کورونا نے بھارتی معیشت تباہ کر دی، خواتین زیور اور منگل سوتر بیچنے پر مجبور

3

لاکھوں بھارتی شہری غربت، مہنگائی اور بے روزگاری سے لڑنے کیلئے یا تو اپنے زیورات بیچ رہے ہیں یا انہیں گروی رکھ کر قرض لے رہے ہیں۔

بھارت کے مرکزی بینک کے اعداد وشمار کے مطابق 2021ء کے ابتدائی آٹھ ماہ میں بینکوں نے سونے کے زیورات کے عوض لوگوں کو 4710 ارب روپے کے قرضے دئیے ہیں جو گزشتہ برسوں کی نسبت 74 فی صد زیادہ ہیں۔

بھارتی یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق کرونا وائرس کے سبب کاروباری بندشوں اور بے روزگاری نے 23 کروڑ بھارتیوں کو غربت کی چکی میں دھکیل دیا اور انہیں  اشیائے خوردونوش کے اخراجات، بچوں کی فیسز اور ہسپتالوں کے بلز کے اخراجات  پورے کرنے کیلئے  در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور کر دیا۔ معاشی ماہرین کے مطابق تاریخی غربت پسماندگی سے نبردآزما بھارتی عوام کی مشکلات میں اضافہ بھارت میں حالیہ مہنگائی کی بدترین لہر نے کر دیا ہے جس کے بعد بجلی، تیل اور دیگر اشیائے ضروریہ صرف مزید مہنگی نہیں بلکہ عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو گئی ہیں۔

بھارتی بینکوں کے مطابق کئی قرض دہندگان قسطیں ادا کرنے کے قابل بھی نہیں رہے ،جس کے باعث ان کا سونا نیلام کیا جا رہا ہے اور بھارتی اخبار اس قسم کی نیلامی کے نوٹسز سے بھرے پڑے ہیں۔

عالمی جریدے اے ایف پی نے ایک 45 سالہ کویتا کی کہانی شیئر کی جو کورونا لاک ڈاؤن سے پہلے گارمنٹس کا کاروبار کرتی تھی اور اس کے پاس 15 ملازمین تھے۔ پھر حالات کویتا کو اس نہج پر لے آئے کہ کرونا وائرس کے سبب معاشی مشکلات میں پھنسے ہزاروں بھارتی شہریوں کی طرح وہ بھی اپنی سب سے قیمتی شے یعنی سونے کے زیورات لیے بازار میں کھڑی تھیں اور بے چینی سے منتظر تھیں کہ سنار ان کی سب سے محبوب چیز کو کتنے میں خریدتا ہے۔ کویتا بہت دکھی تھی کیونکہ اپنی شادی سے قبل خریدے گئے سونے کے زیورات بازار میں بیچنا ان کیلئے بالکل آسان نہ تھا۔کویتا کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال کرونا وبا کے باعث بھارت میں لاک ڈاؤن ہوا تو ان کے کاروبار کو بہت نقصان پہنچا۔ جیب ایسی خالی ہوئی کہ 15 ملازمین کی تنخواہیں ادا کرنا مشکل ہو گیا، اپنے اخراجات بھی پورے کرنا مشکل ہو گئے تو ان حالات کے باعث وہ اپنے زیورات بیچنے سنار کے پاس آئی ہیں۔

عالمی جریدے اے ایف پی کا کہنا ہے کہ یہ کہانی صرف کویتا کی نہیں بلکہ ان لاکھوں بھارتی شہریوں کی ہے جو ان دنوں سونے کے زیورات فروخت کر رہے ہیں یا انہیں گروی رکھوا کر قرض لے رہے ہیں۔

 ایشیا کی تیسری بڑی معیشت اور حکومتی پالیسیوں نے ملکی معیشت کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔

ایک تبصرہ چھوڑ دو