تعلیم اور شعور تحریر : ڈاکٹر راحت جبین (کوئٹہ)

Education and awareness Written by Dr. Rahat Jabeen (Quetta)

0 13

تعلیم اور شعور جامع و وسیع معنی رکھنے والے دو ایسے الفاظ ہیں جو آپس میں مترادف نہیں ہیں مگر ہم نے انہیں ایک دوسرے سے منسلک کر لیا ہے۔ لفظ تعلیم عربی زبان سے ماخوذ ہے جس کے لفظی معنی ہیں واقفیت حاصل کرنا، نشونما یا تربیت کرنا، جاننا یا آگاہی حاصل کرنا ہیں۔

 

اصطلاحی حوالے سے دیکھا جائے تو تعلیم نئی نسلوں تک معاشرتی اقدار، ثقافت اور ادب کی منتقلی کا دوسرا نام ہے۔ شعور کی بات جائے تو اس کے لفظی معنی احساس کے ہیں۔یعنی وہ علم جو بنا تعلیم اور دلیل کے حاصل ہو یا وہ نفسیاتی علم جو خود اپنی ذات یا ماحول کے متعلق بذریعہ عقل ملے.۔

 

ادراک، وجدان اور رجحان انسانی شعور کی بیداری کی مختلف صورتیں ہیں. ایک تعلیم یافتہ مگر بے حس، وجدان اور ادراک کی خاصیت کے مبرا شخص کبھی بھی باشعور نہیں ہوسکتا پھر چاہے کتنی بھی اعلی ڈگریوں کا حامل کیوں نہ ہو۔

 

ہم سب کے ذہنوں میں یہ بات گھر کر گئی ہے کہ تعلم اور شعور آپس میں مترادف ہیں، اس لیے صرف تعلیم یافتہ شخص ہی با شعور ہوسکتا ہے مگر ایسا ہرگز نہیں ہے.

 

ہمارا یہ نظریہ کہ تعلیم ہی شعور کا موجد ہے، بالکل غلط اور بے بنیاد ہے ۔ اللہ تعالی نے انسان کو عقل و شعور تو اسی دن ہی عطا کیا تھا جس دن بنی نوع انسان وجود میں آیا تھا۔ اسی عقل شعور کی بنا پر انسان اشرف المخلوقات کے بلند ترین درجے پر فائز کیا گی۔

 

اس کی سب سے بڑی مثال ہمارے ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر ہیں جن میں سے بیشتر تعلیم یافتہ نہیں تھے مگر ان سب کی ایک خاصیت یہ ضرور تھی کہ وہ حد سے زیادہ معتبر،باشعور،انتہائی مدبرانہ شخصیت کے حامل شریف النفس انسان تھے۔

 

انہیں غلط اور صحیح کا مکمل ادراک تھا۔ یہ ادراک اور آگہی وحی آنے کے بعد اپنے عروج پر پہنچا جس نے انبیاءعلیہ السلام کو عام انسان سے معتبر کیا۔

 

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ تعلم انسانی خیالات کو سنوارتی ہے ۔ انسانی ذہن پر سوچوں کے نئے دروازے وا کرتی ہے ۔

 

زندگی گزارنے کے نئے طریقے متعارف کراتی ہے.۔زندگی کو آسان بنانے کا ہنر عطا کرتی ہے ۔ اگر ہم صرف تعلیم کو ہی شعور سے وابستہ کرلیں تو اس وقت ایک تعلیم یافتہ شخص کا شعور کہاں جاتا ہے جب وہ تعلیم کی بدولت ، دولت سے مالا مال اعلی عہدے پر فائز ہوتے ہوئے بھی اپنے والدین کو بوجھ سمجھتا ہے.

 

اور انہیں اولڈ ایج ہوم میں بھیجتا ہے. یا پھر بے یار مدد گار چھوڑ کر دوسرے ملک کا نمبر دو شہری بننا قبول کرتا ہے۔ ااس وقت یہ شعور کہاں جاتا ہے جب وہ بھوک اور افلاس کے مارے ہوئے لوگوں کو اپنی تعلیم اور دولت کے غرور میں زمین پر چلنے والے کیڑے مکوڑے سمجھتا ہے اور پنے ماتحت افراد سے جانوروں سے زیادہ بدتر سلوک کرتا ہے ۔

 

اس وقت یہ شعور کہاں جاتا ہے جب دنیا کو دین پر فوقیت دیتا ہے ۔ اس وقت ایک تعلیم یافتہ شخص کا شعور کہاں جاتا ہے جب وہ حکمرانیت کے اعلی عہدوں پر فائز ہو کر ملکی خزانے کو اپنی ذاتی جاگیر سمجھتا ہے اور رعایا پر بھوک،

 

افلاس اور ظلم کے دروازے کھولتا ہے اور اس وقت تعلیم یافتہ خواتین کا شعور کہاں جاتا ہے جب وہ اپنی تعلیم اور دولت کے غرور میں اپنا پہناوا کم کرتی ہیں اور فیشن کے نام پر عریاں لباس زیب تن کرتی ہیں۔

 

کیا یہ ہے وہ شعور جو اس تعلیم کی دین ہے ۔ نہیں جناب یہ شعور نہیں ہے یہ صرف اور صرف تعلیم کا غرور ہے۔ خود کو عقل کل سمجھنا سب سے بڑی بے وقوفی ہے اور کسی بھی تعلیم یافتہ شخص کا احساس برتری ذہنی پسماندگی کی ایک کیفیت ہے ۔

 

تعلیم تو غرور نہی عاجزی سکھاتی ہے ۔ جس کی روح تک پہنچتی ہے ، اسے اعلی منبر پر براجمان کرتی ہے اور جس کے اوپر سے گزرتی ہے، اس کے صرف پہناوے ، بول چال اور رہن سہن کے طریقوں کو بدلتی ہے۔

 

تعلیم یافتہ ہونے سے زیادہ ضروری باشعور ہونا ہے کیونکہ جہاں میں نے تعلیم یافتہ دولت مندا فراد کو اپنی دولت کے نشے میں مغرور دیکھا ہے وہیں ایک معمر اور باشعور شخص کو ایدھی کی شکل میں سڑکوں پر بھیک مانگتے بھی دیکھا ہے ، وہ بھی اپنے لیے نہیں بلکہ غریب لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے ۔

 

جہاں میں نے تعلیم یافتہ اولاد کو اپنے والدین کو دھتکارتے دیکھا ہے وہیں کئی ان پڑھ بچوں کو اپنے بوڑھے والدین کا سہارہ بنتے بھی دیکھا ہے ۔

 

ایک جانب پڑھے لکھے معزز شوہر کو اپنی بیوی کو پیٹتے دیکھا ہے تو وہیں دوسری جانب ان پڑھ شخص کو اپنی گھر کی عورتوں کا تحفظ کرتے بھی دیکھا ہے.

 

پڑھے لکھے والدین کو اپنی بچیوں پر تعلیم کے دروازے بند کرتے دیکھا ہے اور کہیں ان پڑھ جاہل والدین کو اپنی بچیوں کو تعلیم دلانے کے لیے تگ و دو کرتے بھی دیکھاہے۔

 

میں نے ایسے ہی پڑھے لکھے با شعور لوگوں کو بیٹیوں کو بوجھ سمجھتے بھی دیکھا ہے اور ان پڑھ لوگوں کو بیٹیوں کو اللہ کی رحمت مانتے ہوئے بھی دیکھا ہے۔

 

میں نے تعلیم یافتی افراد کو اسلامی تعلیمات سے انحراف کرتے اور اسلامی تعلیمات کا مذاق اڑاتے بھی دیکھا ہے اور میں نے ان پڑھ افراد کو اسلامی اقدار کا پابند بھی دیکھا ہے۔

 

بے شک تعلیم ضروری ہے مگر ہم نے صرف اسناد کو تعلیم کا نام دیا ہے ۔ جب تک کسی کے پاس سند نہیں ہوگی وہ تعلیم یافتہ فرد کہلانے ک حقدار نہیں ۔ پھر چاہے وہ جعلی ہی کیوں نہ ہوں ۔ ا س لیے ہمیں تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی سوچ کو بھی بدلنا ہوگااور شعور بھی حاصل کرنا ہوگا۔

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.