سُپرمین کی رسوائی (نوک پلک) تحریر:محمد طیب زاہر

citytv.pk

 

عمران خان نے ملکی معیشت کو درست سمت پر گامزن کردیا تھا ،اور کچھ دیر عمران خان کے رہنے کی صورت میں ملکی معیشت کا پہیہ مکمل طور پر بحال بھی ہوجانا تھا لیکن اِن کے مخالفین کے حسد نے معیشت کو آگ میں دکھیل دیا۔کیونکہ اگر یہ ایسا نہ کرتے تو اِن حکمرانوں کی سیاست کا پہیہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے رُک جاتا ۔سو مفاد پرستوں کا ایک ٹولہ بیرونی سازش کے تحت اقتدار سے چمٹ گیا۔عمران خان کے حریف اِس بات کے دعوے دار تھے کہ چونکہ عمران خان نے معیشت کو تباہ کردیا لہذا ہم جیسے تجربہ کار ملک اور عوام کو معیشت بحال کرکے سُکھ کا سانس فراہم کریں گے ۔اور یوں اِن نام نہاد حکمرانوں نے عوام کو سبز باغ دکھانا شروع کردئیے۔اب یہ بےحس قرض لے کر اور عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ لاد کر اِنہیں یہ یقین دلارہے ہیں کہ اچھے دن بس آنے کو ہیں۔

 

جو سفید جھوٹ ہے۔حکمران خود کو عوام کا مسیحا ثابت کرنے میں لگے ہوئے ہیں لیکن سچ یہ ہے کہ موجودہ حکمران عوام کے لئے مسیحا نہیں بلکہ عوام کے لئے جان کا وبال بنے ہوئے ہیں۔ یہ حکمران حکومت میں ملک کو بچانے کیلئے نہیں آئے بلکہ اِس کو ڈبونے آئے ہیں ۔جیسے شہباز شریف INDUSTRIAL SECTOR کو ڈبونے کا مکمل تہیا کرچکے ہیں ۔خود کو شہباز اسپیڈ کہنے والے ملک کو اسپیڈ کے ساتھ تباہی کے دہانے پر لے جا رہے ہیں ۔اب بڑی صنعتوں پر دس فیصد ٹیکس کا جال بچھا دیا گیا ہے۔یہ لوگ اب اچھی بھلی عمران خان کے دور میں چلتی صنعتوں کو پھر سے بند کرنے پر باضد ہیں ۔ شہباز شریف نے مسکین سی شکل بناتے ہوئے اپنی بے بسی ظاہر کی اور پچھلی حکومت کی کارکردگی پر نوحہ پڑھ کر صنعتوں پر دس فیصد سُپر ٹیکس کا قہر برسا دیا اور اِس ٹیکس کو نافذ کرنے کی وہ دلیل یہ دیتے ہیں کہ اِن کا صنعتوں پر سُپر ٹیکس لگانے کا مقصد غربت کو کم کرنا ہے ۔

 

اِس سے غربت تو نہیں البتہ غریب ضرور کم ہوجائیں گے ۔اور بے روزگاری بھی بڑھ جائے گی۔ کیونکہ اب صنعتوں پر دس فیصد سُپر ٹیکس لگنے کے بعد صنعتوں پر بوجھ بڑھے گا،اور صنعت کار اپنا بوجھ کم کرنے کے لئے اور اِس دس فیصد سُپر ٹیکس کی ادائیگی کے لئے وہ اپنےآپ کو خسارہ لگانے کی بجائے صنعتوں میں کام کرنےوالے مزدوروں کے لئے مصیبت کا پہاڑ کھڑا کردیں گے۔ فیکٹریوں کو تالے لگادیں گے۔ جس سے مزدوروں میں بے روزگاری پھیلے گی۔ صنعت کار اپنا پیسہ بچائے گا اور اگر صنعت کار اِس بچائے ہوئے پیسے کو لے کر ملک سے باہر چلا گیا تو یہ سُپر ٹیکس ملک اور قوم کےلئے سُپر جھٹکا ثابت ہوگا۔ کون لوگ ہیں یہ ؟ کون اِنہیں یہ مشورے دے رہا ہے۔

 

یہ تو بچے کو بھی علم ہے کہ جہاں ٹیکس زیادہ ہوگا وہاں کبھی بھی سرمایہ کاری فروغ نہیں پاتی۔صنعتوں کا پہیہ نہیں چلتا۔ شہباز شریف کو سمجھ کیوں نہیں آرہی کہ ایسے غُربت مٹاؤ پالیسی اُلٹی پڑ جائے گی ۔اور غریب مٹنے لگ جائے گا ۔شہباز شریف کے بقول تواِس ٹیکس کا غریب پر اثر نہیں پڑےگا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگرفرض کریں صنعتوں کو تالے نہیں لگتے تو پھرایسی صورتحال میں صنعت کار اپنی تیار کردہ اشیاء کی قیمتیں بڑھا دیں گے اور پھر غریب آدمی کے لئے اُنہیں خریدنا مشکل ہوجائےگا۔ ۔ اب حکومت سُپرمین بن کر سُپر ٹیکس تو لگا رہی ہے لیکن اپنے عمل سے وہ سُپرمین جیسے ہیرو کو بھی رُسوا کر رہی ہے! امیر لوگوں پر ٹیکس جتنا مرضی لگایا جائے لیکن یہ اشرافیہ ہمیشہ اِس کا بوجھ غریبوں پر ڈال کر خود کو ٹیکس سے بچا ہی لیتی ہے ۔لیکن حکومت کو اس وقت صرف اور صرف ٹیکس اکھٹا کرنے کی پڑی ہے اِس کے لئے چاہے اِسے غریب کی کھال ہی کیوں نہ اُتارنا پڑے۔

یہ لوگ غریب طبقے کو ریلیف کا لالی پاپ دے کر غریب کی توہین کرتے ہیں۔ اور مفتاح صاحب جب بھی اپنی زبان کھولتے ہیں تو اِن کہ منہ سے نکلے ہوئے الفاظ عوام پر قیامت بن کر ٹوٹنے لگتے ہیں۔ یہ مفتاح اسماعیل بھی COMEDY کرتے رہتے ہیں ۔لگتا ہے یہ کوئی کابینہ نہیں comedians کی کوئی آماج گاہ ہے۔اب جسا کہ تجربہ کاری بربادی میں بدل رہی ہے ۔سہولیات صفر ٹیکس سُپر اور تجربہ کار سب سے اوپر نظر آرہے ہیں۔اور خاص طور پرمفتاح صاحب جو معیشت پر تجربے کر رہے ہیں اِس پر ان کے اپنے لوگ بھی خوش نہیں ہیں ،اب ایاز صادق کو ہی دیکھ لیں وہ اپنے ہی وزیر خزانہ کی میٹھی میٹھی کرگئے۔ایاز صادق بیان دیتے ہیں کہ مفتاح کو ٹی وی پر دیکھ کر لوگ گبھرا جاتے ہیں،یعنی ایاز صادق نے بھی میٹھے میٹھے انداز میں مفتاح کی بینڈ بجادی ،اور مفتاح کو دیکھ کر لوگ ویسے کیوں نہ گبھرائیں وہ جیسے ہی منہ کھولتے ہیں تو اتنا ہی مہنگائی کا منہ کُھلنا شروع ہوجاتا ہے۔جیسا کے ابھی حال ہی میں مفتاح صاحب نے یہ عظیم مذاق کیا کہ اِنہوں نے شہباز شریف کے بچوں کی صںعتوں پر بھی ٹیکس لگا دیا ہے ۔

 

ہاں یہ الگ بات ہے کہ مفتاح صاحب شہباز شریف کے بچوں کی صنعتوں پر ٹیکس تو لگائیں گے لیکن وہ ٹیکس وصول نہیں کریں گے،اور ابھی شہباز گل نے مفتاح سے متعلق بُری خبر سُنائی ہے۔شہباز گل کہتے ہیں کہ عنقریب مفتاح صاحب فارغ ہونے والے ہیں اور اِن کی جگہ مشہور زمانہ اسحاق ڈار تشریف آ رہے ہیں۔۔اب شہباز گِل کے بقول مفتاح اسماعیل کو بدلا جا رہا ہے اور اِسی لئے اسحاق ڈار واپس آرہے ہیں۔ اب اسحاق ڈار کی لیگی حکومت آنے کے بعد کمر کی ساری دردیں فوری طور پر غائب ہوگئی ۔کیا کمال کی جادوئی حکومت ہے جو ڈاکٹری کا بھی سارا کام جانتی ہے اِسی لئے اب یہ خبریں سامنے آرہی ہیں کہ معیشت کو تباہی کے اندھیرے میں دھکیلنے والے اسحاق ڈار ایک بار پھر سے معیشت کو ڈبونے کی رہی سہی کمی کو پورا کرنے تشریف لا رہے ہیں ۔اب دو مہینے میں ہی مفتاح کی چھٹی کی باتیں ہونے لگی ہیں جبکہ یہی حکومت کے لوگ تحریک انصاف کو وزیر خزانہ تبدیل کرنے پر رج کر تنقید کا نشانہ بنایا کرتے تھے۔

 

اب شاید اِسی وجہ سے مفتاح کو بدلنے کی باتیں ہو رہی ہیں کیونکہ اِنہوں نے وزیر اعظم کے بچوں کی صنعتوں پر ٹیکس لگا دیا ہے جو بہت بڑی نا انصافی ہے ۔مفتاح صاحب آپ کیوں غریب وزیر اعظم کے غریب بچوں کا نقصان کرنا چاہتے ہیں ۔اُن کا اِتنا بڑا نقصان، مفتاح صاحب آپ کیسے کرسکتے ہیں ؟مفتاح صاحب آپ نہال ہاشمی سے ہی کچھ سیکھ لیتے جو کہتے تھے کہ نواز شریف اور اِن کے بچوں سے حساب لینے والوں کے اوپر زمین تنگ کردیں گے۔ ۔جبکہ مفتاح صاحب شہباز شریف کے بچوں پر ٹیکس لگانے کی بات کرکے اِن پر سانس تنگ کر رہے ہیں ۔ مفتاح صاحب آپ کو چاہئے کہ کوئی آپ کو ہٹائے اِس سے پہلےآٓپ خود ہی عزت کے ساتھ کرسی چھوڑ دیں ۔یقین مانے ایسے آپ کی تھوڑی کم بےعزتی ہوگی ۔یہ بات درست ہے کہ اسحاق ڈار بھی ایک نااہل وزیر خزانہ رہے ہیں اور وہ دوبارہ آئیں گے تو ملک مزید تباہ ہی ہوگا لیکن آپ تو کم ازکم ملک کو مزید تباہ نہ کریں بلکہ عزت سے گھر جائیں اپنی گولیاں ٹوفیاں بیچنے کے ہی کاروبار پر دھیان کریں یہ کام آپ اچھا کر رہے ہیں یہی کریں بجائے اِس کے کوئی اپ کو REPLACE کردے۔لیکن اِن سب باتوں میں ایک بات طے ہے کہ یہ حکومت عمران خان کی معاشی شعبے میں محنت کی ایسی کی تیسی کر رہی ہے ۔لیکن قوم سب نوٹ کر رہی ہے اور عمران خان کے شعور کی وجہ سے جاگ چُکی ہے اور عنقریب اِس نا اہل حکومت کو اپنے ووٹوں کی مدد سے ختم کرنے والی ہے ۔کیونکہ اِس حکومت نے اپنے پاؤں پر کلہاڑا نہیں بلکہ کلہاڑے پر پاؤں مار دیا ہے اور عمران خان کے لئے آنے والے انتخابات کے لئے راہ ہموار کردی ہے ۔اور یہی وجہ ہے کہ حکومت انتخابات سے راہ فرار اپنا رہی ہے لیکن کب تک؟

 

اپنی رائے کا اظہار کریں