عورت حیاء کا دوسرا نام ملک نذیر اعوان (خوشاب)

اسلام نے عورت کو اعلیٰ مقام دے کر جہالت ختم کی

0 109

اسلام نے عورت کو ایک عزت اور مقام دیا ہے۔ اگر ایک عورت مجبوری کے تحت گھر سے باہر نکلتی ہے تو اس کو بھی وہی مقام اور عزت دینی چایئے جو ہم اپنی ماں۔بہن اور بیٹی کو دیتے ہیں۔دور جدید میں بھی عورت پرہونے والی نا انصافیوں پر اگر دیکھیں تو اسلام سے پہلے کا دور جہالت یاد آ جاتا ہے۔ دورِ جہالت میں عورت کی کوئی قیمت نہ تھی اور اسے اپنی زندگی گزارنے کا کوئی اختیار نہ تھا۔ جیسے کوئی بھیڑ یا بکری پالنے والا جب چاہے باند دھ دے۔ جب چاہے اسے فروخت کر دے اور جب چاہے زندہ دفن کر دے۔

 

عورت دورِ جہالت میں عرب اور یونانی معاشرے کا مظلوم ترین طبقہ تھی ایک مرد جتنی عورتوں سے چاہے شادی کر لیتا تھا۔مگر اسلام نے عورت کو اعلیٰ مقام دے کر جہالت ختم کی اسلام سے پہلے عورت کو اپنے پاؤں کی جوتی سمجھنا بھی زمانہ جاہلیت کی ایک متکبرانہ ریت بن چکا تھا مگر پیارے آقا مدنی ﷺ کی آمد کے ساتھ ہی ساری ظلمتیں دور ہو گیئں اور انسانیت کی تذلیل کادور ختم ہوگیا۔عورت کو ماں،بہن،بیٹی اور بیوی جیسا عظیم مرتبہ مل گیا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ موجودہ دور میں بھی عورتوں کے حقوق میں ہر قانون سازی کے باوجود عدم تحفظ اور جنسی زیادتی کا خوف مسلسل برقرار ہے۔ دنیا بھر میں نوجوان لڑکیوں کی اکثریت جنسی زیادتی کے خوف کی وجہ سے ڈری اور سہمی زندگی گزارنے پر مجبور ہے اور لڑکیا ں یہ محسوس کرتی ہیں کہ انھیں دنیا میں آزادی کے ساتھ اور اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے کا کوئی حق نہیں اور دیکھنے میں جو نتائج اور حقائق سامنے آتے ہیں۔

 

ان کے مطابق شاید یہی وجہ ہے کہ غریب ترین عورتوں میں رہنے والی لڑکیاں دنیا کی کم ترین مخلوق خیال کی جاتی ہیں اور جن کو صرف عورت ہونے کی وجہ سے اپنی زندگی اورترقی کے لئے سخت ترین رکاوٹون کا سامنا ہے اور عورت کو کئی مراحلوں سے گزرنا پڑتا ہے انھیں اپنی زندگی میں چھوٹے چھوٹے فیصلے کرنے میں اس قدر مشکلات در پیش ہیں کہ وہ اپنی مرضی سے اٹھ بیٹھ بھی نہیں پاتیں۔ یہاں تک کہ شادی کے بعد جس گھر میں جاتی ہیں شادی سے پہلے ان کے بارے میں ان کو کوئی علم نہیں ہوتا ان کی شادی کے بعد زندگی بدل جاتی ہے اور دبے سہمھے ماحول میں پرورش پا کر جوان ہونے کے بعد ایک نیا مرحلہ شروع ہو جاتا ہے اور زیادہ لڑکیاں سکول جانے سے بھی گھبرائی رہتی ہیں اور اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھتی ہیں اور جتنی زیادتی کے ڈر سے بیت الخلاء استعمال کرنے سے بھی ڈرتی ہیں بلکہ ہر ُاس عورت کی کہانی ہے جس کو کسی نہ کسی مجبوری کے تحت گھر سے باہر جانا پڑتا ہے مثال کے طور پر جب گھر سے اس کے سربراہ کا سایہ اٹھ جائے اور گھر والوں کی ذمہ داری اٹھانے کے لئے کوئی اور مرد بھی موجود نہ ہو تو پھر سب ضروریات پوری کرنے کے لئے عورت کو مجبور اٰٰ گھر سے باہر نکلنا پڑتا ہے اور جس کی اجازت ہمارے مذہب میں بھی ہے۔

 

مگر ہمارے معاشرے میں خاص کر جس طرح ملازمت پیشہ خواتین کو عزت کی نگا ہ سے نہیں دیکھا جاتا ہے ان کے بارے میں طرح طرح کی فضول باتیں کی جاتی ہیں ہمارے معاشرے کا کلچرکچھ اس طرح بن چکا ہے اگرمعاشرے میں کسی مرد کو اکیلی عورت کا پتا چل جائے کہ یہ ملازمت پیشہ ہے اور ان کا کوئی ولی وارث نہیں بری نظروں سے گھورنا اپنا اولین فرض سمجھتے ہیں۔اور اسلام میں عورت کو ایک بہت بڑا مقام حاصل ہے مگر ہمارے مرد حضرات یہ عزت اور احترام صرف اپنی ماں۔ بیٹی۔بہن اور بیوی کو دیتے ہیں مگر ہمارے معاشرے میں ایک ادھیڑ عمر کا مرد بھی اپنی بیٹی کی عمر کی لڑکی کو حریصانہ نظروں سے دیکھتا ہے اور ملازمت پیسہ خواتین چاہے وہ ڈاکٹر ہوں یا ٹیچر ہوں یا کسی بینک میں ہوں یا ہسپتال کے اندر ہوں یا گھر میں کام کرنے والی سب ہی ایک جیسے حالات کا شکار ہیں۔ اورایسی خواتین جن کا کوئی دیکھ بھال کرنے والا نہیں ہے ان کو اکثر ان سب حرکتوں۔باتوں کا سامنا اپنی ہی گلی محلے کے مرد حضرات سے ہوتا ہے۔ان میں بہت سی خواتین ایسی ہوتی ہیں جو بیچاری جاب کرتی ہیں۔ انیں تنخواہ کے معاملے میں تنگ کیا جاتا ہے۔

 

اور کم تنخواہ میں زیادہ کام لیا جاتا ہے اگر تنخواہ بڑحانے کی بات کریں تو تنخواہ بڑھانے کے بدلے ان کو کس طرح کی آفر ملتی ہیں اور ان آفرز کو ٹھکرانے پر ان کو کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے کچھ اور ٹائم لیا جاتا ہے تو بعض اقات انکی مزید تنخواہ کم کر دی جاتی ہے۔ہمارے ہاں گھریلو ملازموں کو بھی سخت ترین حالات سے بھی گزرنا پڑتا ہے جہاں وہ ملازمت کرتی ہیں ان گھروں میں رہنے والے مرد حضرارت ان کو دیکھنا اور فحش باتیں کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ اکثر ملازمیں جنسی شکار کا شکار ہوتی ہیں۔ اور زیادتی بننے والی خاتون کو ڈرا دھما کر چُپ کرا دیا جاتا ہے۔ اگر یہ خواتین ہمت کر کے پولیس تک پہنچ جائیں تو پولیس ان کی رپورٹ درج کرنے کی بجائے اُلٹا ان پر ہی شک کرتی ہے۔ اور اکثر خواتین اپنی عزت پر حرف آنے کی وجہ سے تھانوں کا رُخ بھی نہیں کرتیں۔ہمارئے ہاں با پردہ خواتین جب مجبوری کے تحت گھر سے ملازمت کے لئے باہر نکلتی ہیں تو قابلیت اور جاب کے معیار کے مطابق ہونے کے باوجود ان کو صرف اس لیے ملازمت نہیں دی جاتی کیونکہ وہ حجاب لیتی ہیں۔ اکثر گھروں میں کام کرنے کی یہ بھی شرط رکھی جاتی ہے کہ وہ باپردہ ہو کر نہ آئیں۔

 

اگر حجاب کر کے ائیں گی تو ملازمت نہیں ملے گئی۔اگر دیکھا جائے تو اسلام کی رُو سے بھی پردہ بہت اہم ہے۔بہت سی عورتیں ایسی ہوتی ہیں جو مجبوری کے تحت کام کر رہی ہوتی ہیں مگر لوگ اُن کے بارے میں ایسی شرم ناک گفتگو فرما رہے ہوتے ہیں کہ اگر وہ خود بھی ایسی باتیں کسی اور کے منہ سے سُن لیں تو ان کے سر شرم سے جھک جائیں۔ اسلام نے عورت کو ایک مقام اور عزت دی ہے اس لئے عورت کو وہی مقام دینا چایئے جو اپنے گھر میں ہم اپنی ماں۔بہن اوربیٹی کو دیتے ہیں اگر ہم تھوڑی دیر کے لئے سوچیں کہ اگر ہم کسی کی عزت کے ساتھ کھیلیں گے اور پھر اس کے برعکس اگر ہمارئے گھر میں ہماری عزت کے بارئے میں کوئی بات کرے گا تو ہم پر کیا گزرے گی۔

 

اسلام نے نہ صرف اپنے گھر کی عورت کی عزت کا حکم دیا ہے بلکہ یہ حکم دوسری عورتوں کے لئے بھی دیا ہے۔ بحثیت انسان اور مسلمان ہمیں ایسی خواتین کی مجبوریوں کو سمجھنا چاہیے۔ عورتو ں کے مسائل حل کرنا چایئے ان کومعاشرے میں آگے بڑھنے کی ہمت دینی چاہیے اور ان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے کیونکہ ان خواتین کو بھی معاشرے میں جینے کا حق حاصل ہے اس لئے ان کے ساتھ ہمیشہ خوش اسلوبی کے ساتھ پیش آئیں۔۔اللہ پاک ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔۔آمین ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.