کرسیوں کے چند کیڑے ملک سارا کھا گئے اور کرونا وائرس سے نجات کے لیے دعا تحریر:عمران امین

ہم بچاتے رہ گئے،دیمک سے اپنا گھر مگر کرسیوں کے چند کیڑے ملک سارا کھا گئے

0 148

تاریخ کے ایک عظیم رہنماء قائد اعظم کی محنت اور کوششوں سے دنیا کے نقشے پر اپنا مقام بنانے والا مُلک بد قسمتی سے آزادی کے فورابعد ہی نااہل اور بد کردار سیاسی قیادت کی وجہ سے کرپشن کی دلدل میں پھنس گیا۔ سیاسی جوکرز اُور مذہبی مداریوں کی ناپاک خواہشات اُور حسرتوں نے اس نوزائیدہ ریاست کو آغاز سے ہی دیمک کی طرح چاٹنا شروع کر دیا تھا۔یہ حقیقت ہے کہ بُرے افراد کے ساتھ ساتھ اچھے لوگ بھی اس سیاست کے صاف ستھرے میدان میں آئے،

 

یہ لوگ ابتداء میں محنت اُور خدمت کے جذبے سے سرشار عوام کو سہولت دینے کا ارادہ رکھتے تھے مگررفتہ رفتہ سیاست کے دشت کے رنگ میں ایسے رنگے کہ پھر”نہ کوئی بندہ رہا،نہ کوئی بندہ نواز“۔بے شمار شرمناک کہانیوں، واقعات اُور مفادات کی بھر مار، نے ہماری سیاسی تاریخ کو اس قدر پراگندہ کر دیا ہے کہ ”پڑھتاجا اُور شرماتا جا“۔تازہ کہانیوں میں ”سرے محل سے ایون فیلڈ تک کا سفر“ ہماری تاریخ کا وہ کڑوا سچ ہے کہ جس پر پوری قوم کا سرابھی تک شرم سے جھکا ہو اہے اُور وہ اس مخمصے سے باہر نہیں نکل پا رہی کہ ”کس پر یقین کریں اُور کس پر نہ کریں“۔

 

بچارے غریب عوام اپنی آمدن سے ٹیکس ادا کرتے ہیں تاکہ کسی طریقے سے اُن کا ملک خوشحال ہوجائے۔ مگر سادہ عوام جن لوگوں کو ملکی خزانے کی کنجیاں دیتی ہے وہ قیادت اُوررہنما بد دیانت اُور بے ایمان ہیں۔
ہم بچاتے رہ گئے،دیمک سے اپنا گھر مگر
کرسیوں کے چند کیڑے ملک سارا کھا گئے
کئی سالوں سے پاکستانی اندازسیاست اُور سیاست دانوں کی ذاتی زندگی اُور حکمرانی دُور کے بارے میں بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔ہر سچے پاکستانی لکھاری کی خواہش رہی ہے کہ کاش حکمران ٹولہ کبھی عام پاکستانی کی آواز بھی سُن لے۔

 

یہ الگ بات ہے کہ حکمران ٹولے نے تو اپنی روش نہیں بدلی مگر ان محب وطن لکھاری لوگوں کی محنت سے عام پاکستانی میں ضرور شعور بڑھا ہے اب عام پاکستانی بھی ان اقتدار کے پجاریوں سے حساب مانگتا ہے۔شکریہ،بہت مہربانی۔قلم کے مجاہدوں اُوروطن کے سپوتوں کا سلام۔ جناب ڈاکٹر اے آر خالد کا شمار بھی ارض پاک کے ان باسیوں میں کیا جاتا ہے جنہوں نے ہمیشہ اپنے قلم اُور قاری سے انصاف کیا ہے۔اُن کا شمارپاکستان کے نامور اُور مستند تجزیہ کار وں میں کیا جاتا ہے۔بین الاقوامی اداروں،سول سوسائٹی اُور حکومتی حلقوں میں بطور دانشور اُن کا ایک اہم مقام ہے۔ ڈاکٹر اے آر خالد کی لکھی ہوئی کتابیں، دنیا کی مختلف یونیورسٹیوں میں پڑھائی جاتی ہیں۔وہ پاکستان اُور امریکہ میں درس و تدریس سے بھی منسلک رہے ہیں۔

 

دنیا کے مختلف جرائد و اخبارات کے علاوہ پاکستان کی اخبارات میں بھی کئی برسوں سے کالم نگاری کر رہے ہیں۔انہوں نے اپنی نئی تصنیف ”کرسیوں کے چند کیڑے ملک سارا کھا گئے“ میں ملکی سطح پرقیام پاکستان سے اب تک پھیلتی کرپشن،بد عنوانی اُور اس سارے مکروہ عمل میں سیاست دانوں کے جاندار اُور موثرکردار کو عمدگی سے بے نقاب کیا ہے۔ اس کتاب میں ایک مخصوص وقت کے منتخب کالم شامل کئے گئے ہیں،جواُس عرصے میں قومی اخبارات کی زینت بنے۔ان کالموں کی خوبصورتی یہ ہے کہ ان کو آج بھی پڑھتے ہوئے ایسے محسوس ہوتا ہے کہ جیسے موجودہ پاکستان اُور سیاستدانوں کا تذکرہ کیا جا رہا ہو۔بقول مصنف”پاکستان کو دنیا کے کرپٹ ترین ممالک کی فہرست میں جس مقام پر چاہیں رکھیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ وطن عزیز کے مصائب و مسائل کی سب سے بڑی وجہ کرپشن ہے۔

 

کرپشن نے زندگی کے ہر شعبے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔انفرادی،اجتماعی،سیاسی،مذہبی اُور حکومتی غرض ہر سطح پر اس سے نمٹنے سے عملاًگریز کا نتیجہ ہے کہ کرپشن کی ہر صورت اُور شکل کی سزا ہم من حیث القوم بھگت رہے ہیں“۔بدقسمتی سے پاکستان میں کرپشن کے حمام میں اُوپر سے لے کر نیچے تک پوری قوم ننگی ہے۔اہل اقتدار سے لے کر حزب اختلاف تک،ملازمت میں پہلے گریڈ سے لے کر بائیسویں گریڈ کے افسر تک،سب اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہے ہیں۔بلاشبہ کرپشن اُم الخبائث اُور اُم المسائل ہے اُور ہمارا ملک اس کی بہترین مثال ہے۔مصنف نے ایک تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے بتایا ہے کہ پاکستان کو تباہی و بربادی تک پہنچانے والے عوامل میں نظریہ پاکستان سے رُوگردانی،سیاسی و منصبی بد دیانت،اخلاقی پستی،تعلیمی انحطاط،مذہب سے دُوری،مادیت پسندی اُور اس طرح کے دیگر عوامل کا عمل دخل ہے۔محترم ڈاکٹر صاحب نے انتباء کرتے ہوئے لکھاہے کہ معاشی عذاب اُور اقتصادی غلامی کا دور نہایت خطرناک ہوتا ہے۔

 

پاکستان جن مشکل اقتصادی و معاشی حالات میں گھرا ہوا ہے وہاں سے نکلنے کے لیے قومی کردار کو اُجاگر کرنا اشد ضروری ہے۔مصنف نے دکھ کے ساتھ بیان کیا ہے کہ سودی معیشت اُور قرضوں پر کھڑی پاکستانی معیشت نے قومی وجود کو بے یقینی اُور مایوسی سے رُوشناس کروایا ہے۔ اس کتاب میں آئی ایم ایف اُور ورلڈ بینک کے بین الاقوامی کردار کا خوب نقشہ کھینچا گیا ہے کہ کس طرح سے یہ مالیاتی ادارے کسی بھی ملک کی سرکاری اور نجی کاروباری دنیا کو کنٹرول کرتے ہیں۔نئے ٹیکس لگواتے ہیں۔ملازمین کی چھانٹی کرواتے ہیں۔کرنسی کو ریگولیٹ کرتے ہیں۔بجلی،گیس اور پٹرول کو مہنگا کرتے ہیں۔بد قسمتی سے دنیا کے ترقی پذیر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی یہ مالیاتی ادارے ہمیشہ ایک موثر کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ ڈاکٹر اے آر خالد نے دردناک سچ بتا تے ہوئے لکھا ہے کہ پاکستان میں ہمیشہ سے منتخب اُور عبوری حکومتیں ان مالیاتی اداروں کے اشاروں کی منتظر رہی ہیں اُوران اداروں کے طاقتور کردار کی وجہ سے ان اداروں کو ایسٹ انڈیا کمپنی کا نیا رُوپ قرار دیا جا سکتا ہے۔

 

مصنف نے دکھ کا ظہار کرتے ہوئے بتا یا ہے کہ مقامی سیاست دانوں نے ملک میں ہونے والی کرپشن کے خلاف احتساب کا نعرہ لگا کر عوام الناس کو بے وقوف بنانے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے اُور افسوس کی بات یہ ہے کہ سادہ لوح عوام ان چالاک حکمرانوں کی چال کبھی سمجھ ہی نہیں پائے۔ قیام پاکستان سے لے کر اب تک جب بھی کسی جمہوری حکمران کا تختہ اُلٹنا مقصود ہوا،تو احتساب کا نعرہ مستانہ بلند کیا جاتا اُور نتیجے میں کبھی جمہوری حکومت اُور کبھی غیر جمہوری طاقتیں مسند اقتدار پر براجمان ہو جاتیں۔ڈاکٹر صاحب کے بقول اس مٰیں کوئی شک نہیں کہ نواز شریف جب دوسری بار حکمران بنے تو وہ احتساب کے لیے بہترین موقع تھا،مگر نواز شریف طاقت اُور اختیار کے نشے میں صدر،چیف آف آرمی سٹاف اُورچیف جسٹس سپریم کورٹ پرتُو رعب جماتے رہے مگرانہیں احتساب کا نعرہ یاد نہ آیا۔جنرل پرویز مشرف بھی احتساب کے نام پر قوم و ملک پر ایک لمبے عرصے تک مسلط رہے۔اگرچہ اُن کا احتساب شروع میں تیز تھا مگر بعد میں مدہم سے مدہم تر ہوتا گیا۔سیاسی قیادتوں کے کھوکھلے کردار کا ذکر کرتے ہوئے مصنف نے دلچسپ انداز میں لکھا ہے کہ بد قسمتی سے آج تک کے حکمرانوں کا انفرادی ایجنڈا تو موجود رہا ہے مگرماضی میں قومی ایجنڈا کہیں نظر نہیں آتا رہا۔

 

نفسا نفسی کے اس دور میں حکمران جماعت کے اراکین اُور اپوزیشن اراکین اپنی تنخواہیں اُور اسمبلی الاؤنسز بڑھانے کے لیے اکٹھے ہو جاتے ہیں مگر قومی ایشوز پرہمیشہ سے اختلافات کا شکار نظر آتے رہے ہیں۔تضاد سے بھرپور سیاسی قیادت جب اقتدار کے جھولے میں بیٹھی ہوتی ہے تو اُس کی بُولی کچھ اُور ہوتی ہے مگر جونہی اپوزیشن کا رُوپ دھارتی ہے تو بیانات بدل جاتے ہیں۔ڈاکٹر اے آر خالد چونکہ دنیا کے بیشتر ممالک میں درس و تدریس کی غرض سے جاتے رہتے ہیں لہذا انہوں نے نہایت عمدگی سے یورپ اُور مغربی ممالک کے اسلاموفوبیا کردار کا بھی تذکرہ کیا ہے۔ اُن کے بقول یورپی ممالک میں بڑھتی ہوئی بے راہروی،مادیت پسندی اُوربے سکونی نے ان لوگوں کو اسلام کی حقانیت کا ادراک دیا ہے،جس بنا پر اسلام اب پوری دنیا میں بہت تیزی سے پھیل رہا ہے۔اگرچہ ابھی بھی ان ممالک میں توہین آمیز خاکے اُور مسلم دشمنی کے اکا دُکا واقعات رُونما ہوتے ہیں مگر دوسری طرف مغربی عوام اسلام کو سمجھنے کی کوشش بھی کر رہی ہے۔

 

ڈاکٹر اے آر خالد کی کتاب ’کرسیوں کے چند کیڑے ملک سارا کھا گئے“ عام قاری کو ملک کے سیاست دانوں کے کردار کا اصل رنگ دکھارہی ہے اُور ساتھ میں ہر پاکستانی کو احساس ذمہ داری کا درس بھی دیتی ہے کہ ہمیں معجزوں کا نتظار کرنے کی بجائے اپنے آپ کو درست کرنا ہو گا،تب ہی ہمارا وطن ترقی کی منازل طے کر پائے گا۔سادہ اُورخوبصورت انداز بیان نے اس کتاب کی چاشنی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔مصنف نے صرف واقعات ہی بیان نہیں کئے بلکہ ناصحانہ انداز میں اُن کا حل اُور وجوھات کا بھی ذکر کر دیا ہے۔یہ کتاب پاکستان کی سیاسی تاریخ کے ایک مخصوص دور کا بہترین آئینہ ہے اُور تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے افراد کے لیے معلومات سے بھرپور ہے۔عام قاری،سیاست دانوں اُور سیاسی طالب علموں کے لیے یہ کتاب ایک بہترین تحفہ ہے۔ کرونا وائرس کی بڑھتی ہوئی صورت حال کے پیش نظر ہمیں توبہ و استغفار کرنی چاہیے اور اللہ سے دعاکریں کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کو اس سے محفوظ فرمائے۔ آمین

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.