خادم حسین رضوی نے نومبر 2020 کے وسط میں فیض آباد کے لیے ریلی کی قیادت اپنے بیٹے سے کروائی تھی

خادم حسین رضوی کو شاید پہلے ہی الہام ہو گیا تھا کہ وہ دنیا سے رخصت ہونے والے ہیں

0 12

تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی کے انتقال کے بعد ان کے صاحبزادے حافظ سعد حسین رضوی کو تحریک کا نیا امیر مقرر کر دیا گیا

 

جس کا اعلان خادم حسین رضوی کے جنازہ کے اجتماع میں ہی کیا گیا۔ کہا جا رہا ہے کہ شاید خادم حسین رضوی کو پہلے ہی الہام ہو گیا تھا

 

کہ وہ اس دنیا سے رخصت ہونے والے ہیں ، کیونکہ رواں برس نومبر کے وسط میں تحریک لبیک پاکستان نے جو آخری دھرنا دیا تھا اُس میں علامہ خادم حسین رضوی نے ریلی کی قیادت اپنے بیٹے حافظ سعد رضوی سے ہی کروائی تھی۔

 

خادم رضوی کا فیض آباد میں نومبر 2020 کے وسط میں آخری دھرنا اس اعتبار سے بھی اہمیت کا حامل تھا کہ اس دھرنے سے قبل نکالی گئی ریلی کی عملی قیادت رضوی نے اپنے بیٹے سعد رضوی سے ہی کروائی تھی۔

 

یوں انہوں نے اپنے بیٹے کو اپنی زندگی میں ہی ریلی کی قیادت کرتے دیکھا۔ اس حوالے سے ان کی عقیدت پسندوں کا ماننا ہے کہ شاید علامہ صاحب کو الہام ہو گیا تھا اسی لیے انہوں نے حافظ سعد کو ریلی کی قیادت سونپی تھی تاکہ وہ اپنے سامنے ہی اپنے صاحبزادے کو تحریک لبیک کی ریلی کی قیادت کرتا دیکھ سکیں۔

 

یاد رہے کہ دو روز قبل طبیعت خراب ہونے پر تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی کو لاہور کے شیخ زید اسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹرز نے بتایا کہ اسپتال لاتے ہوئے ہی ان کا انتقال ہو گیا تھا۔

 

ڈاکٹرز نے علامہ خادم حسین رضوی کے انتقال کی تصدیق کی جس کے بعد ان کا جسد خاکی ان کی رہائش گاہ پر لایا گیا جہاں ان کے آخری دیدار کے لیے دو روز تک کارکنان کا تانتا بندھا رہا ۔

 

تاہم آج خادم حسین رضوی کا جسد خاکی مینار پاکستان لایا گیا جہاں ان کے صاحبزادے سعد رضوی نے ان کی نماز جنازہ ادا کی ۔

 

نماز جنازہ میں ہر آنکھ اشکبار تھی اور فضا لبیک یا رسول اللہ ﷺ کے نعروں سے گونج رہی تھی۔ خادم حسین رضوی کے نماز جنازہ میں لاکھوں افراد نے شرکت کی اور اسے ممتاز قادری کے بعد ملکی تاریخ کا دوسرا بڑا جنازہ قرار دیا جا رہا ہے۔

 

خادم حسین رضوی کو ان کی رہائشگاہ پر ہی سپرد خاک کیا جائے گا۔

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.