ثمرہ کی خوبی تحریر: افراح خان، مانسہرہ

(چھوٹے بچوں کے لیے کہانی )

28

احسن ایک ضدی اور جھگڑالو بچہ تھا ،وہ کسی کو بھی اپنے کمرے میں نہیں آنے دیتا تھا اور نہ ہی اپنی چیزوں کے ساتھ ہاتھ لگانے دیتا تھا۔ جب بھی کوئی اس کے کھلونوں کو ہاتھ لگاتا تو وہ اونچی آواز میں رونے لگتا اور چھوٹے بچوں کو مار کر اپنے پاس سے بھگا دیتا تھا۔
ایک دن اس کی چھوٹی کزن ثمرہ گاؤں سے شہر احسن کے گھر آئی تو احسن نے ثمرہ سے بھی اچھی طرح بات نہیں کی اور کھانے کے بعد اپنے کمرے میں چلا گیا۔
ثمرہ بہت اچھی اور تمیزدار بچی تھی۔ وہ سب کے ساتھ اچھے طریقے سے ملتی اور سب کو اپنا دوست سمجھتی تھی۔ گھر میں سب ثمرہ کی تعریف کرنے لگے تو احسن کو اس بات پر حسد اور غصہ آنے لگا۔
وہ ہر وقت ثمرہ کو نیچا دکھانے کے طریقے سوچتا
رہتا۔
جب وہ سکول گیا ہوا تھا ،ثمرہ اس کے کمرے میں گئی اور اس کے بکھرے ہوئے خوبصورت کھلونوں کو اٹھا کر الماری میں ترتیب سے لگانی لگی۔ وہ دل ہی دل میں احسن پر افسوس بھی کرتی کہ کیسے اس نے اتنے مہنگے کھلونے زمین پر پھینکے ہوئے ہیں۔
کھلونوں کے ساتھ کھیلتے اور انہیں ترتیب سے رکھتے ہوئے ثمرہ کو وقت گزرنے کا پتہ نہیں چل سکا۔ احسن سکول سے واپس آ کر فوراً اپنے کمرے میں آیا اور ثمرہ کو اپنے کھلونوں والی الماری کے پاس کھلونے ہاتھ میں پکڑے کھڑا دیکھ کر غصہ ہو گیا۔
ثمرہ بھی احسن کو دیکھ کر ڈر گئی تھی اور جلدی جلدی اسے بتانے لگی ” وہ اس کے کھلونے الماری میں رکھ رہی تھی”
احسن کو آج ثمرہ سے بدلہ لینے کا موقع مل گیا تھا اس نے جھٹ سے ننھی ثمرہ کے گال پر چانٹا مارا اور بستہ زمین پر پھینک کر مزے سے بیڈ پہ جا کر لیٹ گیا۔
ثمرہ روتی ہوئی کمرے سے چلی گئی۔ احسن کو اب تھوڑا سا ڈر محسوس ہوا ثمرہ نے گھر میں بتا دیا کہ احسن نے اسے مارا ہے ،سب اس پر غصہ ہوں گے اور ثمرہ کی اور زیادہ تعریف کریں گے۔
اسی لیے وہ کمرے سے باہر آ گیا مگر گھر میں سب کچھ ٹھیک تھا۔ ثمرہ ٹی وی کے سامنے بیٹھی کارٹون دیکھ رہی تھی۔ اب احسن پرسکون ہو کر باہر کھیلنے نکل گیا۔
پڑوس میں نئے لوگ آئے تھے۔ ان کا بیٹا ببلو احسن سے بھی زیادہ جھگڑالو اور بدتمیز بچہ تھا۔
گلی میں سب بچے اس سے ڈرتے تھے کیونکہ ببلو سب بچوں پر رعب جھاڑتا اور اپنے کام کرواتا تھا۔
احسن جب گلی میں کرکٹ کھیلنے آیا تو ببلو وہاں پہلے سے کھڑا تھا۔ پہلی بیٹنگ احسن کی تھی لیکن ببلو نے اس کے ہاتھ سے بلا کھینچ لیا اور سب بچوں سے کہا کہ پہلے وہ کھیلے گا۔
سب بچے ڈر کر ایک طرف کھڑے ہو گئے تھے ،احسن سے یہ سب برداشت نہیں ہوا۔ اس نے آگے بڑھ کر ببلو کے ہاتھ سے بلا لے کر دور پھینک دیا کہ ہم دونوں ہی نہیں کھیلیں گے۔
ببلو احسن کی حرکت سے اور بھی غصے میں آ گیا اور لڑائی کرنے کے لیے احسن پر جھپٹا۔
دونوں کے درمیان خوب مار کٹائی ہوئی ، جس میں زیادہ مار احسن کو ہی کھانا پڑی۔ احسن میاں صرف رعب جھاڑتے تھے۔ اپنا بچاؤ نہیں کر سکتے تھے۔ دوسرے بچوں کا شور شرابا اور احسن کی چیخ و پکار سن رہا ثمرہ گھر سے دوڑتی ہوئی آئی اور ببلو کے چنگل سے احسن کو بڑی مشکل سے چھڑوا کر اندر لے گئی ورنہ ببلو نے آج احسن میاں کی چٹنی بنا دینی تھی۔
احسن کے ابو نے اسے خوب ڈانٹا اور باہر جا کر کھیلنے پر بھی پابندی لگا دی۔
اب احسن سکول سے واپس آ کر گھر میں پڑا تنگ
ہوتا رہتا تھا۔ ثمرہ بھی احسن سے بات نہیں کرتی تھی۔
ایک دن احسن شام کو گھر کے لان میں فٹبال کھیلنے لگا۔ اس نے ثمرہ کو بھی کھیلنے کی دعوت دی۔ وہ بھی خوش ہو کر احسن کے ساتھ کھیلنے لگ گئی۔ فٹبال کے پیچھے بھاگتے ہوئے ،احسن کا پاؤں پھسلا اور وہ زمین پر گر گیا۔
ثمرہ فوراً اس کے پاس آئی اسے سہارا دے کر اٹھنے میں مدد دی اور سب کو احسن کی چوٹ کے متعلق بتایا۔ احسن نے دل سے ثمرہ کا شکریہ ادا کیا جس نے دوسری مرتبہ احسن کی مدد کی تھی ۔
احسن کو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا تھا کہ ثمرہ کتنی اچھی لڑکی ہے اور وہ خود کتنا برا لڑکا ہے۔
احسن نے ثمرہ سے فوراً معافی مانگی۔ ثمرہ نے احسن کو معاف کر دیا۔ اب وہ دونوں اچھے دوست بن گئے تھے اور روزانہ ایک ساتھ کھیلتے تھے۔

ایک تبصرہ چھوڑ دو