کراچی میں بھی رنگ روڈ طرز کی شاہراہ تعمیر کرنے کا فیصلہ

وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا نومبر کے دوسرے ہفتے میں 39 کلو میٹر طویل ملیر ایکسپریس وے کی گراؤنڈ بریک تقریب انجام دینے کا فیصلہ، منصوبہ 2 سال میں مکمل ہوگا

0 8

وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے نومبر 2020 کے دوسرے ہفتے میں 39 کلو میٹر طویل ملیر ایکسپریس وے کی گراؤنڈ بریک تقریب انجام دینے کا فیصلہ کیا ہے

 

اور کورنگی کے لئے لنک روڈ کی تعمیر کی بھی منظوری دے دی ہے۔ انہوں نے یہ فیصلہ جمعرات کو وزیراعلیٰ ہاؤس میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) موڈ کے تحت شروع کیے جانے والے منصوبوں کا جائزہ لینے کے لئے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔

 

اجلاس میں چیف سکریٹری ممتاز شاہ ، چیئرمین پی اینڈ ڈی محمد وسیم ، ایڈمنسٹریٹر کراچی افتخار شہلوانی ،وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری ساجد جمال ابڑو ، کمشنر کراچی سہیل راجپوت ، سیکرٹری خزانہ حسن نقوی ، سیکرٹری بلدیات نجم شاہ ، چیف پی پی پی یونٹ خالدشیخ اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔

 

محکمہ سرمایہ کاری نے وزیر اعلیٰ سندھ کو بتایا کہ مراعات کا معاہدہ عمل میں آ گیا ہے۔

 

منصوبے کے لیے ایک آزاد آڈیٹر اور انجینئر مقرر کیا گیا ہے۔ معاہدوں کو حتمی شکل دی جارہی ہے اور بینکوں نے مالی کلاز کی منظوری دینا شروع کردی ہے۔

 

ملیر ایکسپریس وے 39 کلومیٹر طویل سڑک ہے جو ملیر ندی کے ساتھ ساتھ تعمیر کی جائے گی۔ یہ چار لین کیریج وے ہوگی اور اس کی اصل تکمیل کا دورانیہ 36 ماہ ہے لیکن وزیر اعلیٰ سندھ نے محکمہ سرمایہ کاری کو دو سالوں میں اس کی تعمیر مکمل کرنے کی ہدایت کی۔

 

اس منصوبے میں تین فلائی اوور اور آٹھ انڈر پاس ہوں گے۔

 

یہ منصوبہ کے پی ٹی انٹر چینج ، قیوم آباد سے شروع ہوگا اور کاٹھور کے قریب کراچی حیدرآباد موٹر وے پر ختم ہوگا۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے مشینری کو متحرک کرنے کے لئے محکمہ سرمایہ کاری کو ہدایت کرتے ہوئے آگے کہا کہ وہ اگلے ماہ نومبر 2020 کے دوسرے ہفتے میں اس کا سنگ بنیاد رکھیں گے۔

 

وزیر اعلیٰ سندھ نے کورنگی کے لئے 12 کلو میٹر لنک روڈ کی بھی منظوری دی۔ اس سڑک کا آغاز کریک ایوینیو ، کورنگی کاز وے انٹر سیکشن سے ہوگا اور یہ پی اے ایف ائیرمین گالف کلب پر اختتام پذیر ہوگا۔ سڑک کی الائنمنٹ کورنگی کاز وے اور ملیر ندی کے ساتھ ہوگی۔ یہ کورنگی سے چار لین کا نیا لنک ہوگا۔

 

مراد علی شاہ نے محکمہ پی اینڈ ڈی کو ہدایت کی کہ وہ اس کا جیو ٹیکنیکل انوسٹی گیشن اور ٹریفک سروے مکمل کرے اور اسے پی پی پی موڈ میں یا اے ڈی پی کے ذریعے پیش کرے۔

 

ویسٹ واٹر ری سائیکلنگ پلانٹ:ٹی پی۔I پر میونسپل ویسٹ واٹر ری سائیکلنگ پلانٹ کا مقصد دو مرحلوں میں 50 ایم جی ڈی ری سائیکل واٹر ویسٹ فراہم کرنا ہے ، پہلے مرحلے میں 30 ایم جی ڈی اور دوسرے مرحلے میں کمبائنڈ50 ایم جی ڈی ہارون آباد ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ پر سائٹ کے صنعتی علاقے کے لیے شامل ہے۔

 

ایک نجی کمپنی صنعتوں کو پانی کی فراہمی کو سنبھالنے ، آپریشنز اور بحالی ، اپ گریڈیشن ، تبدیلی اور مطلوبہ واٹر سپلائی انفراسٹرکچر کا قیام عمل میں لائے گی۔

 

وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ اے ڈی بی کے پروجیکٹ ایڈوائزر نے منصوبے کی اسٹریکچرنگ اور رسک میٹرکس مکمل کرلی ہے۔ حفاظتی اقدامات اور درجہ بندی کی مشقوں کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ SITE میں صنعتوں کو پانی کی تقسیم کے لئے ایک پائپ لائن نیٹ ورک بچھایا جائے گا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے پی پی پی یونٹ کو منصوبے میں تیزی لانے اور کام شروع کرنے کی ہدایت کی۔

 

30 ایم جی ڈی واٹر سپلائی پروجیکٹ: 30 ایم جی ڈی واٹر سپلائی پروجیکٹ میں دھابیجی سے کورنگی کراسنگ تک 30 ایم جی ڈی اضافی پانی کی فراہمی کے لئے ایک بلک واٹر ٹرانسمیشن سسٹم کا قیام شامل ہے ،

 

جس میں سے 10 ایم جی ڈی دھابیجی انڈسٹریل زون کو فراہم کیا جائے گا اور 20 ایم جی ڈی ڈسٹرکٹ ساؤتھ کو۔ اس میں دھابیجی کے مقام پر ایک نالہ ، رائزنگ مین ، پمپنگ اسٹیشن اور آبی ذخائر کی تعمیر ، دھابیجی سے کورنگی کراسنگ تک پائپ لائن اور کورنگی کراسنگ ایریا میں پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ کا قیام شامل ہے۔

 

پانی کو کے ڈبلیو اینڈ ایس بی اور کنٹونمنٹ بورڈ کے موجودہ نیٹ ورک کے ذریعے تقسیم کیا جائے گا۔ گندے پانی کا ٹریٹمنٹ: وزیر اعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ واٹر بورڈ ٹی پی IV میں گندے پانی کی صفائی کے پلانٹ کے منصوبے کے قیام میں دلچسپی رکھتا ہے۔ اس پروجیکٹ میں 180 ایم جی ڈی پرائمری اور سیکنڈری ٹریٹمنٹ پلانٹ کی سہولت کا ڈیزائن ، تعمیر اور انتظام شامل ہے۔

 

آفس آف پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (او پی پی پی) اے ڈی بی اس منصوبے کی فزیبلٹی اسٹڈی انجام دینے کے لئے کنسلٹنٹس کی خدمات حاصل کرنے کے مراحل میں ہے۔ ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے آفس پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (او پی پی پی) نے ٹی پی IV پروجیکٹ کے لیے ٹرانزیکشن ایڈوائزری سروسز انجام دینے پر اظہار دلچسپی ظاہر کی ہے۔

 

اس پر وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ منصوبے کی پی پی پی پالیسی بورڈ کی30 ویں اجلاس میں مشاورتی خدمات انجام دینے کے لیے پہلے ہی منظوری دی جا چکی ہے۔

 

انہوں نے محکمہ سرمایہ کاری کو ہدایت کی کہ وہ مشاورتی خدمات کے کام کو تیز کریں تاکہ اسے شروع کیا جاسکے۔ جمیلہ پمپنگ اسٹیشن: اس منصوبے میں اس سے ملحقہ انفراسٹرکچر سمیت موجودہ جمیلہ پمپنگ اسٹیشن کی بحالی ، اپ گریڈیشن اور آپریشن شامل ہیں۔

 

جمیلہ سیوریج پمپنگ اسٹیشن ابتدائی طور پر 1885 میں تعمیر کیا گیا تھا اور اگرچہ اس سہولت کی استعداد کار کم ہوگئی ہیاور انفراسٹرکچر خستہ حال حالت میں ہے ، یہ پلانٹ آج بھی چل رہا ہے۔

 

موجودہ اور مستقبل کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ایک نئے پمپنگ اسٹیشن اور ڈسپوزل لائن کی ضرورت ہے۔ اس سہولت کے لئے جامع فزیبلٹی اسٹڈی اور ماسٹر پلان کے لیے ٹرانزیکشن ایڈوائزری سروسز کی ضرورت ہے۔

 

وزیر اعلیٰ سندھ نے KWSB کو یہ منصوبہ پی پی پی پالیسی بورڈ میں پیش کرنے کی ہدایت کی تاکہ پی پی پی موڈ پر اس منصوبے پر عملدرآمد کی منظوری دی جاسکی

 

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.