جنگ آزادی کا ہیرو رائے احمد خاں کھرل شہید تحریر۔اختر سردار چودھری

Hero of War of Independence Rai Ahmad Khan Kharal Shaheed Tahrir. Akhtar Sardar Chaudhry

0 12

رائے احمد خاں کھرل1857ء کی جنگ آزادی کے دوران میں نیلی بار کے علاقے میں مقامی قبیلوں کی برطانوی راج کے خلاف بغاوت (گوگیرہ بغاوت) کے رہنما اور سالار تھے۔

 

 

 

21 ستمبر کو انگریزوں اور سکھوں کے فوجی دستوں نے گشکوریاں کے قریب ‘ ‘نورے دی ڈل’ ‘ کے مقام پر دورانِ نماز ان پر حملہ کر دیا گیا جس سے احمد خان کھرل اور اس کے ساتھی بڑی بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہو گئے۔تاریخ دان لکھتے ہیں

 

 

 

کہ اگر راوی کی روایت کو کسی کھرل پر فخر ہے تو وہ رائے احمد خان کھرل ہے جس نے برصغیر پر قابض انگریز سامراج کی بالادستی کو کبھی تسلیم نہیں کیا تھا اور بالآخر ان کے خلاف لڑتے لڑتے اپنی جان تک دے دی۔رائے احمد خاں کھرل کا تعلق گاؤں جھامرہ سے تھا وہ یہاں 1803ء میں پیدا ہوئے۔

 

 

انگریز دشمنی ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ 1857ء کی جنگ آزادی کے دوران میں جب دلی میں قتل و غارت کی گئی اور انگریزوں نے اس بغاوت کو کسی حد تک دبا دیا، تو یہ آگ پنجاب میں بھڑک اُٹھی۔ جگہ جگہ بغاوت کے آثار دکھائی دینے لگے۔

 

 

 

اس وقت برکلے ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر تھا۔ اس نے کھرلوں اور فتیانوں کو اس وسیع پیمانے پر پکڑ پکڑ کر جیلوں میں بند کر دیا کہ گوگیرہ ایک بہت بڑ ی جیل میں بدل گیا۔

 

 

 

ادھر برکلے یہ کارروائی کر رہاتھا،تو دوسری طرف احمد خان نے راوی پار جھامرہ رکھ میں بسنے والی برادریوں کو اکٹھا کر کے انگریزوں پر ٹوٹ پڑنے کے لیے تیار کر لیا چنانچہ تمام مقامی سرداروں کی قیادت کرتے ہوئے رائے احمد خاں کا گھوڑ سوار دستہ رات کی تاریکی میں گوگیرہ جیل پر حملہ آور ہوا اور وہاں سے تمام قیدیوں کو چھڑا کرلے گیا۔

 

 

 

احمد خان اور اس کے ساتھیوں کے علاوہ خود قیدی بھی بڑی بے جگری سے لڑے۔ اس لڑائی میں پونے چار سو انگریز سپاہی مارے گئے۔ اس واقعہ سے ا نگریز انتظامیہ میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ رائے احمد خان گوگیرہ جیل پر حملہ کے بعد اپنے ساتھیوں سمیت آس پاس کے جنگلوں میں جا چھپا۔

 

 

برکلے نے انتقامی کارروائی کرتے ہوئے احمد خان کے قریبی رشتہ داروں، عزیزوں اور بہو بیٹیوں کو حراست میں لے لیا اور پیغام بھیجاکہ وہ اپنے آپ کو گرفتاری کے لیے پیش کر دے،ورنہ اس کے گھر والوں کو گولی مار دی جائے گی۔

 

 

اس پر رائے احمد خان کھرل پہلی مرتبہ گرفتار ہوا، مگر فتیانہ، جاٹوں اور وٹوؤں کی بڑھتی ہوئی مزاحمتی کارروائیوں کے پیش نظر احمد خان کو چھوڑ دیا گیا البتہ اس کی نقل و حرکت کو گوگیرہ بنگلہ کے علاقے تک محدود کر دیا گیا۔

 

 

اس دوران میں رائے احمد خان نے خفیہ طریقے سے بیک وقت حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کی، مگر افسوس کہ کمالیہ کا کھرل سردار سرفراز اور علاقے کا سکھ سردار نیہان سنگھ بیدی دونوں غداری کر گئے اور اس سارے منصوبے سے ڈپٹی کمشنر کو اطلاع کر دی۔

 

 

دراصل سردار سرفراز کی رائے احمد خان کھرل سے خاندانی دشمن تھی۔ اس مُخبری پر برکلے نے چاروں طرف اپنے قاصد دوڑائے۔

 

 

برکلے خود گھڑ سوار پولیس کی ایک پلٹن لے کر تیزی کے ساتھ راوی کے طرف بڑھا تاکہ رائے احمد خان کھرل کو راستے میں ہی روکا جاسکے۔

 

 

اس دوران میں حفاظتی تدابیر کے طور پر گوگیرہ سے سرکاری خزانہ، ریکارڈ اور سٹور تحصیل کی عمارت میں منتقل کر دیے گئے اورگوگیرہ میں انگریز فوجیوں نے مورچہ بندیاں کر لیں۔

 

 

کرنل پلٹین خود لاہور سے اپنی رجمنٹ یہاں لے آیا۔ اس کے ہمراہ توپیں بھی تھیں۔ رائے احمد خاں کھرل کی شہادت کے بعد جب برکلے اپنی فتح یاب فوج کے ساتھ خوشی خوشی جنگل عبور کر کے گوگیرہ چھاؤنی کی طرف جا رہا تھا کہ احمد خاں کے ساتھی مراد فتیانہ نے صرف تیس ساتھیوں کے ہمراہ اس کا تعاقب کیا اور کوڑے شاہ کے قریب راوی کے بیٹ میں چھاپہ مار کر کارروائی کرتے ہوئے اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے۔

 

 

برکلے کی تدفین بنگلہ گوگیرہ میں ہوئی،جو اُن دنوں ضلعی ہیڈکوارٹر تھا۔ آج اس قبر کے کوئی آثار نہیں ملتے۔

 

 

دریا کے ساتھ ساتھ چلیں تو سید والہ سے آگے جھامرہ کا قصبہ ہے۔ اس قصبے میں ایک مزار ہے اور صاحب مزار اب صرف، پنجاب کو یاد کر کے، آہیں بھرنے والوں کے دلوں میں زندہ ہے۔

 

 

کہنے کو تو اس سرہنگ زادے کی شہرت کا علاقہ، دریا کے دونوں جانب پھیلا ہے مگر بہادری کی سرحد نہیں ہوتی اور روایت جغرافیہ کو نہیں مانتی۔

 

 

اب ریل جہاں رکتی ہے اور جہاں نہیں رکتی ان تمام اسٹیشنوں کے آس پاس کھرلوں کی کہانیاں ہیں۔ زمین کی بندر بانٹ، ضمیر کی تجارت، مخبریوں کے قصوں اور سمجھوتوں کی باتوں سے قطع نظر، ان جاٹوں نے بہادری کی کئی داستانیں تحریر کی ہیں۔

 

 

مرزا کے بعد اگر راوی کی روایت کو کسی کھرل پہ فخر ہے تو وہ رائے احمد خان کھرل ہے۔ تاریخ کے قبرستان میں، ان بہادروں کے ساتھ ساتھ، ان کے قصے کہنے والے بھاٹ بھی مدفون ہیں اور ان کے گائے ہوئے ڈھولے اور لکھے ہوئے وار بھی۔

 

 

مگر ایک وقت تھا کہ جب پنجاب کی مائیں، احمد خان کھرل کی کہانی لوریوں میں سنایا کرتی تھیں۔ کھرل اگنی کلا راجپوت ہیں اور اپنا تعلق رامائن کے کرداروں سے جوڑتے ہیں مگر کہانی میں کہیں مخدوم جہانیاں شاہ شریف بھی آتا ہے جہاں سے کھرلوں کی تاریخ مسلمان ہو جاتی ہے۔ کوئی نواب سعادت علی کھرل تھے جنہیں عالمگیر نے کمالیہ کی جاگیر دی اور یہ لوگ اس بار میں آباد ہو گئے۔

 

 

زمین کی سانجھے داریاں، مذہب کی تفریق سے گہری تھیں سو نکئی سردار گیان سنگھ، خزان سنگھ اور بھگوان سنگھ، رائے صالح خان کھرل کو اپنا بھائی گردانتے تھے۔

 

 

گیان سنگھ کی بیٹی، رنجیت سنگھ کی بیوی راج کور بنی تو کھرلوں نے بھی ڈولی کو کاندھا دیا۔ رائے صالح کا آخری وقت آیا تو اس نے سرداری کی پگڑی اپنے بیٹے کی بجائے اپنے بھتیجے احمد خان کے سر پہ رکھی اور کھرلوں کی سربراہی اسے سونپ دی۔

 

 

اسی دوران میں رنجیت سنگھ پنجاب کے تخت پہ بیٹھ گیا۔ جب پورا پنجاب سکھوں کے زیر نگین ہوا تو مہاراجا نے یہ معمول بنایا کہ ایک ایک علاقے میں جا کر عمائدین سے ضرور ملتا۔ سید والہ آمد پہ مصاحبین نے رائے احمد خان کا تعارف کروایا۔

 

 

مہاراجا نے احمد خان کو گلے لگایا اور اپنا بھائی کہا۔ سن سینتالیس ابھی بہت دور تھا۔ پنجاب کے حصول کی جنگ انگریزوں نے بہت سہج سہج کر لڑی۔

 

 

بھیرووال کے معاہدے سے لے کر لاہور میں جھنڈا لہرانے تک، مزاحمتوں کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ تھا اور احمد خان کھرل کی جدوجہد بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی۔ پنجاب کیا گرا، بار کے باسیوں پہ قیامت ٹوٹ گئی۔ کچھ عرصے بعد ہندوستان میں سن ستاون ہو گیا۔ دلی اور میرٹھ میں جنگ کے شعلے بھڑکے تو بار میں بھی اس کی تپش محسوس ہوئی۔

 

 

انگریزوں نے شورش سے بچنے کے لیے پکڑ دھکڑ شروع کی۔اس مقصد کے لیے جگہ جگہ جیل خانے بنائے اور باغیوں کا جوش ٹھنڈا کرنے کے لیے طاقت کا بے دریغ استعمال کیا۔ ایسی ہی ایک جیل گوگیرہ میں بھی بنی۔

 

 

سن ستاون کی پہلی گولی مئی میں چلی تھی۔ جون کی ایک صبح، گوگیرہ میں تعینات انگریز افسر برکلے نے علاقے کے معتبر سرداروں کو طلب کیا۔ راوی کے اس پار سے احمد خان کھرل اور سارنگ خان، برکلے کو ملے۔

 

 

انگریز افسر نے بغاوت سے نپٹنے کے لیے گھوڑے اور جوان مانگے۔ احمد خان نے جواب دیا؛ ”صاحب، یہاں کوئی بھی اپنا گھوڑا، عورت اور زمین نہیں چھوڑتا“ اور اس کے بعد واپس چلا آیا۔انگریز فوج نے احمد خان کھرل کی گرفتاری کے سلسلے میں جھامرے پہ حملہ کیا۔ سردار نہ ملا تو بستی کو آگ لگا دی اور بے گناہ عورتوں اور بچوں کو قیدی بنا لیا۔

 

 

اسی دوران میں گوگیرہ کے بہت سے خاندان قید کر لیے گئے۔ مقامی سرداروں نے حکام بالا کو لوگوں کی بے گناہی سے آگاہ کرنے کی کوشش کی مگر بے سود۔ آخرکار مراد فتیانہ اور بہلول فتیانہ جیسے جی داروں کی معیت اور احمد خان کی سرداری میں ان لوگوں نے 24 جولائی 1858 کو گوگیرہ جیل پہ حملہ کر کے قیدیوں کو رہا کروا لیا۔

 

 

سامراج کے صبر کی انتہا ہوئی تو رائے احمد خان بھی زیر عتاب ٹھہرا۔ گوگیرہ کے برکلے نے ساہیوال کے مارٹن کو لکھا جس نے ملتان کے میجر ہملٹن کو لکھا۔ تھوڑے ہی دنوں میں ملتان سے لاہور تک احمد خان کے چرچے، چھاؤنیوں اور کچہریوں تک جا پہنچے۔

 

 

اب جس عمر میں لوگ سمجھوتوں کی طرف ماسئل ہوتے ہیں، احمد کھرل اس وقت جنگ کی تیاری کر رہا تھا۔ جس وقت انگریز فوج جوان بھرتی کر رہی تھی، اس وقت اس کھرل سردار کی عمر 80 سے اوپر تھی۔انگریز نے 21 ستمبر کے دن مخبری کی بنیاد پر گشکوری کے جنگل میں ”نورے دی ڈال”پر حملہ کیا۔

 

 

بار کے مجاہدین آزادی نے ایسی دادِ شجاعت دی کہ انگریز فوج توپخانے سے مسلح ہونے کے باوجود ظہر تک ڈیڑھ کوس پیچھے ہٹ چکی تھی۔ میدان قدرے صاف ہوا تو کھرل سردار نے نماز عصر کی نیت باندھ لی۔

 

 

ادھر برکلے بھی پنجابی سپاہیوں کے ہمراہ قریب ہی چھپا ہوا تھا۔ وہ دوسری رکعت تھی، جب برکلے نے گولی مارو کا آرڈر دیا، دھاڑے سنگھ یا گلاب رائے بیدی کی گولی جیسے ہی کھرل سرداسر کو لگی سردار سجدے میں گر گیا۔ رائے احمد خان کھرل اور سارنگ کھرل اپنے اکثر ساتھیوں کے ہمراہ اس معرکہ میں شہید ہوئے۔

 

 

انگریز رائے احمد خان کھرل کا سر کاٹ کر لے گئے۔ رائے احمد خان کھرل کے قصبہ جھامرہ کو ملیا میٹ کر دیا، فصلیں جلا دیں اور مال مویشی ضبط کر لیے۔ رائے احمد خان کھرل کے سر کو دن کے وقت گوگیرہ جیل کے سامنے لٹکا دیا جاتا اور رات کو جیل میں کڑے پہرے میں رکھا جاتا۔

 

 

پہرے داروں میں ایک سپاہی جھامرے کا تھا۔ اس کی پہرے کی باری آ ئی تو اس نے سر کو گھڑے میں رکھا اور جھامرے پہنچ کر رات کے اندھیرے میں رائے احمد خان کی قبر تلاش کر کے کسی کو بتائے بغیر سر دفنا دیا۔

 

 

22 ستمبر کو راوی کنارے مسٹر برکلے کا مجاہدین سے سامنا ہوا تو مراد فتیانہ، داد فتیانہ، احمد سیال اور سو جا بھدرو نے برکلے کو مار کر اپنے سردار کا حساب برابر کر دیا۔

 

 

گورا فوج نے ان مجاہدین کو گرفتار کر کے کالے پانی بھجوا دیا۔افسوس کہ 1857ء ء کی جنگ آزادی میں انگریزوں کی بربریت کا نشانہ بننے والی اور گذشتہ 150 سال تک ظلم کی چکی میں پسنے والی اس علاقے کی برادریوں کی کوئی تاریخ مرتب نہیں کی گئی۔

 

 

بہت سے لوگ انگریز کے مظالم سے بچنے کے لیے کھرل سے ”کھر“ اور ”ہرل“ کہلانے لگے۔ ان علاقوں کی سرحدوں پر آباد کھرل اوردوسرے قبائل کی زمینیں چھین کر انگریزوں کے مخبروں کو الاٹ کر دی گئیں۔

 

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.