اعظم خان اورچھکے لگانے کا ہنر

بائیس سالہ بیٹسمین کی پسندیدہ اننگز کراچی میں کھیلے گئے ایک کلب میچ میں 29 چھکوں کی مدد سے 265 رنز بناناہے، نوجوان بیٹسمین کا اپنی کامیابیوں سے والد کاسر فخرسے بلند کرنے کا عزم

0 6

گزشتہ روز ناردرن کے خلاف میچ میں یہ اعظم خان کی جانب سے چھکوں کی برسات ہی تھی جس نے سندھ کی سیمی فائنل میں رسائی کو یقینی بنایا۔

 

بائیس سالہ بیٹسمین نے ایونٹ کے پہلے مرحلے میں ملتان اور پھر راولپنڈی کے میدان میں دلکش اسٹروکس لگائے۔وہ اپنی پاور ہٹنگ صلاحیتوں کی بدولت شائقین کرکٹ کی توجہ اپنی طرف مبذول کروانے میں کامیاب ہوچکے ہیں۔

 

دفاعی چیمپئن ناردرن کے خلاف کھیلے گئے گزشتہ میچ میں اعظم خان کی 43 گیندوں پر 88 رنز کی دھواں د ھار اننگز کی بدولت سندھ نے 25 رنز سے کامیابی حاصل کی تھی۔ اس کامیابی کے ساتھ ہی سندھ کی ٹیم ایونٹ کے سیمی فائنل میں رسائی حاصل کرنے والی تیسری ٹیم بن گئی۔

 

اعظم خان اب تک نیشنل ٹی ٹونٹی کپ میں 19 چھکے لگاچکے ہیں۔

 

انہوں نے ناردرن کے خلاف پہلے لیگ میچ میں 55 رنز کی اننگز کھیلی تھی۔

 

اس اننگز میں 5 چھکے اور 4 چوکے شامل تھے۔

 

اعظم خان کا کہنا ہے کہ چھکے لگانے کی یہ عادت انہوں نے کراچی کی گلیوں میں ٹیپ بال کرکٹ کھیل کراپنائی جبکہ گھر میں معین خان اور ندیم خان جیسے نامور کھلاڑیوں کی موجودگی نے بھی اس ہنر کو نکھارنے میں ان کی بہت مدد کی۔

 

اعظم خان نے کراچی میں ٹی ٹونٹی طرز پر کھیلے گئیایک کلب کرکٹ میچ 29 چھکے لگا کر شہرت حاصل کی تھی۔

 

بائیس سالہ کرکٹر کا کہنا ہے کہ جنوری 2016 میں معین خان کرکٹ اکیڈمی میں کھیلا گیاوہ یادگار میچ آج بھی کرکٹ کے میدان میں ان کا پسندیدہ لمحہ ہے، کراچی ہاکس کے خلاف کھیلے گئے اس میچ میں انہوں نے 29 چھکے اور12 چوکے لگا کر 265 رنز کی اننگز کھیلی تھی۔

 

اعظم خان کا کہنا ہے کہ انہوں نے4 یا 5 سال کی عمر میں معین خان کرکٹ اکیڈمی کے قیام کے بعد پہلی مرتبہ وہاں جاکر کرکٹ کھیلناشروع کردی تھی اور یہی اس کھیل سے متعلق ان کی پہلی یاد ہے۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ والدمعین خان اکثر انہیں بیٹنگ ٹپس دیتے رہتے ہیں اور وہ دونوں گھر میں اکٹھے بیٹھ کر پاکستان کے پرانے کرکٹ میچوں پر تبصرہ بھی کرتے ہیں۔

 

اعظم خان کا کہنا ہے کہ فی الحال فٹنس میں بہتری لانا ان کا اصل ہدف ہے، گزشتہ سال کی نسبت انہوں نے اس سال 30 کلوگرام وزن کم کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ شرجیل خان، خرم منظور اور سرفراز احمد جیسے تجربہ کار کھلاڑیوں کی سندھ کرکٹ ٹیم میں موجودگی سے انہیں بہت فائدہ ہورہا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.