امید زندگی ہے شہروزہ وحید

Hope is the life of Shahrooz Waheed

0 10

دنیا میں بے شمار لوگ ایسے ہوتے ہیں جو ساری زندگی اپنی کسی محرومی کا رونا روتے ہوئے گزارتے ہیں‘ انہیں خدا کی کروڑوں نعمتیں نظر ہی نہیں آتی۔

 

لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو بڑی سے بڑی محرومی کو بھی معمولی خیال کرتے ہیں اور اپنی محرومیوں کے باوجود صرف زبان ہی سے خدا کا شکر ادا نہیں کرتے بلکہ اپنے اٹھنے، بیٹھنے، چلنے اور پھرنے کو شکر بنا لیتے ہیں۔ وہ ناصرف خود جی کر دکھاتے ہیں بلکہ اپنے جیسے لاکھوں لوگوں کا حوصلہ بنتے ہیں۔

 

ایسے ہی حوصلہ پیدا کرنے والی ایک عظیم کامیابی کی مثال ’’نک وائے چیچ‘‘ کی کہانی ہے۔ یہ بغیر ٹانگوں اور بازوؤں کے پیدا ہونے والے ایسے انسان کی کہانی ہے، جو اپنی کامیابیوں کی وجہ سے پوری دنیا کے لیے مثال بنا ہوا ہے۔ زندگی کا مطلب سمجھنا ہو تو ضرور ایسے لوگوں سے ملیں یا کم از کم ایسے لوگوں کا مطالعہ کریں۔

 

نک وائے چیچ 4 دسمبر 1982ء کو آسٹریلیا کے شہر میلبورن میں پیدا ہوا۔ اس کی پیدائش بغیر ہاتھوں پیروں کے ہوئی۔ اس مرض کو ’’ٹیٹرا امیلیا سنڈروم‘‘ کہتے ہیں۔ یہ خامی انتہائی کم بچوں میں پائی جاتی ہے اور 2009ء کے جائزے کے مطابق ہر 71 ہزار نومولود میں صرف ایک بچے میں ایسا ہو سکتا ہے۔

 

اولاد کی خوشی کس ماں کو نہیں ہوتی لیکن نک کی پیدائش پر سب سے زیادہ دکھ اس کی والدہ کو ہوا تھا۔ وہ ایک اسپتال کے گائنی وارڈ میں نرس تھی۔ جب نک کی پیدائش ہوئی تو اس کی والدہ نے اسپتال کے اسٹاف سے فرمائش کی کہ وہ اپنے بچے کو دیکھنا چاہتی ہے لیکن ڈاکٹر اور نرسیں خاموش تھیں۔

 

وہ ایک ایسا بچہ تھا جسے دیکھ کر ڈاکٹر بھی حیرت زدہ ہو گئے تھے کیوں کہ میڈیکل سائنس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ کسی کو بھی اس کی پیدائش کی خوشی نہیں تھی۔ اس کی ماں کو کسی نے بھی اس بیٹے کی پیدائش پر مبارک باد دینا گوارا نہ کیا۔ جب اس نے ہوش سنبھالا تو اسے اپنی اذیت بھری زندگی کا احساس ہوا۔

 

وہ اپنا کوئی بھی کام خود نہیں کر پاتا تھا۔ روز مرہ زندگی میں ہر چیز اس کے لیے مشکل تھی۔ برش کرنے سے لے کر واش روم جانے تک اپنے کام خود سے نہیں کر پانا اس کے لیے انتہائی تکلیف دہ تھا۔ زندگی اسے بوجھ لگنے لگی۔ وہ مایوسیوں کے سمندر میں ڈوبنے لگا۔

 

ملبورن کے جس اسکول میں وہ زیر تعلیم تھا، وہاں اس کے سب ساتھی اس کا مذاق اڑاتے تھے۔ اپنی معذوری کے باعث اتنے طنز اور تکلیفیں دیکھنا اس قدر ناقابل برداشت تھا کہ محض دس سال کی عمر میں اس نے خودکشی کی کوشش کی۔ وہ شدید ’’ڈپریشن‘‘ کا شکار بھی ہوا۔ ابتدا میں اس کے لیے یہ تسلیم کرنا بہت مشکل تھا کہ وہ دوسرے بچوں سے کیوں مختلف ہے؟

 

رفتہ رفتہ اس نے پاؤں (جو صرف چھوٹی چھوٹی انگلیوں پر مشتمل تھے) سے لکھنا، کھیلنا اور شیو کرنا سیکھا۔ اپنی میٹرک تک کی تعلیم کوئنز لینڈ آسٹریلیا کے ایک اسکول رنکورن ہائی اسکول سے مکمل کی جہاں وہ کلاس کا ہیڈ بوائے بھی تھا۔ اپنی بیچلر ڈگری اس نے کامرس کے مضمون میں ’’گریفتھ یونیورسٹی‘‘ سے حاصل کی۔

 

آج نک غیر منافع بخش عالمی تنظیم ’’لائف ود آؤٹ لمبس‘‘ کے بانی ہیں اور ایک موٹیویشنل کمپنی کے سربراہ بھی ہیں۔ یہ ادارے دنیا بھر میں معذور افراد کے درمیان اْمید اور اعتماد پیدا کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ نک کئی شہرہ آفاق کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔

 

آپ یقیناً ورطہ حیرت سے یہ سوچ رہے ہوں گے کہ دس برس کی عمر میں خودکشی کی کوشش کرنے والے نک نے کامیابی کی کون سی چابی تلاش کر لی، جو عام لوگوں کے پاس نہیں ہے۔ اگر آپ بھی خود کو بدلنا چاہیں۔ آگے بڑھنا چاہیں یا کامیاب ہونا چاہیں تو زندگی کے اندھیروں سے نکلنے کے لیے کسی کا ایک جملہ ہی کافی ہوتا ہے۔

 

نک کو یہ جملہ 17 سال کی عمر میں ہائی اسکول میں صفائی اور بحالی کے انچارج سے ملا۔ انہوں نے نک کو عوامی طور پر لیکچر دینے کا مشورہ دیا۔ اس سوچ نے نک پر بہت مثبت اثرات مرتب کیے۔ نک اپنے ایک انٹرویو میں بتاتے ہیں کہ ’’میری ان سے دوستی ہو گئی تھی۔ انہوں نے مجھے کہا تمہیں مقرر بننا چاہیے،

 

میں نے کہا کہ میں کیا بولوں گا؟ تو انہوں نے جواب دیا تمہیں اپنی زندگی کی کہانی لوگوں کو بتانی چاہیے‘‘۔ اس ایک مشورے نک کی قسمت بدل دی۔ انہوں نے مثبت رویے اور طرز فکر کو اپنانا شروع کر دیا۔

 

نک نے اپنی انتہائی معذوری کو اپنے لیے عذر یا رکاوٹ بنانے کے بجائے ایک چیلنج کے طور پر دیکھا اور اس سے لڑنے کی ٹھانی۔ انہوں نے اپنی ذات پر اتنی محنت کی اور خود کو ایسا مثالی بنایا کہ وہ لوگوں کو اپنی کامیابی کی کہانی سنا سکیں۔ پھر آنے والے سالوں میں دنیا نے دیکھا

 

کہ جس کی پیدائش کا مقصد سمجھنے سے اس کے والدین قاصر تھے اس نے نہ صرف اپنی دنیا بنائی بلکہ اپنے جیسے کروڑوں مایوس لوگوں کے لئے زندگی کی امید بنا۔ اس سے نہ صرف خود جینا سیکھا بلکہ دنیا کو جینے کا ہنر سکھا رہا ہے۔ پوری دنیا میں ایک تحریکی مقرر کے طور پر معروف نک کی زندگی ایک مثال بن گئی ہے

 

جو کروڑوں لوگوں کو زندگی میں آگے بڑھنے کی ترغیب دیتا ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ زندگی کے سفر میں تمام مشکلات کے باوجود نک نہ تو روکے اور نہ انہیں کوئی روک پایا۔ نک حوصلے کے ساتھ ان مشکلات سے نبرد آزما ہوتے رہے۔ ان کی مشکلات رنگ لائی۔ آج وہ کسی بھی عام انسان کی طرح کام کرتے ہیں۔

 

وہ روزانہ سوئمنگ کرتے ہیں۔ پانی کی سطح پر سرفنگ کرتے ہیں اور اسکائی ڈرائیونگ کرنے کا سنسنی خیز لطف بھی اٹھاتے ہیں۔ وہ دونوں ہاتھوں پیروں کے نہ ہونے کے باوجود حالات کے محتاج نہیں۔

 

وہ دنیا بھر میں سفر کرتے ہیں اور کروڑوں لوگوں کو اس بات پر آمادہ کرتے ہیں کہ وہ زندگی کی مشکلات پر یقین، امید، محبت اور جرات کے ذریعے قابو پائیں تاکہ اپنے خوابوں کی تکمیل کر سکیں۔

 

نک نے اپنے اب تک کے کیریر کے دوران دنیا کے 60 سے زائد ممالک کا دورہ کیا ہے۔ وہ لاکھوں لوگوں سے خطاب کرکے انہیں متاثر کر چکا ہے۔ وہ کہتا ہے، ’’ہر شخص کی زندگی میں ایسے مایوسی اور بے بسی کے دن آتے ہیں۔ یہ سب فطری ہے۔ لیکن ایسے احساسات اسی وقت نقصان دہ ہوتے ہیں

 

جب آپ اپنے آپ کو ان خیالات کے سامنے ڈھیر کر دیتے ہیں اور ان سے نکلنا نہیں چاہتے۔ لہذا بہتر سے بہتر کر دکھانے کے لیے خود کو ان خیالات سے نکالنا بھی سیکھیں‘‘۔ نک کہتے ہیں، ’’جب دوسرے لوگ اپنے خوابوں کو حاصل کر سکتے ہیں تو ہمیں بھی کوشش کرنی چاہیے۔ میں اپنی جانب سے پوری کوشش کرتا ہوں۔

 

ہمیں ضرور کوشش کرنی چاہیے‘‘۔ نک آسٹریلیا کا پہلا معذور بچہ تھا جسے مرکزی نظام تعلیم کا حصہ بننے کا موقع ملا اور 1990ء میں ’’ینگ سیٹیزن آف دی ایئر‘‘ کے اعزاز سے بھی نوازا گیا۔ 2012ء میں نک نے اپنی من پسند لڑکی ’’کنائے میا ہارا‘‘ سے شادی کی۔ اب ان کا بیٹا ’’کیوشی جیمس‘‘ بھی ہے۔ یہ بچہ خدا کے فضل سے بالکل نارمل اور صحت مند ہے۔

 

نک وائے چیچ کی زندگی پر اب فلم بھی بن چکی ہے جس کے کچھ حصے آپ یوٹیوب پر دیکھ سکتے ہیں۔ 2009ء میں نک وائے چیچ کو ایک مختصر سے فیچر فلم میں لیا گیا جس کا نام ’’دی بٹرفلائی سرکس‘‘ تھا۔اس فلم کا مرکزی کردار نک ہی ہے۔

 

یہ فلم ایک ایسے نوجوان کی کہانی ہے جو مایوسیوں میں گھرا ہوا ہے اور سمجھتا ہے کہ بس میری زندگی میں کچھ بھی نہیں ہے۔ لیکن پھر اس کی زندگی کا زاویہ فکر بدلتا ہے اور اس کی زندگی میں روشنی اور توانائی آتی ہے۔

 

نک کی کامیاب زندگی میں ہر انسان کے لیے بے شمار سبق ہیں۔ وہ جو بچپن میں اپنے وجود سے نالاں رہتا تھا۔ جو اس لیے مرنا چاہتا تھا کہ وہ نا مکمل ہے۔ کوئی اس سے محبت نہیں کرے گا۔

 

وہ اپنی زندگی کا مقصد سمجھنے سے قاصر خود کو دوسروں پر بوجھ خیال کرتا تھا۔ اگر وہ تب مایوس کن خیالات سے خود کو باہر نکالنے میں کامیاب نہ ہو پاتا تو آج کیسے اتنی کامیاب زندگی گزار رہا ہوتا؟

 

کیسے لوگ اس سے اْمید کی روشنی پا رہے ہوتے؟ لہذا یاد رکھنے کے بعد یہ ہے کہ زندگی میں چاہے جیسے بھی حالات ہوں۔ آپ کو اپنے سامنے کتنی ہی رکاوٹیں کیوں نہ نظر آ رہی ہو۔ ان مشکل حالات سے نظریں نہ چرائیے۔ اپنی ذات پر بھروسہ کیجیئے۔ اپنی صلاحیتوں پر کبھی شک نہ کیجئے۔

 

یقین کریں اپ جتنی مشکلات برداشت کر سکتے ہیں اتنی ہی اس ذات کی طرف سے آپ کو دی جاتی ہیں۔ ہر مشکل میں بہتری کے پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے مایوسی میں امید کا دامن ہرگز نہ چھوڑیں زندگی میں مواقع کبھی ختم نہیں ہوتے۔ اپنے ذہن کو کھلا رکھیں گے

 

تو مواقع آپ کو ضرور نظر آتے رہیں گے۔ آگے بڑھتے جائیں اور کامیابیاں سمیٹتے جائیں۔ مجھے یقین ہے کہ آپ کے شب و روز نک کی زندگی سے زیادہ مشکل ہرگز نہیں ہوں گے۔

 

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.