ڈپٹی سائیں۔۔۔تاریخ لکھی جا رہی ہے!!

0 70

تحریر: نمرہ ملک
مرشد سائیں،،،ڈپٹی جی،باؤ جی سنتے ہو؟؟؟باؤ جی! میرے لوگ رل گئے ہیں۔۔سیلابی حالات نے انہیں عرش سے فرش پہ لا پھینکاہے۔۔جو کل زکوٰۃ دیتے تھے،آج خیرات لینے پہ مجبور ہو گئے ہیں۔۔۔کل جو افتتاحی تقریب سے خطاب کیا کرتے تھے،آج زندگی کا یہ اینڈبہت حسرت سے دیکھ رہے ہیں نہیں،نہیں!بلکہ بے رحم زندگی کا یہ رنگ بے بسی سے دیکھ رہے ہیں!!!
بے بس اور مجبور زندگی کی تلخی کا یہ جام بہت مشکل سے پی رہے ہیں۔مگر پی رہے ہیں۔۔۔ڈپٹی باؤ جی! میرے لوگ مر رہے ہیں۔بے رحم پانی کی موجوں نے انہیں ترس زدہ نگاہیں خود پہ سہنے پہ مجبور کر دیا ہے!

وہ عفت ماٰب خواتین جن کے لیے زندگی ہی ان کے گھر تک محدود تھی،چھت چھننے کے بعد سڑک پہ آگئی ہیں۔۔ان کے دوپٹے اتر گئے ہیں،اپنے پرائے ان با حیا عورتوں کو سوشل میڈیا پہ بھی دیکھ رہے ہیں۔
میرا دل دکھ رہا ہے،دل رو رہا ہے،سچ کہتی ہوں باؤ جی! میرا دل دھاڑیں مار کے رونے کو کرتا ہے مگر مجھے کوئی ایسا درد مند نہیں ملتا کہ جو اس درد کو سمجھ کر مداوا کرنے کا آسرا دے دے،
وہ بزرگ جن کی کل کائنات مصلے اور کھیت تک محدود تھی،رل گئے سڑکوں پہ۔لٹ گئے اپنے ہی گھروں میں،ننگے ہو گئے اپنے ہی آسمان تلے!!!

سنو!کالے کپڑے پہنے چھوٹے چوہدری جی!
کالی گاڑی میں بیٹھے وزارت کا قلم دان سنبھالے گردن میں تازہ تازہ سریا لائے حافظ جی!
اعوان صاحبان!صاحب قلمدان صاحب!سرداران چکوال!وڈیرہ شاہی کے علمبردارو!
یہ صرف میرے لوگ تو نہیں ہیں نا!آپ کے بھی اوکھے وقت پہ بانہہ پکڑ کے منجھدھار سے نکال کر اسمبلی میں لانے والے لوگ ہیں۔ان پہ رحم ہی کر لیں۔۔۔جیسے کہ آپ رحم کے لیے بہت مشہور ہیں نا!

میرے لوگ مر رہے ہیں۔۔۔آپ انہیں میرے لوگ ہی نہ سمجھیں،اپنے ووٹر سمجھ کر ہی عزت دے لیں!
ان معصوم اور بے یارو مدد گار لوگوں کی چھتیں اڑ گئی ہیں،ان کے سر کا آسمان بے رحم ہو گیا ہے!
اپنی زندگی بھر کی پونجی کو بے رحمی سے پانی کی ظالم موجوں میں بہتا دیکھ چکے ہیں یہ لوگ!زبان پہ تقدیر کے تالے لگائے آنکھوں سے نمکین پانی کو بہتا دیکھ رہے ہیں!

وہی نمکین پانی جسکا رنگ امیر غریب کا یکساں ہے،وہی دل دکھ رہا ہے جو امیر،غریب کا ایک طرح دھڑکتا ہے،وہی خون ان کے زخموں سے رس رہا ہے جو امیر غریب اور لکھوال کے بچوں،ترگڑ کی دیوار تلے دبی دو مردہ بہنوں،ڈھوک چھب کی ٹوٹی چھتوں تلے دبے لوگوں،چاچے میلی اور چوہدریوں کے خاندان کا ایک ہی رنگ کا ہے!
یہ لوگ اپنے درد سے چلاتے بت لے کر چپ ہیں۔۔۔نہیں شاید چپ نہیں بلکہ ہمیں چپ لگ رہے،تمہیں چپ لگتے ہیں کیوں کہ ا ن کی چیخیں کسی دل والے تک پہنچ ہی نہیں رہیں،کوئی سنتا نہیں،سب کان بند لگتے ہیں!

چوہدری جی! اپنے اے سی والے کمرے سے باہر حلقے میں نکل کر آپ نے دیکھا نا کہ یہ لوگ کتنے بے بس ہیں۔۔۔آپ کے کالے کپڑوں پہ مٹی نہیں لگی ہو گی،لگتی بھی کیسے،پروٹوکول میں مٹی نہیں ہوتی نا!البتہ آپ نے شاید غور کیا ہو کہ بہت ساری کائی ان کے دل،آنکھوں اور روح پہ جم گئی ہے!
بے بسی،بدبختی اور۔۔۔۔اپ کی میری بے حسی کی مٹی!
بھلو مار،کوٹیڑا،ڈھوک موازی،جنگلی والا نگری،تھرچک،ڈھوک چھب،ڈھوک روڑیاں،جھاٹلہ،کھچیاں،چینجی اور نواحی علاقے کے معصوم لوگ!کئی ضبط قلم میں نہ آئے علاقے کے لوگ!
ان کے پاس پلاسٹک شیٹس نہیں کہ سر پہ تان لیں،در پہ تان لیں۔۔

بجلی کے گرے کھمبے ان کا امتحان لینے پہ تلے ہیں!رستے بند ہیں۔۔۔لیکن حکومتی رتبے ابھی بھی بلند ہیں،کسی کو فرق نہیں پڑتا کہ زمین پہ رلتے آسمان کے ستائے ان کیڑے مکوڑوں پہ ترس کھائے!
ڈپٹی باؤ!آپ تو کالی کالی بڑی گاڑیوں پہ پہرے دیتے ہو نا!
آپ نے رعونت اور حلاوت دونوں جذبے دل سے دیکھے ہونگے،قریب کی آنکھ سے دیکھے ہونگے نا!
ان سے ہاتھ جوڑ کے التجا ہی کرو کہ اپنے لوگوں کا درد سمجھ لیں!
حکومتی اہلکار صرف بیان بازی کر رہے ہیں۔۔۔

بیان بازی بھی وہ جو چند ڈھولچیوں نے اپنے بکے قلم کی سیاہ سیاہی سے لکھی ہے!اخباری بیان!بس!!!
آہاں!پوچھ تو اس زرد صحافت سے بھی ہوگی۔۔۔ضرور ہوگی خیر!!
چند تصویریں۔۔۔چند چلتے،چھالیں مارتے پانی کے ساتھ کی یادگار تصویریں!
بس!!!اور پھر بس!آفت زدہ علاقے کے لیے محض چند لفظ بس!!
لیکن اگر عوامی بس ہو گئی تو پھر؟؟؟کل لوگوں نے انہی اخباری بیان والوں کی بس کروا دی،ایسے ہی گھر بیٹھ گئے چند لفظ حمایت کے بول کر پھر؟؟؟پھر کس کی بس؟کس طرح بس!!

ڈپٹی باؤ!میرا دل بری طرح رو رہا ہے کہ کیا سارے فرض،ساری زمہ داریاں اور ساری عوامی محبت فوج کے پاس ہی ہے!
ڈپٹی باؤ جی!میرے وردی والوں کی خیر ہو!خیر ہو۔۔۔خیر ہی خیر ہو!!!جنہوں نے اپنی گردنیں اللہ کے پاس رہن رکھوا دی ہیں!
پر باؤ جی!کچھ فرض ہمارے بھی تو ہیں نا!!
یہ وقت اختلافات،سیاست چمکانے کا اور اک دوسرے کو نیچا دکھانے کا تو نہیں ہے نا!!

یہ تو اللہ سے کاروبار کرنے کا وقت ہے باؤ سائیں!اپنی تجوریوں کا منہ کھول دو اللہ کے کنبے کے لیے۔۔۔یہ صرف فاروق بھٹی اور اس کے چند ساتھیوں کا ہی فرض نہیں ہے کہ فنڈ اکٹھے کریں اور لوگوں کا درد چنتے رہیں۔۔۔حکومتی امداد کے لیے تو مہینوں سالوں انتظار کرنا پڑے گا۔۔۔شائد بلدیات ہی یہ امداد بلکہ خیرات لے کر آجائیں۔۔۔تب تک میرے سڑک پہ رلتے ننگے سر،ننگے بدن اور ننگے چھت بیٹھے لوگوں کے لیے کون اٹھے گا!
کس کو ڈھوک پٹھان پل پہ مرتے لوگوں جیسا درد دوبارہ محسوس ہوگا!

کیا حکومت اور اقتدار کا نشہ سارے احساسات منجمد کر دیتا ہے؟صرف بیان بازی اور اشتہار رہ جاتے ہیں؟کیا وزارت نے ہمارے مڈل کلاس کے نمائندے کو بھی ایلیٹ کلاس کا ہی نمائندہ بنا دیا ہے؟
اچھا ٹھیک ہے!چلو سب ٹھیک ہے لیکن اک بات کہتی ہوں۔۔۔
اسلام کہتا ہے کہ جس کی دو بیویاں ہوں اور وہ ان میں نا انصافی کرے تو اس کا اس نا انصافی کی وجہ سے نچلا دھڑ مفلوج ہو گا۔۔۔تو جس کے زیر نگین پورا پورا حلقہ آجائے،،،اس سے کوئی باز پرس نہیں ہوگی؟

اگر آپ گجرات میں بیٹھ کر یہاں کے مسائل صرف سننے کے لیے سال بعد آتے ہیں تو پھر کیوں آتے ہیں؟؟
میں ہاتھ جوڑ کے کہتی ہوں ڈپٹی مرشد!
وقت گزر جاتے ہیں،زخم بھی بھر جاتے ہیں لیکن روئیے یاد رہتے ہیں۔۔لمحے کبھی کبھی صدیوں کا درد سمیٹ کر تاریخ کے سینے پہ گہرا گھاؤ ڈال دیتے ہیں۔۔ایسا گھاؤ جو تاریخ کبھی معاف نہیں کرتی!

ان لمحوں سے کچھ دعائیں کشید کر لیں،کر لیں!
اللہ سے کاروبار کی نیت سے ہی بے زبان جانوروں،گرتی چھتوں،رلتے لوگوں کے لیے درد کا درماں بن جائیں!
یاد رکھنا!اللہ بڑی غیرت والا ہے،وہ کسی کا ادھار نہیں رکھتا!
میرے رڑھ جانے والوں کے سرپرستو!پانی میں اجل کا زائقہ چکھنے والوں کے بے سروسامان جنازے اٹھانے والے مظلومو!عبرت پکڑو!بچ جانے والے لوگو!اپنی مدد آپ کے تحت ان بے کس لوگوں کی مدد کرو۔۔اللہ تمہارا ادھار چکائے گا!اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لو۔۔ان سیاسیوں کی امیدیں چھوڑ دو۔۔چھوڑ دو!
میرے لوگ بری طرح گھائل ہیں دکھوں سے،ڈپٹی مرشد سائیں!

ان کے دکھ اور غم کا مداوا صرف وقت کرے گا۔۔لیکن ان کو اس وقت آسرے کی بہت ضرورت ہے۔انہیں آسرا دے دو۔۔۔چلو اور کچھ نہ سہی فاروق بھٹی جیسے کسی مڈل کلاسیے کی عوامی درد مندی سے بھرپور آواز پہ لبیک ہی کر لو۔اس اکاؤنٹ کو اللہ کے کاروبار کا اکاؤنٹ سمجھ کر اس میں اپنا حصہ ڈالو!

کہا نا! اللہ بڑی غیرت والا ہے۔۔۔کسی کا ادھار نہیں رکھتا!۔۔نہیں رکھتا!نہ کسی سیاسی کی بے حسی کا اور نہ کسی عوامی کے بے لوث جذبے کا۔۔۔اللہ ادھار نہیں رکھتا اور تاریخ معاف نہیں کرتی!تاریخ لکھ رہی ہے اور جلد بتائے گی کون وقت کا عیسیٰ تھا اور کس نے رگوں میں دوڑتے خون سے میر جعفر کی سی غداری کی تھی۔۔۔تاریخ سب دیکھ رہی ہے۔۔سب لکھ رہی ہے!

(نوٹ۔۔ متاثرہ علاقوں کے لیے اپنی مدد آپ کے تحت اکاؤنٹ نمبر ۰۱۶۸۰۹۸۱۰۰۲۱۸۷۰۱ میں رقوم جمع کروا سکتے ہیں)

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.