آنکھ میں ٹھہرے ہوئے لوگ (شاعر) شبیر نازش

اسی پہ آنکھ ٹھہرتی ہے پیارا لگتا ہے

10

اسی پہ آنکھ ٹھہرتی ہے پیارا لگتا ہے
ہمیں جو دیکھ لے ہنس کے، ہمارا لگتا ہے

اسی کی بات سنے اور اسی کی بات کرے
ہمارے دل پہ اسی کا اِجارہ لگتا ہے

پھٹا لباس نہ دیکھ اس کی بات غور سے سن
مجھے وہ شخص محبت میں ہارا لگتا ہے

ادب میں عہدے نہیں کام بولتا ہے میاں!
وہ ایک شخص اکیلے ادارہ لگتا ہے

جو شخص ڈوب رہا ہو شکستِ ذات کے بیچ
بھنور بھی دور سے اس کو کنارہ لگتا ہے

یہ شعر گوئی ہے یہ پارٹ ٹائم جاب نہیں
اور اس میں آدمی سارے کا سارا لگتا ہے

مَیں گہری نیند سے بیدار ہو گیا نازشؔ
کسی نے خواب میں مجھ کو پکارا، لگتا ہے

 

ایک تبصرہ چھوڑ دو