پاکستان کو بابراعظم کے ساتھ یا اس کے بغیر جیتنا چاہئے: یونس خان

صرف پاکستانی کپتان پر انحصار نہیں کرنا چاہیے، بہتر متبادل تیار کیے جائیں،شکست پر کوچز کی بھی کارکردگی کا جائزہ لینا چاہیے: بیٹنگ کوچ

24

قومی ٹیم کے بیٹنگ کوچ یونس خان کا کہنا ہے کہ ہمیں صرف بابراعظم پر انحصار نہیں کرنا بلکہ بہتر متبادل کھلاڑی بھی تیار کرنا ہوں گے۔ ورچوئل پریس کانفرنس کے دوران 43 سالہ سابق کپتان یونس خان نے کہا کہ پاکستان کو کراچی ٹیسٹ میں جنوبی افریقہ کے خلاف ہوم کنڈیشنز کا بھرپور فائدہ اٹھانا ہوگا، نئے کھلاڑیوں کو اعتماد دینا ہوگا، قومی ٹیم کے کپتان اور بہترین بلے باز بابراعظم ان فٹ ہوئے تو نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیم ناکام ہوگئی، اگر بابراعظم حتمی الیون کا حصہ نہ ہوں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ ٹیم ہار جائے،ہمیں ان کے بہتر متبادل تیار کیے جانے کی ضرورت ہے۔
یونس خان کا مزید کہنا تھا کہ کراچی کی وکٹ ہمیشہ سپورٹنگ رہی ہے جہاں بیٹسمیںن اور بائولرز کو یکساں مدد کرے گی، وکٹ پر گیند سپن ہوتی ہے اور شام کو سوئنگ بھی دیکھنے کو ملتی ہے، پاکستان کو پہلی اننگز میں اچھی بیٹنگ کرکے لمبا سکور کرنا ہوگا، اچھے ٹوٹل سے ہمارے بائولرز کو بھی مدد ملے گی، ٹیسٹ میچ میں کامیابی کیلئے 6 سے 7 سیشن جیتنا ضروری ہوتے ہیں، نئے کھلاڑیوں پر بھروسہ کرکے انہیں مواقع اور وقت دینا ہوگا، نئے کھلاڑیوں کو موقع دینا ہوگا، عدم کارکردگی پر انہیں ٹیم سے الگ نہیں کریں گے، نئے کھلاڑی اگر کارکردگی نہ دکھا سکیں تب بھی انہیں ضائع نہ کریں بلکہ موقع دیں۔

قومی ٹیم کے بیٹنگ کوچ کا مزید کہنا تھا کہ کھلاڑیوں کو ضروریات کے دائرے میں رہ کر بھرپور محنت کرنی ہوگی، کارکردگی کا انحصار خود کھلاڑی کی محنت پر ہوتا ہے، کوچ صرف رہنمائی کرسکتا ہے، زیادہ تجربات شیئر کرنے سے بھی کھلاڑی ڈبل مائنڈڈ ہو جاتے ہیں، کوچز کی بھی کارکردگی کا جائزہ لیا جانا چاہیے، نیوزی لینڈ کیخلاف شکست کے بعد بالخصوص بائولنگ کوچ وقار یونس پر سخت تنقید ہوئی، بطور بیٹنگ کوچ مجھ پر بھی تنقید کی جائے اور خامیاں سامنے لائیں لیکن ذاتی بنیاد پر تنقید کا نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیئے، اچھی کارکردگی دکھانے پرکھلاڑیوں اور کوچز کو بھی پزیرائی ملنی چاہیے۔
یونس خان نے کہا کہ ہماری خوش نصیبی ہے کہ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ واپس آرہی ہے، دنیا کی ٹاپ کرکٹ ٹیموں کا پاکستان آنا نیک شگون ہے، یہ وقت ڈومیسٹک نظام پر باتیں کرنے کا نہیں، فتح اور اچھے نتائج کے لیے قومی ٹیم کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیئے۔

ایک تبصرہ چھوڑ دو