حیدرآباد، رہائشی علاقوں میں قائم فیکٹریاں اور کارخانے صنعتی علاقوں میں منتقل نہ ہوسکے

1

حیدرآباد ( بیورو رپورٹ) سانحہ مہران ٹاؤن کراچی کے بعد حکومت سندھ نے رہائشی علاقوں میں قائم تمام صنعتوں کو منتقل کرنے کے احکامات جاری کئے تھے جس پر تاحال عمل نہیں کیاگیا، ایک ماہ بعد بھی حیدرآباد کے رہائشی علاقوں میں قائم فیکٹریاں اورکارخانے صنعتی علاقے میں منتقل نہیں کئے جاسکے، جبکہ سائٹ ایریا میں صنعتی پلاٹس پر کمرشل تعمیرات جاری ہیں، رہائشی اورگنجان آبادی والے علاقوں میں زیادہ تر مصالحہ جات، بناسپتی گھی،کپڑے ، موٹرآئل اورکولڈڈرنککےکاخانے ہیں، پولیس، فوڈ اتھارٹی، محکمہ لیبرسمیت متعلقہ اداروں کے عملے کی ملی بھگت کے باعث انسانی زندگیاں داؤ پرلگی ہوئی ہیں، سوئی گیس کمپنی، حیسکو اور واسا کی جانب سے بھی مذکورہ کارخانوں اور فیکٹریوں کو کنکشن دےدیئے گئے ہیں، سانحہ مہران ٹاؤن کراچی کے رونما ہونے کے ایک ماہ بعد بھی حکومت سندھ کے متعلقہ ادارے اور ضلعی انتظامیہ نے حیدرآباد کے رہائشی مختلف علاقوں میں قائم صنعتوں کو سائٹ ایریا میں منتقل کرنے کے لئے اقدامات نہیں کئے ہیں، حیدرآباد میں پھلیلی، پنیاری،نورانی بستی سمیت قرب وجوار کے رہائشی علاقوں میں گذشتہ کئی سالوں سے مصالحہ جات، کپڑے، خوردنی تیل وگھی، بسکٹ، کولڈ ڈرنک ودیگر مصنوعات کے کارخانے اورفیکٹریاں قائم ہیں جن کی وجہ سے نہ صرف رہائشی علاقوں میں ماحولیاتی آلودگی تیزی سے پھیل رہی ہے بلکہ گنجان آباد دیوں میں ہونے کے باعث حادثات کی صورت میں بڑے جانی ومالی نقصان کاخدشہ ہے ۔اس طرح ہالاناکہ‘ لطیف آبادنمبر 10,11,12‘ قاسم آباد، حسین آباد ودیگررہائشی علاقوں میں موٹرآئل، مصالحہ جات ، جعلی خوردنی تیل و دیگر اشیاءتیار کرنے کے کار خانےقائم ہیں۔

ایک تبصرہ چھوڑ دو