کامیاب لوگ کیسے سوچتے ہیں ؟؟ تحریر: نا صر محمود بیگ پارٹ 2

0 13

پاررٹ 02

کامیاب لوگ کیسے سوچتے ہیں ؟

ترجمہ ناصر محمود بیگ

تبصرہ یاسین صدیق

ہم میں سے اکثر نہیں جانتے کہ خیال کو روکنے ،بدلنے ،اپنی مرضی سے سوچنے کی قوت ہمارے پاس ہے۔

مجھے کبھی کسی نے یہ نہیں بتایا کہ میری سوچیں میرے اختیار میں ہیں۔کیا آپ کو کبھی کسی نے یہ بتایا ہے ؟

سب سے پہلے اس بارے مجھے خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب نے بتایا ۔۔۔

آج میں آپ کو بتا رہا ہوں کہ اپنی سوچوں اورخیالات کو کنٹرول کرنا سیکھا جا سکتا ہے ۔۔۔

دنیا میں بہت سے مفکر گزرے جنہوں نے کامیاب زندگی بارے لکھا لیکن خود ناکام رہے ۔اس کی وجہ عمل نہ کرنا اور اس سے بھی اہم مسلسل عمل نہ کرنا ہے ۔

مسلسل عمل خود ترغیبی و مطالعہ سے جڑا ہے ۔

آپ کے خواب سے جڑا ہے ۔

خواب وہ ہوتا ہے جو سونے نہ دے ۔

ساری زندگی سوچ کے تانے بانے سے بنی ہے ۔سب سوچتے ہیں ۔ہر وقت سوچتے ہیں ۔نہ سوچیں تب بھی سوچتے ہیں ۔بابا جی خواجہ شمس الدین عظیمی فرماتے ہیں ایک لاکھ میں سے ایک فیصد سے بھی کم سوچ کی لہریں شعوری سطح پر ہم جن سے واقف ہو پاتے ہیں ۔۔

 

باقی کہاں سے آتی ہیں کہاں جاتی ہیں ؟؟؟؟؟

 

ہمارے تمام اعمال سوچ کے سبب ہیں ۔لیکن ہمیں علم نہیں ہوتا کیا سوچنا ہے اور کیا نہیں سوچنا ۔۔میں نے کہیں پڑھا تھا ۔سب سے مشکل کام اپنی سوچ پر اپنا کنٹرول حاصل کرنا ہے ۔سوچ پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے اور یہ جاننے کے لیے کہ
کامیاب لوگ کیسے سوچتے ہیں ۔

 

آپ کو کتاب کا مطالعہ کرنا چاہیے ۔

 

یاد رکھیں

 

سوچ خود بخود تبدیل نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے انسان کو خود سے کوشش کرنا پڑتی ہے ۔۔

 

اس محنت کے لیے

اچھا سوچنے کی گیارہ مہارتوں پر مشتمل یہ کتاب

 

How successful people think

 

مصنف جان سی میکس ویل کی کتاب

ناصر محمود بیگ صاحب نے اس کا ترجمہ بڑی محنت سے کیا ہے ۔بلکہ اس کو ہمارے ماحول کے مطابق ڈھالا ہے ۔اس پر وہ داد کے مستحق ہیں

آپ سب احباب اس کتاب کو خریدیں ۔

پڑھیں اور سوچیں ۔۔سوچ بدلیں ۔۔سوچ بدلے گی تو ہمارے عمل بدلیں گے ۔عمل بدلیں کے تو زندگی بدل جائے گی ۔۔۔۔۔

زندگی کی ساری خوشیاں ،سبھی غموں کا تعلق سوچ سے ہے ۔آپ خوش رہنا چاہتے ہیں تو اپنی سوچ پر اپنا حکم چلائیں۔
بقول واصف علی واصف
پریشانی حالات سے نہیں خیالات سے پیدا ہوتی ہے

 

کتاب خریدنے کے لیے رابطہ کریں ۔۔۔

 

نمبر03055093503

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.