گونیہ سے مقابلہ (کہانی ) تحریر: افراح خان، مانسہرہ

این جی او کے سربراہ نے بتایا کہ یہ ایک خاص قسم کا وائرس ہے جس کا نام " چکن گونیہ " ہے۔

21

احمد ساتویں جماعت کا طالب علم ہے۔ اس کا تعلق ایک پسماندہ علاقے سے ہے۔ اس کے گاؤں میں اب تک کوئی چھوٹی سی ہسپتال یا ڈسپنسری نہیں بنی تھی۔ گاؤں کے لوگ ڈاکٹروں سے علاج کروانا اچھا نہیں سمجھتے تھے۔ گاؤں میں ایک بزرگ حکیم بابا نے اپنے گھر کے ساتھ ہی چھوٹی سی دکان ڈالی ہوئی تھی ،جہاں ہر آنے والے مریضوں کو ہر قسم کی بیماری کے لیے سبز اور سیاہ رنگ کی چھوٹی چھوٹی گولیوں سے بنی دوا دے دی جاتی اور ساتھ ہی حکیم صاحب یہ نصیحت بھی کرتے کہ یہ دوا صبح ،دوپہر ،شام کھانے سے آرام آئے گا۔ گاؤں کے سادہ لوح لوگ حکیم بابا کی کہی گئی باتوں پر آنکھیں بند کر کے عمل کرتے اور بیماری بڑھ جانے کے باوجود تکلیف برداشت کر لیتے مگر شہر اچھے ڈاکٹر کے پاس نہیں جاتے تھے۔
احمد حیران ہونے کے ساتھ ساتھ لوگوں کی عقل پر افسوس بھی کرتا جو کیسے اتنے سالوں سے بوڑھے حکیم کے ہاتھوں بےوقوف بن رہے تھے۔
احمد کی بچپن سے خواہش تھی کہ وہ بھی بڑا ہو کر پڑھ لکھ کے ڈاکٹر بنے اور اپنے گاؤں میں ہسپتال بنائے ،مگر ان حالات میں اسے اپنی خواہش پوری ہونے کی امید نظر نہیں آ رہی تھی۔ گاؤں کے دوسرے بچوں کے والدین کی طرح اس کے امی ابو بھی چاہتے تھے ، وہ آٹھویں جماعت کا امتحان پاس کرنے کے بعد چوہدری جی کی زمینوں پر کھیتی باڑی کرے اور بوڑھے ماں باپ کا سہارا بنے گا۔
احمد کی سوچ اس کے والدین کے برعکس تھی۔ وہ خوب دل لگا کر پڑھتا اور ہر سال اچھے نمبر حاصل کر کے پاس ہوتا تھا۔
اس کے دونوں دوست قاسم اور ذیشان بھی پڑھائی میں اچھے تھے۔ وہ بھی احمد کی طرح پڑھ لکھ کر کچھ بننا چاہتے تھے۔ گاؤں کے چوہدری صاحب کسی کو بھی اعلیٰ تعلیم کے لیے شہر جانے نہیں دیتے تھے جو بچہ بھی مڈل کا امتحان پاس کرتا ، وہ چوہدری صاحب کے پاس جا کر اپنے لیے زمین کا ٹکڑا لیتا۔ جس پر وہ محنت سے فصل کاشت کرتا اور اس فصل کا زیادہ تر حصہ چوہدری صاحب کو مل جاتا تھا جبکہ تھوڑی فصل کاشتکار کو بھی ملتی تھی جس سے وہ پورا سال گزارا کرتا تھا۔

ایک دن احمد اسکول سے واپس آیا ،اس کی امی بستر پہ بیمار پڑی تھیں۔ احمد فوراً سے حکیم بابا کے پاس گیا اور دوا لا کر امی کو کھلائی مگر بخار پھر بھی نہیں اترا۔ بخار کے ساتھ جسم میں درد بھی بڑھتا جاتا تھا۔ اس نے دیکھا کہ امی کے ہاتھ پاؤں پر سوزش آ گئی ہے اور وہ چل بھی نہیں سکتی تھیں۔ اگلے دن احمد اسکول جانے سے پہلے پڑوس سے قاسم کی امی کو بلا لایا کہ وہ اس کی امی کا خیال رکھیں۔ دوپہر تک واپس لوٹ کر احمد نے قاسم کی امی کا شکریہ ادا کیا اور اپنی امی کے پاس آ گیا جن کا بخار اب تک نہیں ٹوٹا تھا اور جسم کا درد بھی جوں کا توں تھا۔ احمد نے حکیم بابا کی دوا ایک بار پھر ماں کو کھلائی اور خود اسکول کا کام کرنے لگا۔ شام کو اس کا دوست قاسم اس سے ملنے آیا اور قاسم نے بتایا کہ اس کی امی کو بھی بخار ہو گیا ہے اور بیماری کی علامات احمد کی امی کے بخار سے ملتی جلتی ہیں۔
احمد اب صحیح معنوں میں پریشان ہو گیا تھا۔ یہ بخار دیکھتے ہی دیکھتے پورے گاؤں میں پھیل گیا اور ہر آدمی جو دوسرے بیمار کو ملنے آتا واپس جا کر خود بھی بیمار ہو جاتا ساتھ میں گھر کے باقی افراد کو بھی بیمار کر دیتا تھا۔
پورے گاؤں میں بیماری پھیلنے کی وجہ سے حکیم بابا کی لاٹری نکل آئی تھی۔ گاؤں کا ہر فرد ان سے دوائی لے رہا تھا اور آرام نہیں آ رہا تھا۔
احمد ذیشان اور قاسم نے آپس میں میٹنگ رکھی جس میں اس بیماری پر غور و فکر کی جائے گی۔
احمد!! ” میں نے نوٹ کیا ہے کہ یہ بخار تیزی سے بڑی عمر کے افراد میں پھیل رہا ہے اور کم عمر بچوں کو متاثر نہیں کر رہا”
قاسم!! ” میں نے یہ بھی نوٹ کیا ہے بیمار ہونے والے تمام لوگوں کے ہاتھ پاؤں اور ہڈیوں کے جوڑوں پر سوجن ہوتی ہے جس میں شدید درد کے باعث وہ چلنے پھرنے سے رہ جاتے ہیں”
ذیشان!! ” میں نے سائنس کی کتاب میں پڑھا تھا کہ ایسی بیماریاں کسی وائرس کے پھیلنے کی وجہ سے ہوتی ہیں اور ایک سے دوسرے کو لگنے لگتی ہیں”
میرا خیال ہے ہمیں ہیڈ ماسٹر صاحب سے بات کرنی چاہیے جو اس بارے میں ہمیں بہتر مشورہ دے سکتے ہیں۔ احمد نے آخر میں تجویز پیش کی تو سب نے اس پر اتفاق کیا اور ہیڈ ماسٹر صاحب سے ملنے پہنچ گئے۔
ہیڈ ماسٹر صاحب نے تینوں بچوں کی بات غور سے سنی تھی اور شہر سے اپنے دوست کو بلوایا جو ایک این جی او سے منسلک تھے۔
احمد اور اس کے دوستوں نے چوہدری صاحب کے علم میں لائے بغیر رازداری سے این جی او کے ساتھ مل کر ایک میڈیکل کیمپ قائم کیا اور گھر گھر جا کر لوگوں کو آنے کے لیے منایا۔ شروع شروع میں لوگ ان کی بات نہیں سنتے تھے اور حکیم بابا بھی بہت مخالفت میں بولتے تھے مگر جب احمد ،قاسم اور ذیشان کے گھرانوں نے علاج کے بعد مثبت نتائج کا بتایا تو سب لوگ میڈیکل کیمپ میں جانے لگے تھے اور تیزی سے صحت یاب ہو رہے تھے۔
ایک مہینے بعد کیمپ کے اختتام پر این جی او کے سربراہان نے چھوٹی سی تقریب منعقد کروائی اور سبھی گاؤں والوں کو آنے کی دعوت دی۔
این جی او کے سربراہ نے بتایا کہ یہ ایک خاص قسم کا وائرس ہے جس کا نام ” چکن گونیہ ” ہے۔
یہ جانوروں سے پیدا ہوتا ہے اور اس کی علامات میں تیز بخار ، جسم اور ہڈیوں میں درد، کھانے کا ذائقہ محسوس نہیں ہونا اور جسم میں خون کی کمی شامل ہیں۔
بڑی عمر کے افراد کو بخار کے ساتھ ہڈیوں میں درد رہتا ہے جبک بچوں کو صرف بخار اور جسمانی کمزوری ہو جاتی ہے۔
بخار اتر جانے کے بعد بھی جسم میں درد کئی مہینے رہتا ہے۔ اس بخار میں ایسی خوراک کھانی چاہئیے جو خون اور ہڈیوں کا کیلشیم بڑھائے۔
تقریر کے اختتام پر انہوں نے احمد اور اس کے دوستوں کی بہادری کو سراہتے ہوئے بتایا کہ کیسے ان تینوں بچوں نے سمجھداری سے کام لیتے ہوئے گاؤں والوں کی مدد کی ہے۔
انعام کے طور پر ان تینوں کی اعلیٰ تعلیم کا خرچ بھی این جی او اٹھائے گی۔ گاؤں والوں نے انہیں خوشی سے شاباش دی اور شکریہ ادا کیا۔
احمد جب گھر واپس لوٹا تو اس کی امی نے فخر سے اسے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے اس کا ماتھا چوم لیا اور وعدہ کیا کہ وہ اسے ضرور ڈاکٹر بنائیں گی۔
احمد دل ہی دل میں بہت خوش ہوا کہ کیسے اس کی چھوٹی سی نیکی سے اس کی اتنی بڑی خواہش پوری ہو گئی ہے۔ اسے اب پہلے سے بھی زیادہ محنت کرنی تھی اور اچھے نمبر حاصل کرنے تھے تاکہ اس کا داخلہ آسانی سے میڈیکل کالج میں ہو سکے۔ وہ دن دور نہیں جب وہ کامیاب ڈاکٹر بن کر اپنی منزل پر پہنچ جائے گا۔

ایک تبصرہ چھوڑ دو