اساتذہ کرام کی شفقت تحریر: راشدہ سعدیہ

فرد سے افراد تک، قوم سے اقوام تک استاد ہی معمار ہوتے ہیں۔

17

"ہم فری نہیں پڑھتے ،فیس دیتے ہیں”
"یہ استاد ہماری ہی فیس سے تنخواہ لیتے ہیں”
"ہمیں جتنی تنخواہ ملتی ہے بس اتنا ہی پڑھا سکتے ہیں”
"یہ شاگرد ہیں، کوئی سگی اولاد نہیں کہ ان کے لاڈ اٹھائیں”

یہ جملے بذات خود اساتذہ اور شاگردوں سے سنے۔ اس وقت دل اداس ہوا کہ دونوں بہت خوبصورت رشتے سے منسلک ہوکر بھی ایک دوسرے کی قدر نہیں کرتے اور اس ںےقدری کی وجہ اساتذہ کرام اور شاگردوں کا آپس میں رسمی سا تعلق ہے۔ جو درسگاہ کے دروازے سے شروع ہوکر وہیں ختم ہوجاتا ہے۔

یہ بات اظہر من الشمس کی طرح ہے کہ فرد سے افراد تک، قوم سے اقوام تک استاد ہی معمار ہوتے ہیں۔ وہی ملک ترقی پذیر ہیں جہاں اساتذہ کرام شاگردوں سے مخلص ہیں۔
میرے نزدیک استاد ہی انسان کی کامیاب اور پختہ ذہن سازی کرسکتا ہے۔

اگر استاد دیانتدار ہوگا ، شاگرد دیانتداری سیکھےگا۔ وہ جس شعبے میں بھی جاۓ گا دیانتداری اس کی اولین ترجیح ہوگی۔ جھوٹ ، فریب اور لوٹ مار سے خود بھی دور رہے گا اور اپنے اردگرد لوگوں کو بھی باز رکھے گا۔

انسان کے پہلے اساتذہ اس کے والدین ہوتے ہیں۔ ان کی گود میں پلتے ، بڑھتے، پرورش پاتے وہ بہت کچھ سیکھتا ہے۔
غور کرنے کی بات ہے، جہاں اساتذہ کو روحانی والدین کا درجہ دیا گیا ہے وہیں والدین کی گود کو پہلی درسگاہ کا شرف بخشاگیا۔ یعنی انسان کو بہتر بنانے کا واحد راستہ ” اخلاص سے تعلیم وترتبیت” کا ہے۔ یہ کام والدین اور اساتذہ کے علاوہ کوئی نہیں کرسکتا۔

باری تعالیٰ نے والدین اور اساتذہ کو شفقت کا مادہ عطا کیا لیکن اگر یہ دونوں دوران تعلیم و تربیت شفقت کو بالائے طاق رکھ دیں تو دل دہلا دینے والے واقعات جنم لیتے ہیں۔ کہیں والدین اپنے لخت جگر کو زہر دیتے پاۓ جاتے ہیں۔تو کہیں اساتذہ شاگردوں کی عمر بھر کی معذوری اور ذلت کا سبب بن جاتے ہیں۔

غور کیجیے! بچہ کے لیے پہلی درسگاہ "ماں کی گود” بنی۔ اس سے استاد اور شاگرد کے درمیان تعلق کی قربت معلوم ہوتی ہے۔تاکہ استاد شاگرد کی رگ رگ سے ایک ماں کی طرح واقف ہو۔
یہی قربت شاگرد کو استاد جیسا بننے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ جناب خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں کو (ان کے شاگرد) صحابہ کرام قربت و شفقت کی وجہ سے ہی فورا مان لیا کرتے تھے۔ ان کی ہر ہر ادا اپنے استاد یعنی جناب خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم جیسی تھی۔

دکھ تو یہ ہے کہ مسلمانوں کی یہ صفات غیر مسلم افراد نے اپنا لیں۔ ان کا شاگرد قولا و عملا استاد جیسا ہوتا ہے۔ سارا سال وہ اساتذہ کا احترام تو کرتے ہیں مگر انہوں نے ایک دن اس لیے مختص کیا کہ جو لوگ فارغ التحصیل ہیں وہ بھی اس دن اپنے اساتذہ کے پاس آسکیں ، ان سے دعائیں لے سکیں۔

مگر افسوس ! ہمارے تعلیمی اداروں میں استاد اور شاگرد کے درمیان ایک رسمی سا تعلق رہتا ہے۔ جہاں دونوں سجھتے ہیں کہ استاد کا کام صرف پڑھانا ہوتا ہے۔ اب شاگرد پڑھے یا پھاڑے اسے کوئی فرق نہیں پڑنا چاہیے۔
اس دوری کا ہی نتیجہ ہے کہ ساری زندگی ان سے دعائیں لینے کے بجاۓ، ان کا مشکور رہنے کے بجاۓ، ان کے جانے پہ خوشیاں منائی جاتی ہیں۔

البتہ یورپ کا دیکھا دیکھی ہم نے بھی ایک دن اساتذہ کے نام کیا اور اسی کو حق ادائی کے لیےکافی بھی سمجھ لیا۔ اسی طرح اساتذہ نے بھی ہفتے کے کچھ دن ” اسٹوڈنٹس ڈیز” کے نام سے منسوب کردیے۔ جن میں انہیں اپنے جیسا دکھنے اور پڑھانے کا کہا جاتا ہے۔ ان دنوں کی جانے والی پڑھائی اصلی اساتذہ کو دوبارہ کروانی پڑتی ہے کیونکہ وہ دن بچوں اور اساتذہ کے لیےفقط شغل میلہ جیسے ہوتے ہیں۔ بچے نت نئے ملبوسات پہنتے ہیں۔ ہاتھوں میں چمکتے موبائل ، وقفہ میں کھانوں سے بھری پلیٹیں۔ اسکول نہ ہوا ، گویا سیر و تفریح کا مقام ہوا۔ اس سب سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ بچوں نے شعبہ تدریس کو جو سمجھا وہی اپنے اساتذہ کے سامنے پیش کردیا۔

یہاں یہ بات بھی بتاتی چلوں کہ عصری علوم و فنون کی درسگاہوں کی بنسبت دینی درسگاہوں میں ابھی اساتذہ کا احترام باقی ہے۔ وہاں اب تک کوئی خاص دن استاد یا شاگرد کے لیے نہیں ہے۔ زندگی کے سبھی دن ، سبھی لمحے استاد اور شاگرد کے لیے ہیں۔
چشم دید گواہ ہیں کہ مدارس کے بچے موقع ملتے ہی چھپ کر اپنے اساتذہ کے جوتے ، گاڑی ، رومال، ٹوپی (غرض ہر وہ چیز جو وہ پالیں) صاف کرتے ہیں۔ چھپ کر اس لیے ایسا کرتے ہیں کہ ان کے اساتذہ بچوں کو رحمان کا مہمان کہتے ہیں۔ ان سے کام لینے کے بجاۓ وہ خود بچوں کے کام کرتے ہیں۔ گویا استاد اور شاگرد دونوں ایک دوسرے سے محبت و مودت کرتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ بچہ بہت جلد مدرسے کے ماحول کا عادی ہوتا ہے اور اس کے قول و عمل سے "مدرسے کا بچہ” چھلکتا ہے۔
مجھ خاک سی انسان کو "اچھا انسان” بنانے میں والدین کے بعد میرے اساتذہ کرام بالخصوص دینی اساتذہ کا بڑا کردار رہا ہے۔ (اللہ کریم سب کو اپنی بارگاہ سے بہت اچھا اجر عطا کریں آمین۔)
کیا کیا لکھوں اور کیا چھوڑ دوں؟ کے مصداق آخر اساتذہ کرام سے بس اتنا کہنا چاہوں گی کہ خدارا اپنے شاگردوں کو بیگانہ ہونے مت دیں تاکہ وہ آپ جیسا آسانی سے بنیں۔ بالخصوص دینی سوچ رکھنے والے افراد جو عصری درسگاہوں میں ہیں ، خدارا شاگرد کو اپنا حقیقی بچہ جیسا مان لیں۔ وہ بچہ آپ کی وجہ سے مغربی سوچ رکھنے والے افراد کے ہاتھوں خراب نہیں ہوگا۔ یہی بات ذریعہ نجات بھی ہوگی۔ ان شاءاللہ۔

ایک تبصرہ چھوڑ دو