قومی مجرموں کو مسیحا نہ سمجھا جائے تحریر: ظفر اقبال ظفر

مجبور عوام کے سامنے اصلاح و ترقی کا میدان تو موجود ہے

40

ایک پاکستانیوں کی اکثریت خود افلاس کا شکار دوسرا میرا ملک قرض کے ساتھ طرح طرح کے عذابوں میں مبتلا تیسرا اس کے سیاستدان اس کا وجود بلندکرنے کے لیے غریبوں کوبنیادوں میں دفن کرنا جائز سمجھتے ہیں یعنی وطن کے نام پر شہریوں کی زندگی حرام کرکے جنت نماسر زمین کو جہنم بنانا سیاستدان اپنا قبلہ سمجھتے ہیں وطن سے بنا کچھ لئے سب کچھ وقف کر دینا اس سرزمین پر رہنے کا حق ادا کرنے جیسا ہے مگر اس محب وطنی کے جذبے کی حامل عوام کو کب اس کا کوئی تمغہ ملا ہے سارے اعزاز تو وطن لوٹنے والوں کوملتے ہیں نعرے بھی انہی کے لگتے ہیں جنہوں نے اپنی لوٹ مار پر عوامی احساس اورمحب وطنی کا خلاف چڑھایا ہوتا ہے اور اندر سے وطن ہی نہیں انسانیت فروشی کا اصلی چہرہ چھپاکر ہر اُس مخالف طاقت کو بُرا بھلا کہہ رہے ہوتے ہیں جنہوں نے ان کی بادشاہت پر قبضہ کر لیا ہوتا ہے۔

مجھے یہ بتانے میں کوئی شرمندگی نہیں ہو رہی کہ ہم غریب لوگ وطن اور عوام فروش نہیں ہیں بلکہ ایک سفید پوش شرفاء میں سے ہیں جو غیرت وعزت نفس کے باعث کہیں دست سوال نہیں پھیلاتے جبکہ قلیل آمدنیوں میں ان کا گزارہ بھی نہیں ہوتا خونی اور انسانی رشتوں کے تقاضوں میں ناکامی کی زلت مجبوری کو قصور وار ٹھہرانے کی بجائے انہیں کوس رہی ہوتی ہے بلکہ سوہان رُوح بنی ہوئی ہے وطن و عوام کو لوٹنے کی سوچوں سے پاک ان افلاس زدہ شہریوں کے دن پسینے میں شرابور اور راتیں فکر مندی میں گزرتی ہیں ان کو اسی حالات کی دلدل میں جکڑنے والے عوامی و ملکی غداروں کے بدنوں پر سے محب وطنی کا لبادہ اُتارنے کی آج تک کسی کو ہمت نہیں ہوئی۔کرپٹ نااہل سیاستدان اور آئین کی خلاف ورزی کرنے والے سرکاری ملازمین جو وطن کی ترقی اور امن کے نام پرلاکھوں انسانوں کو بے روزگاری کے جرم میں پھنسا کر مہنگائی کی ہتھکڑی لگائے اس ریاست میں پیدا ہونے کے مجرم بنا کر ملکی ترقی کے مقابلے میں مارنے کی روایات چلانے کے بانی ہیں۔شریف لاچار مجبور عوام کے سامنے اصلاح و ترقی کا میدان تو موجود ہے مگر حقوق کے حصول میں جیت مسلسل مفاد پرستوں کی ہوتی ہے جن کی غرض کے پیٹ جتنا ڈالوپھیلتے چلے جاتے ہیں اور ہوس کی بھوک شدت سے بڑھتی چلی جاتی ہے یہاں تک کہ انسانیت کا سارا کنبہ بھی کھا کر دکاڑ نہ ماریں۔

شہریوں کی زندگیوں کو بد صورت کرکے ملک کو خوبصورت بنانے والے قابض لوگوں کے ہوتے ہوئے کسی غریب کا خاندان فاقے کاٹ کر اپنے کسی بچے کو تعلیم دلا کر حکام بالاکے جبڑوں میں چمٹا ڈال کر نوکری کا زریعہ نکال بھی لیتا ہے تو اسے آگے چلنے کے لیے افسران کے لیے حرام اکھٹا کرنے والے نوکر کا روپ دھارنا پڑتا ہے ورنہ یہ سسٹم کرپشن نہ کرنے والے کو کرپٹ ثابت کرتے دیر نہیں لگاتا۔اور بعض ضرورت مند سیدھے راستے سے نوکری کے لیے ڈگریاں اور حلال کی کمائی حرام کے منہ میں رشوت بنا کر دینے کے باوجود فراڈ کا شکار ہو جاتے ہیں اورضرورت کے حصول میں ناکام ہو کر نچے طبقے سے خونی انقلاب کی راہیں کھودتے ہوئے بے حس معاشرے کو متاثر کرنے میں معذور رہتے ہیں کہ ان کی پشت پناہی میں بھرپور علمی اور فکری دماغ نہیں ہوتے۔اس کی پیچھے بھی تو بلند مقام خوفزادہ طبقے کی سازش ہے کہ ملک میں تعلیم کو عام نہ ہونے دیا جائے اورمہنگے تعلیمی اخراجات بھی تعلیم کے رستے میں ایک دیوار ہیں میں نے خود کو اسی چھوٹے طبقے کا ایک فردمحسوس کیا لیکن اس فکر میں رہا کہ کسی طرح پورے معاشرے پر اپنی اعضاشکنی طاری کر دُوں۔کیونکہ مجھے نا جانے کیوں یقین ہے کہ اگر جہالت زدہ طبقے کو تعلیمی ہتھیاروں سے لیس کرکے عوامی ترقی پر قابض لوگوں کے خلاف محاذ پر سامنے لایا جائے تو ملک و انسانیت کو حاضر خواہ فائدہ ہو سکتا ہے پھر اپنے اردگرد اوپر نیچے دائیں بائیں عوامی اور سرکاری اطراف میں نظر مارتا ہوں تو جگہ جگہ راہ میں مفاد پرستوں کی شکل میں لوہے کے پھاٹک لگے ہوئے ہوں جن سے شکست کے امکانات کے فاصلے طویل ہوتے ہیں اور میں دلی طور پر افسردہ ہو کر رہ جاتا ہوں۔

ملک میں کوئی جماعت ایسی نظر نہیں آتی جواوپر سے نیچے تک سو فیصد صادق وامین ہو کر محب عوام کے جذبے سے سرشار خلوص نیت سے نچلے طبقے کوترقی یافتہ بنانے کی قابلیت رکھتی ہوپس ماندہ افراد کے لیے بہبود کی راہ جانتی ہومیں مایوس نہیں ہوں کیونکہ مجھے پورایقین ہے اگر اس ملک کی عوام کی تربیت کی جائے توپاکستانیت کی محب وطنی لاکھوں لیڈر سے زیادہ وسائل پیدا کر سکتی ہے مگر یہ چند سیاسی دوکانیں کھولے لیڈر کب چاہیں گے کہ اس ملک میں عوامی حکمرانی ہو اسی لیے انہوں نے عوام کوسیاسی غلامی کی وباء میں گمراہ کیا ہواہے ملک و عوام کی خدمت کرنے کے لیے سیاسی جماعت کی منسلکی اجازت و رضامندگی کیوں ضروری ہے کیا اس ملک پر انہی کا حق ہے کیا بندہ اسلامیت یا پاکستانیت کے جذبے سے خدمت نہیں کر سکتا؟یہی تو وہ سازش وگمراہی ہے کہ جس میں بھٹکے ہوئے پاکستانیوں کو سیاسی مریض بناکر ملک و عوام سے زیادہ لیڈر اور اس کی اولاد کو پاکستان کا مالک تصور کیا جاتا ہے۔عوام اپنا خون پسینہ پیسہ اس ملک پر قربان کرتی ہے اور سیاستدان عوامی ترقی کے نعرے لگاتے لگاتے ذاتی خاندانی ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے بیرون ملک تک اثاثے بنا لیتے ہیں جبکہ عوام مہنگائی اور ملک قرضوں کی دلدل میں پھنستے چلے جاتے ہیں۔

مجھے دُکھ ہوتا ہے کہ ملکی دفاع کے ادارے جو دنیا کی کسی بھی طاقت سے جیتنے کی اصلاحیت رکھتے ہیں تو ملک میں اندرونی دشمنوں سے لڑ کرغریب عوام کے تاریک راستوں سے اندھیرے مٹانے میں کامیابی کیوں نہیں دیکھاتے۔مانتا ہوں اس کرپٹ سسٹم سے آزادی پسندوں کی مخالفت میں بڑے بڑے پتھروں نے راستے روکے ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمارے دفاعی ادارے اتنے بھی کمزور نہیں کہ ان کے ہاتھوں یرغمال بنے رہیں۔آج بھی ہر شہر کے چوک میں سیاسی شعبدہ باز اپنی خدمات کی ڈگڈگی بجاتا اور ہر اقتدار کا طلبگارسپیرا یہاں اپنا پٹارا کھول کر بین کا لہرا شروع کرتا ہے جس سے گلی محلے کے سنپولے مست ہو جاتے ہیں لیکن یہ معصوم حاجت مند طبقہ اس سے بے خبر ہے کہ سانپ کا ڈسا ہوا تو دوا دارو یا جھاڑ پھونک سے بچ جاتا ہے لیکن ان سپیروں کا ڈسا ہوا پانی بھی نہیں مانگتا اوران سپیروں کے دنیا بھر میں بڑے بڑے ادارے مختلف ناموں سے ملک کے خلاف زہر پھیلاتے پھر رہے ہیں کاش کوئی رائی کا پہاڑ بن کر ان پر حملہ آور ہو جائے

ایک تبصرہ چھوڑ دو