دکھ اور درد سے کہنا پڑ رہا ہے کہ وقت کی نزاکت اور تصویر کا رخ دیکھ کر اس کی مناسبت سے اگر اپنی آواز کی لرزش اورلغزش پر قابو پا یا جائے تو وہی بہادر انسان ہے۔

 

 

کرونا سے اموات کے واقعات کو اینکر پرسنز ہنس ہنس کر بیان کر رہے ہیں یہ کوئی ہنسنے والا منظر تو نہیں ہے اس پر غالب کی روح بھی بے چین ہوگئی ہوگی
تُو وہ بد خُو کہ تحیر کو تماشا جانے
غم وہ افسانہ ہے جو آشفتہ بیانی مانگے
آخر میں صلوٰۃ عشا کے بعد عشائیہ کا اہتمام جناب اشفاق احمد کے حسن انتظامات کا شاہد تھا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں