امریکہ میں ایک سال میں چار لاکھ بچے اغوا

اغوا ہونے والے زیادہ بچے سیاہ فام ہیں، یہ نسل پرستی کی جنگ ہے یا کچھ اور؟

0 13

حال ہی میں منظر عام پر آنے والی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ گزشتہ برس یعنی2019یں امریکہ بھر میں چار لاکھ بچے غائب ہوئے ہیں۔جن کا ابھی تک کوئی سراغ نہیں لگایا جا سکا۔

 

امریکہ میں ایک سال میں چار لاکھ بچے اغوا

 

غائب ہونے والے ان بچوں میں 37%بچے سیاہ فام تھے۔تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کسی منصوبہ سازی کے تحت سیاہ فام بچوں کو غائب یا اغوا کیا گیا۔

 

اس سوال کا جواب ابھی تک امن و امان نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے نہیں آ سکا۔امریکہ میں نسل پرستی کو جتنی ہوا دی گئی ہے

 

 

اتنی کسی اور ملک میں شاید ہی دی گئی ہو۔ڈونلڈ ٹرمپ کے دور حکومت میں گوروں نے سیاہ فاموں کے خلاف ایسی منظم مہم چلائی کہ ان کا سانس لینا ہی محال ہو گیا تھا

 

یہی وجہ ہے کہ سیاہ فاموں نے جو بائیڈن کو کھلے دل سے ویلکم کہااور ٹرمپ کے الیکشن ہارنے پر خوشی کا اظہار کیا۔

 

امریکہ دنیا کا ترقی یافتہ ملک ہے مگر وہاں جرائم کی شرح بھی اتنی ہی زیادہ ہے۔امریکہ کے جرائم میں ریپ،ڈکیتی،قتل اور اغوا کی وارداتیں کہیں زیادہ ہیں

 

اور کئی ریاستیں ایسی ہیں جہاں حکومت کی رٹ ہی قائم نہیں ہوتی اور وہ انتظامیہ کے لیے نو گو ایریاز ڈیکلیئر ہیں۔انہی جرائم میں سے مسنگ بچوں کا کیس بھی ایک ہے کہ آئے روز امریکہ بھر سے چھوٹے معصوم بچے لاپتا ہوتے ہیںا ور پلٹ کر ان کا کوئی پتا ہی نہیں چلتا کہ وہ زندہ بھی ہیں یا نہیں۔

 

ابھی تازہ ایک رپورٹ جاری کی گئی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ گزشتہ برس پورے امریکہ سے چار لاکھ کم عمر بچے گم ہوئے ہیں اور پولیس ان کا آج تک سراغ لگانے میں ناکام چلی آ رہی ہے۔

 

رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ ان غائب ہونے والے بچوں میں اکثریت سیاہ فام بچوں کی ہے جن کے پاس رہنے کے لیے اپنا گھر بھی نہیں ہے۔

 

جاری ہونے والی اس رپورٹ پر تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے کہ بچوں کے اغوا کے جرائم کی ریشو اسی طرح رہی تو حکومت کے لیے بہت مسئلے پیدا ہو جائیں گے۔

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.