صنعتی پالیسی کے بغیر معاشی ترقی ناممکن ہے،مہرین الہیٰ

citytv.pk

 

صنعتی پالیسی کے بغیر معاشی ترقی ناممکن ہے،مہرین الہیٰ

ٹیکس لیوی میں اضافہ ناقابل قرار،کاروباری خواتین کیلئے ریلیف پیکج فراہم کرنیکا مطالبہ

کاروباری مراکز رات 8بجے بند کرنیکا فیصلہ درست نہیں،سی ای او رشید سنز لالہ رخ

خالی پیٹ ٹورازم فروغ نہیں پاسکتا،تصور ملک، امپوڑٹڈ آئٹم پر پابندی سے کاروبار تباہ ہوا،ڈاکٹر تسنیم

کراچی (اسٹاف رپورٹر)کراچی ویمن چیمبر ڈسٹرکٹ ایسٹ کی صدر مہرین الہیٰ کا کہنا ہے کہ صنعتی پالیسی کے بغیر معاشی ترقی ناممکن ہے۔حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے خواتین کا کاروباری انڈیکس تیزی سے زوال کا شکارہے۔بجٹ عام آدمی کو کیلئے کو ئی ریلیف نہیں جس سے مزید معاشی مشکلات جنم لیں گی۔

خام مال کی خریداری اور مزدورطبقے کی تنخواہوں میں اضافے سے ایکسپورٹ آرڈر پورے نہیں ہوسکیں گے ان خیالات کا اظہار انہوں نے خواتین چیمبر کے وفدسے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔مہرین الہیٰ نے مزید کہا کہ ڈالر ریٹ میں مسلسل اضافے سے ایس ایم ای سیکٹر کو مسلسل نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔دستکاری کا شعبہ بھی حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے دم توڑتا نظر آرہا ہے۔ بغیر کسی سہولت کے ٹیکس لیوی میں اضافہ ناقابل برداشت ہو گا۔

کاروباری خواتین کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے تمام صوبوں میں خصوصی سبسڈی پیکج کی اشد ضرورت ہے۔رشید سنز کی سی ای او لالہ رخ نے تجویز دیتے ہوئے کہا کہ بڑے شہر و ں میں موجود مارکیٹوں کو باری باری کھولنے سے کاروبارطبقے کو فائدہ ہوگا رات آٹھ بجے مارکیٹوں کو بند کرنے کی تجویز درست نہیں کیونکہ شدید گرمی میں بیشتر لوگ شام کے اوقات میں خریداری کو ترجیح دیتے ہیں

انہوں نے حکومت سے مزید مطالبہ کیا کہ کاروباری خواتین کو بیرون ممالک سفر کی صورت میں 25فیصد رعایت دی جائے۔ٹی ایم ٹریولز کی سی ای او تصورملک نے کہا کہ خالی پیٹ ٹورازم انڈسٹری کو فروغ دینے کی باتیں صرف خام خیالی ہے تین سال کرونا وائرس نے ٹریول انڈسٹری کو بے انتہا نقصان پہنچایا اب ڈالر ریٹ میں مسلسل اضافہ ہمارے گھاٹے کا سبب بن رہا ہے۔

شمیم اختر نے کہا کہ پاکستان کو سیاسی اور معاشی طور پر دوبارہ ترقی کے ٹریک پر لانے کی ضرورت ہے۔کاروباری طبقے کی تجاویز کو رد کرکے بجٹ بنانے سے حکومت کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ ڈا کٹر تسنیم کوثر نے کہا کہ امپوڑٹڈ آئٹم پر پابندی نے کئی کاروبار تباہ کردیئے اشیاء کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کاروباری اخراجات کو بڑھا رہا ہے جس کی وجہ سے بیرونی آرڈر کو مکمل کرنے میں ہمیں مسلسل پریشانی کا سامنا ہے۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں