امپورٹڈ حکومت میں بیٹھے لوگوں کا جینا مرنا پاکستان میں نہیں، عمران خان

عمران خان نے کہا ہے کہ امپورٹڈ حکومت میں بیٹھے لوگوں کا جینا مرنا پاکستان میں نہیں۔

چیئرمین پی ٹی آئی و سابق وزیراعظم عمران خان نے پریڈ گراؤنڈ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد اورراولپنڈی کی تاریخ  میں عوام کا ایسا سمندر کبھی نہیں دیکھا۔

عمران خان نے کہا کہ مجھے پتہ تھا اس دن شام کو بھی یوں ہی عوام کا سمندر آنا تھا، عورتوں اور بچوں پر جس طرح ظلم ہوا معلوم تھا انتشار پھیلے گا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ مجھے پتہ تھا لوگوں میں پولیس اور رینجرز کیخلاف غصہ تھا، میں انتشار نہیں پھیلانا چاہتا تھا، اس لئے میں نے فیصلہ کیا کہ قوم بھی میری ہے اور پولیس و رینجرز بھی میری ہے۔

Advertisement

عمران خان کا کہنا تھا کہ امپورٹڈ حکومت میں بیٹھے لوگوں کا جینا مرنا پاکستان میں نہیں، میر جعفر اور میر صادق نے مل کر سازش کی، امریکی سازش کے تحت 22 کروڑ عوام کی منتخب حکومت کو ہٹایا گیا۔

چیئرمین پی ٹی آئی کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہوں نے ہمیں پرامن احتجاج نہیں کرنے دیا، آج صرف اسلام آباد نہیں پورے ملک میں لوگ جمع ہوئے ہیں کیونکہ قوم امریکا کی سازش اور انہیں قبول نہیں کرتی، عوام نے صرف ایک ہی نعرہ لگانا تھا کہ امپورٹڈ حکومت نامنظور۔

انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان نیچے جاتا ہے تو انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا، روپیہ گرتا ہے تو ان کی دولت بڑھتی ہے کیونکہ ان کے اثاثے ڈالرز میں ہیں، زرداری اور شہباز شریف کی جائیدادیں ملک سے باہر ہیں، امپورٹڈ حکومت میں بیٹھے لوگوں کا جینا مرنا پاکستان میں نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ میں ملکی اداروں کیخلاف جنگ کرنے یا نقصان کرانے نہیں نکلا تھا، آج میرا مرنا جینا پاکستان میں ہے، میرے بیرون ملک محلات، جائیدادیں یا کاروبار نہیں ہے۔ پاکستان کے علاوہ کہیں اور رہنے کا سوچا بھی نہیں، کبھی نہیں سوچا کہ باہر کا پاسپورٹ لے لوں۔

عمران خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ میرے والدین ایک غلام ملک میں پیدا ہوئے تھے، آصف زرداری نے 50، نواز شریف نے 20 بیرون ملک دورے کئے، قوم پیغام دے رہی ہے کہ ابھی بھی وقت ہے ملک کو بچالو۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ایک کہتا ہے ہم بھکاری ہیں اس لئے امریکہ کی غلامی کرتے ہیں اور دوسرا کہتا ہے ہم وینٹی لیٹر پر ہیں، امریکیوں کے غلاموں کو یہ قوم کبھی تسلیم نہیں کرے گی۔

عمران خان نے یہ بھی کہا کہ آزاد قومیں ہی بڑا کام کرتی ہیں، انگریزوں کی غلامی سے آزادی کیلئے پاکستان بنا تھا اور اگر امریکیوں کی غلامی کرنی تھی تو پھر آزادی کی جنگ کیوں لڑی؟

ان کا کہنا تھا کہ 30 سال تک یہ دو خاندان اس ملک پر حکومت کرتے رہے ہیں، وزیراعظم خود ہی کہتا ہے کہ ہم تو بھکاری ہیں، میں چاہتا ہوں میری قوم خوددار ہو، کبھی کسی ملک کے سامنے ہاتھ نہ پھیلائے، جب وزیراعظم ہاتھ پھیلاتا ہے تو ساری قوم کو ذلیل کرتا ہے۔

سابق وزیراعظم کا یہ بھی کہنا تھا کہ قانون کی بالادستی یقینی بنانا عدلیہ کا کام ہے، چوروں کو مسلط کرنے پر عدلیہ کو سو موٹو لینا چاہیے تھا۔ شہباز شریف نے خود پر سے ایف آئی اے کے 16 ارب روپے کے کیسز ختم کروائے۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے 2 دفعہ زرداری پر کیس کر کے اسے جیل میں ڈالا، ان کی چوری پر تو کتابیں لکھی ہوئی ہیں جبکہ اپنے کیسز بچانے کیلئے انہوں نے نیب کو ختم کردیا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ قوم یہ خوف کا بت توڑ چکی ہے، ہمارے آخری دو سال میں ملکی معیشت 17 سال میں سب سے بہتر تھی لیکن ان کے مسلط ہونے کے بعد آج ہماری معیشت نیچے چلی گئی۔

انہوں نے کہا کہ جب آئی ایم ایف نے ہمیں قیمتیں بڑھانے کا کہا ہم نے کم کردیں، ڈھائی سال ہم آئی ایم ایف سے ڈیل کر رہے تھے، یہ قیمتیں بڑھا کرنام آئی ایم ایف کا لے رہے ہیں، ابھی صرف ڈیزل پیٹرول بڑھا ہے، ابھی مہنگائی اور ہوگی۔

چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ انہوں نے ملک کے ساتھ وہ کیا ہے جو کوئی دشمن بھی نہ کرے، میں نے کبھی کسی کی غلامی تسلیم کی نہ کسی کے سامنے جھکا۔ ہمیں اپنی ساڑھے 3سالہ کارکردگی پر فخر ہے، کورونا کے دور میں ہماری کارکردگی کو ساری دنیا تسلیم کرتی ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جب میں نے کورونا وباء کے دوران لاک ڈاؤن نہیں لگایا تو انہوں نے شدید تنقید کی، یہ مجھے کہہ رہے تھے کہ لاک ڈاؤن لگا دو جس پر میں انہیں کہتا تھا دیہاڑی دار گزارا کیسے کریں گے؟ اور اگر ہم لاک ڈاؤن لگا دیتے تو یہاں لوگوں نے بھوکا مرنا تھا۔

عمران خان نے کہا کہ 2سال سے کہہ رہے ہیں کہ ای وی ایم کا استعمال کیا جائے  لیکن ان کے ہوتے ہوئے کبھی بھی صاف و شفاف الیکشن نہیں ہوسکتے، مجھے خوف ہے انہوں نے الیکشن کمیشن کے ذریعے دھاندلی کرنی ہے، سندھ کے بلدیاتی انتخاب میں سب نے دیکھا کتنی دھاندلی ہوئی۔

چیئرمین پی ٹی آئی و سابق وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ راولپنڈی کے لوگ بھی تیار ہو جائیں ،یہاں بھی الیکشن ہیں، دھاندلی کے باوجود ہم نے پنجاب کے ضمنی الیکشن میں ان کو شکست دینی ہے، یہ لوگ صرف اورصرف دھاندلی سے ہی جیتیں گے، کبھی بھی ایک امپورٹڈ حکومت کو ہم نہیں مانیں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں