ایک ہفتے میں سرزمین مظفر گڑھ کے 6بہادر سپوت مادر وطن پر قربان تحریر:مختار اجمل بھٹی

اے وطن تو نے پکار اتو لہو کھول اٹھا تیرے بیٹے تیر ے جانباز چلے آتے ہیں

43

وطن سے محبت ایک ایسا جذبہ ہے جو ہر انسان کے رگ وپے میں بسا ہوتا ہے اورخوش نصیب ہیں وہ لوگ جو وطن کی حفاظت پر مامور ہوتے ہیں اور دفاع وطن کا فرض نبھاتے ہوئے اپنی جان ملک وملت پر قربان کر دیتے ہیں سرزمین مظفر گڑھ کو گذشتہ دنوں یہ اعزاز حاصل ہوا کہ اس کے 6بہادر بیٹے ایک ہی ہفتہ میں وطن کے دفاع وسلامتی پر قربان ہوگئے پاکستان ائیرفورس کا ایک چھوٹاتربیتی طیارہ معمول کی پرواز کے دوران مردان کے قریب گر کر تباہ ہو گیا

واقعہ میں شہید ہونے والے پائلٹ فہد امین سیوڑہ ضلع مظفرگڑھ کے علاقے خانگڑھ کے نواحی موضع چوہڑ پورسے تعلق رکھتے تھے شہید کے والد ملک محمد امین سیوڑہ واپڈا کے ریٹائرڈ ملازم ہیں جسد خاکی کو پورے فوجی اعزاز کے ساتھ آبائی گاؤں لایا گیا نماز جنازہ میں پاک فضائیہ،ضلعی انتظامیہ کے افسران اور معززین علاقہ نے شرکت کی اس موقع پر پاک فضائیہ کے چاق وچوبند دستے نے شہید کی آخری آرام گاہ کو گارڈ آف آنرز پیش کیاجنوبی وزیرستان میں ملک دشمن دہشت گردوں کے خلاف جاری

آپریشن میں مظفر گڑھ سے تعلق رکھنے والے تین جوان سوارملک محمد شیراز راں،سوار اشفاق حسین چانڈیہ بلوچ،سوار محمد انتظار شہید ہو گئے شہید ہونے والے فوجی جوانوں کے قومی پرچم میں لپٹے جسد خاکی کے تابوت جب ان کے آبائی علاقوں میں پہنچے تو فضا پاکستان زندہ باد، پاک فوج زندہ بادکے نعروں سے گونج اٹھی،سوارملک محمد شیراز راں کی نمازجنازہ رحمن کالونی گجرات میں اد ا کی گئی جس میں پاک فوج کے بریگیڈئیرنسیم عباس،کرنل کوثر جاوید،کیپٹن محی الدین،ڈی ایس پی سید اعجاز بخاری ودیگر سول افسران نے شرکت کی بعد ازاں سوارملک محمد شیراز راں کی قومی پرچم میں لپٹے جسد خا کی کے تابوت کی تدفین مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ مقامی قبرستان پیر حاجی اسحاق میں کی گئی سوارملک محمد شیراز راں کا تعلق پاک فوج کی یونٹ 4کیولری سے تھا وہ گھر کے واحد کفیل تھے

اور ان کے والد محمد حسین راں کچھ عرصہ قبل وفات پا گئے تھے شہید سوار اشفاق حسین چانڈیہ بلوچ کی نماز جنازہ دربار پیر محب جہانیاں میں ادا کی گئی اور ان کے قومی پرچم میں لپٹے جسد خا کی کے تابوت کی تدفین مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ دربار سے ملحقہ قبرستان میں کردی گئی نمازہ جنازہ میں ڈپٹی کمشنر مظفرگڑھ انجنیئرامجد شعیب ترین،پاک فوج کے افسران،ایس پی انوسٹی گیشن، صوبائی پارلیمانی سیکرٹری سردار عون حمید ڈوگرسمیت معززین علاقہ موجود تھے سوار محمد انتظارشہیدکی نماز جنازہ بستی سنکی میں اد اکی گئی نماز جنازہ میں فوج کے سینئرافسران، ڈی ایس پی سٹی بخت خان اور مقامی لوگوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی ان کے قومی پرچم میں لپٹے جسد خاکی کے تابوت کی پورے فوجی اعزاز کے ساتھ مقامی قبرستان پیر گانہور شریف میں تدفین کی گئی

سوار محمد انتظار شہید کا تعلق بھی یونٹ 4کیولری سے تھا،غازی گھاٹ کے موضع چن والا کی بستی المانی کا رہائشی نائب صوبیدارمحمد شفیق المانی بھی وزیرستان میں دوران آپریشن دشمن سے مقابلہ کرتے ہوئے وطن پر قربان ہو گیانائب صوبیدارمحمد شفیق المانی نے میٹرک تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد 2002ء میں پاک آرمی جوائن کی انھوں نے باجوڑ، کرم ایجنسی سمیت کئی علاقوں میں وطن دشمن دہشت گردوں سے مقابلہ کیا ان کی سروس 19سال 9ماہ ہو چکی تھی اورانہیں اب نائب صوبیدار کے عہدے پرترقی مل گئی تھی

شہید نائب صوبیدارمحمد شفیق المانی کی عمر 41سال 5ماہ تھی ان کانماز جنازہ امن چوک غازیگھاٹ میں ادا کیا گیابعد ازاں ان کے جسد خاکی کےتابوت جو کہ قومی پرچم میں لپٹا ہوا تھا کی تدفین پورے فوجی اعزاز کے ساتھ بستی المانی کے مقامی قبرستان میں کر دی گئی نائب صوبیدارمحمد شفیق المانی کے سوگواران میں بیوہ، دو بیٹے اورچار بیٹیاں ہیں جبکہ ان کے بوڑھے والدین ابھی تک زندہ ہیں

نائب صوبیدارمحمد شفیق المانی کے والد محمد شفیع المانی نے اپنے مختصر خطاب میں کہا کہ مجھے فخر ہے کہ میرے بیٹے نے ملک وقوم کی خاطراپنی جان قربان کی ضلع مظفرگڑھ کا ایک اور سپوت بلوچستان ضلع آوران میں وطن دشمن دہشت گردوں سے لڑتا ہوا شہید ہو گیا نماز جنازہ میں پاک فوج و سول افسران اور معززین علاقہ کی کثیر تعداد موجود تھی شہید ہونے والے لارنس حوالدار منیر احمد کی تدفین بھی مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ مقامی قبرستان مسو شاہ میں کی گئی پاک فوج کے افسران شہید کے چھ سالہ بیٹے کی انگلی پکڑ کر اپنے ساتھ شہید کی آخری آرام گاہ پر لائے اور کمسن بچے مبین منیرکو اس کے شہید والد کا یادگاری سوینیئرپیش کیا

مقامی وسیب کے لوگوں نے پاک فوج کے افسران کی شہید کے کمسن بچے سے محبت دیکھ کر پاک فوج کو خراج تحسین پیش کیا اور پاک فوج زندہ باد کے نعرے بھی لگائے شہیدحوالدار منیر احمد کے والد کچھ عرصہ قبل فوت ہوگئے تھے جبکہ شہید کے پسماندگان میں بیوہ،چھ سالہ بیٹا،ماں دو بھائی اور تین بہنیں شامل ہیں ایک ہفتہ میں شہید ہونے والے مظفرگڑھ کے ان بہادرسپوتوں کی آخری آرام گاہ پرصدر مملکت،آرمی چیف اور کورکمانڈر کی طرف سے پھولوں کی چادریں چڑھا کر سلامی بھی دی گئی،

بلاشبہ قابل فخر ہیں وہ ماں باپ جنھوں نے ان بہادر بیٹوں کی پرورش کی اور انہیں وطن سے محبت اورو فا کرنے کا درس دیااور اسی وفا کو نبھاتے ہوئے وہ ملک و ملت پر قربان ہوکرہمیشہ ہمیشہ کے لیے شہید کے منصب پر فائز ہوگئے بلاشبہ انھوں نے مادر وطن سے محبت کا حق ادا کردیا۔

اے وطن تو نے پکار اتو لہو کھول اٹھا
تیرے بیٹے تیر ے جانباز چلے آتے ہیں

ایک تبصرہ چھوڑ دو