ایک اور سال گزر گیا ۔۔!! تحریر : علی آسی ، احمد نگر گوجرانوالہ

اگر ہم ہوش کو خود پر غالب کریں تو معلوم ہوگا کہ کتنے ہی سالوں کو ہم نے خوش آمدید کہا اور کئی برسوں کو الوداع کہنا ہی پڑا۔

0 129

ہر لمحہ،ہر پل انسان کو کچھ نہ کچھ سکھا کر ہی گزرتا ہیں.گھنٹہ گزرتا ہے،دن گزرتا ہے،مہینے گزرتے ہیں،سال گزرتے ہیں اور صدیاں گزر جاتی ہیں اور ان سبھی لمحات میں انسان کے لیے سیکھنے کو کئی اسرار و رموز پوشیدہ و عیاں ہوتے ہیں۔ہر انسان بنیادی طور پر بچہ پیدا ہوتا ہے پھر رفتہ رفتہ عہد بلوغت،عہد شباب،عہد جوانی،عہد بڑھاپا اور ان سبھی ادوار میں انسان کے سیکھنے کو بہت کچھ ہوتا ہے۔ہر دور کے اپنے اپنے تقاضے ہوتے ہیں۔ ہر دور خوشیوں سمیت غموں کی سوغات بھی ہمراہ لاتا ہے۔ خوشی و غم ان ہر دو میں سے ہر انسان کو بہرطور گزرنا ہی پڑتا ہے۔اور مزے کی بات یہ ہے کہ وقت رکتا نہیں ہے۔امیر و غریب کے لیے برابر چلتا ہے۔آپ خود یاد کریں کہ کبھی آپ بھی شیر خوار تھے،پھر جوان ہوئے اور اب جو آپ ہیں اس عمر کو پہنچے۔

اگر ہم ہوش کو خود پر غالب کریں تو معلوم ہوگا کہ کتنے ہی سالوں کو ہم نے خوش آمدید کہا اور کئی برسوں کو الوداع کہنا ہی پڑا۔جو سال ہماری زندگی میں سے نکل گئے ان میں سے کئی سراپا خوشیوں کی سوغات لائے اور کئی برس اپنے اندر غموں کے منہ زور تھپیڑے لیے حاضر ہوئے۔صد ہزار شکر کہ یہ گزر ہی گئے۔آپ کو یاد ہوگا کہ کئی سالوں نے ہم سے بہت کچھ چھین لیا اور کئی برس ہم نعمت عظمیٰ سے مستفید ہوئے۔

citytv.pk
citytv.pk

انسان بنیادی ناشکرا ہے۔اس کے خمیر میں ہی ناشکرا پن گوندا گیا ہے ورنہ جو جو انعامات انسان کو حاصل ہیں یہ اربوں ڈالر دے کر بھی نہیں حاصل کیے جا سکتے۔آپ خوشی ہی کو لے لیجیے اگر آپ خوش نہیں ہیں تو آپ کے دولت کے بھرے ہوئے بورے بھی کسی کام کے نہیں اور دولت سے کبھی خوشی نہیں خریدی جا سکتی۔الغرض ہر سال اپنے ساتھ جو خوشیاں اور غم لاتا ہے انھیں با رضا و رغبت قبول کیجیے کیونکہ آپ کو ہر برس آپکا طے کیا ہوا مقدر ہی عنایت کیا جاتا ہے۔اس سال بھی آپ کو جو عنایات میسر آئیں ذرا سوچیے کہ اس کے پیشتر شاید آپ کی رسائی سے وہ تمام عنایات فاصلے پر ہوں اور اس سال آپ کی رسائی میں پہنچیں۔

گزرے ہوئے سال میں کئی ایسے چہرے تھے جو ہمارے آشنا تھے،جن سے ہماری قربتیں قریب ترین تھیں لیکن ہمیں مجبوری میں انھیں الوداع کہنا ہی پڑا۔کئی دوستیاں تھیں جنھیں ہمیں فنا کرنا ہی پڑا۔کئی جگہ ہمیں اپنی محبت کو ظاہر کرنا پڑا اور کئی جگہ ہمیں اسی محبت کو چھپانا پڑ گیا۔کئی سودے ہوئے،کئی کمپرومائز ہوئے،کئی خواہشات مچلیں،کئی خواہشات مچلنے سے قبل ہی دم توڑ گئیں،کچھ نئی یادیں دل میں وارد ہوئیں اور کچھ پرانی یادوں کو کھرچ کھرچ کر پھینک دیا گیا،کئی خوشیاں ملیں،کئی غم آئے،ہمارے لیے کئی در وا ہوئے اورکئی دروازوں سے ہمیں پھٹکار دیا گیا،کئی باتیں کھول کھول کر بیان کر دی گئیں اور کئی دلوں میں ہی پنہان کر لی گئیں،کئی بار دوستوں سے ناراضگیاں ہوئیں اور ان کو منایا گیا،یاد کیجیے کئی بار!کئی تعلقات بنے کئی ٹوٹ کر بکھر گئے،کئی راز ہمیں معلوم ہوئے اور کئی ہمارے راز اوروں کو معلوم پڑے،ذرا یاد کیجیے!کئی ایسے تعلقات تھے جو سالوں سے بندھے ہوئے تھے وہ اس برس ٹوٹ گئے اور کئی تعلقات سالوں سے بکھرے پڑے تھے جو اس برس جڑ گئے،

citytv.pk
citytv.pk

کئی محبت کرنے والے ہم سے جدا ہوئے اور نئی محبتیں ہمارے دل میں وارد ہوئیں،جو رشتے، تعلقات، دوستیاں ٹوٹ گئیں وہ خود تو مٹ گئیں مگر اپنے پیچھے انمٹ نقوش چھوڑ گئیں اور ہمارے لیے ناقابلِ فراموش یادیں اور باتیں چھوڑ گئیں۔الغرض یہ سال بھی آفات اور آسائشوں سے بھرپور گزر ہی گیا لیکن کئی لوگوں کے لیے یادگار بنا کئی لوگوں کو یادگار بنا گیا۔ہمیں چاہیے کہ گزرے ہوئے سال پر دو قطرے آنسو ضرور بہا لیں تاکہ خوشی و غم کی حدت کو کچھ کم کیا جا سکے جو ہمیں میسر آئے تھے۔اگر غور کیا جائے تو یہ صرف ایک سال نہیں گزرا بلکہ ایک عہد گزر گیا ہے ایک زمانہ تھا جو آیا اور چلا گیا کیونکہ اب تو ہم کہہ رہے ہیں کہ یہ ایک سال ہی تھا لیکن جس جس نے ایک ایک دن کر کے اسے گزارا اس سے پوچھ لو کہ پورے تین سو پینسٹھ ایام تھے جوگزارنے کے لیے دیے گئے تھے۔اچھا بھلا تھا سال جو گزر گیا اور آنے والا شاید اس سے بہتر ہی ہمارے لیے لائے گا اور شاید اس سے بھی بدتر ہو۔
دن گزرے،دل بگڑے،بگڑ گئی تقدیر
دھیرے دھیرے بدل گئی بچپن کی تصویر (آسی)

جہاں تک میری بات ہے تو میں نے یہ سال باقی سال کی طرح ہی گزار دیا،کچھ خاص نیا نہیں کیا،ہاں البتہ دو تین واقعات میری زندگی میں وقوع پذیر ہوئے جنھوں نے مجھ پر گہرے اثرات مرتب کیے ان میں سے پہلا تئیس مارچ کو میری بہت پیاری دادی جان کا وصال تھا جو میرے لیے صدمہ عظیم تھا۔وہ میری دادی جان کم میرا یار زیادہ تھیں ان کو میں پیار سے میرا بیٹا میرا پتر کہہ کر پکارتا تھا۔وہ میرے لیے بوڑھی کم تھیں بلکہ بچہ زیادہ تھیں۔ان کی ساری باتیں جو ان سے میں نے گھنٹوں بیٹھ کر کی تھیں وہ مجھے آج بھی یاد ہیں۔میں نے ان سے ان کے بچپن کے سبھی قصے اور ان کی شادی بیاہ کے سبھی واقعات تک سن لیے تھے۔آج بھی کبھی کبھی ان کی کمی محسوس کرتا ہوں اور دل دکھی سا ہو جاتا ہے۔

citytv.pk
citytv.pk

دوسرا اہم ترین واقعہ جو میری زندگی کا سنگِ میل ثابت ہوا وہ میرے دوست سے متعلق ہے۔عرصہ دراز بعد اگست کی سات تاریخ کو میری اس دوست سے بات چیت شروع ہوئی جو انتیس نومبر جمعہ والے دن تک جاری رہی۔اس عرصے میں ہم نے کافی گپ شپ کیں،کافی رازونیاز ایک دوسرے کو دیے،اور کافی اچھا وقت گزارا۔لیکن پھر اس دوستی کو شاید ہماری ہی نظر لگ گئی اور کچھ غلط فہمیاں دونوں جانب پیدا ہوگئیں،اور بہت کم بات ہونے لگی۔ہماری دوستی تو میرے خیال سے آج بھی قائم ہے لیکن وہ جناب اب دور چلے گئے ہیں اور اپنی پڑھائی میں مشغول ہو کر مجھے یکسر فراموش کیے بیٹھے ہیں۔

اور بھی بہت سی کھٹی میٹھی یادیں اس برس نے میری جھولی میں ڈال دیں ہیں جنھیں احاطہ تحریر میں لانا شاید ممکن نہ ہو لیکن اس برس نے مجھ پر کئی مطالب واضع کیے،زندگی کے کئی مفاہیم میری نگاہ سے گزرے اور کئی عادتیں سدھریں اور کئی بگڑ گئیں۔ دن گزرنے کے لیے ہوتے ہیں،مہینے گزرنے کے لیے ہوتے ہیں اور اسی طرح سالوں کو بھی گزارنا ہی ہوتا ہے اور یہ سال بھی اگر گزر گیا ہے تو ہمیں اپنی کمیوں اور خامیوں پر نگاہ دوڑانی چاہیے اور نئے سرے سے عزم کرکے آگے بڑھنا چاہیے۔جن ارادوں کو اس سال میں عملی جامہ نہیں پہنایا جا سکا تہئیہ کریں کہ اگلے برس لازمی اسے پورا کریں گے۔کچھ نئے ارادے بنائیں اور انھیں پورا کرنے کیلئے تن من کی بازی لگا دیجیے، انشاء اللہ کامیابی آپ کا مقدر بنے گی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.