بڑے کشکول، بڑے بھکاری تحریر : زرقانسیم غالب

"آواز اٹھا سکتے ھیں ھم قید کی خاطر خاموش ھیں پر اتنے بھی خاپش نہیں ھیں"

0 92

"آواز اٹھا سکتے ھیں ھم قید کی خاطر
خاموش ھیں پر اتنے بھی خاپش نہیں ھیں”

برائی کی قید سے باھر نکلو !!

اگر کسی کی ذرا سی مدد کرنے کا مقصد دکھاوا کرنا ھے تو خدارا باز آجائیں اس نیکی کی آڑ میں ڈرامہ رچانے کا، کوئی کام محض اس نیت سے مت کریں کہ دکھاوا اور ایڈ ملے اندر سے آپ انسانیت سے دور ھیں یہ بہت سے لوگ جانتے ھیں بس خاموش رھتے ھیں کہ ھمیں کچھ نہ کچھ مل جائے شرم آتی ھے مجھے ایسے لوگوں کو دیکھکر صرف اور صرف شوبازی حقیقت میں تو یہ خود سب سے بڑے بھکاری ھیں جو اپنی طرف سے مدد کرنے کا جھوٹا کام سر انجام دے رھے ھیں ۔۔۔

 

” بڑے کشکول بڑے بھکاریوں کے ھاتھ ھی میں ھوتے ھیں ” کیسے کیسے طریقے بنا رکھے ھیں مانگنے ھیں کچھ چھوٹے بھکاری ھوتے ھیں جو گلی محلے سڑک کے کونے پر کچھ سگنلز پر منلاتے پھرتے ھیں یہ سب مافیا ھے اور بڑے لیول پر چل رھا اس میں بھی بظاھر بڑی مشہور و معروف ھستیاں اپنے حصے کے کام سنبھالے بیٹھے ھیں کوئی بڑا معرکہ مار رھے ھیں ۔۔

گود میں بچے اٹھائے عورتیں خوب جانتی ھیں کیسے مانگنا ھے مجھے تو حیرت ھوتی ھے ھمارے بچے تو کبھی اس طرح نہیں سوتے گود میں جیسے ان عورتوں نے لٹکائے ھوتے ھیں یہ سب نشا آور کوئی میڈیسن دے کر سلایا ھوتا ھے ۔۔۔۔۔۔ ان ھی بہروپیوں کیوجہ سے اصل میں جو غریب حقدار اور سفید پوش ھیں ان کا حق مارا جاتا ھے
مجھے حکومت سے بھی شکائت ھے کیا اسے یہ سب نظر نہیں آتا جب کوئی ایک گھر کو، خاندان کو، سکول، دفتر، دوکان کو چلاتا ھے تو اسے بہتر سے بہتر بنانے کی کوشیش کرتا ھے

 

کیا حکومت صرف عہدہ پر فائز ھو کر خود کو بڑا مہان عہدادار سمجھتے ھیں ھر علاقے کے ایم ان اے، ایم پی اے کو ھر لیڈر کو اپنی ذمہ داری سمجھنی چاھیئے لیکن یہاں تو آوے کا آوا ھی مردہ ضمیر لیئے گھوم رھا ھے تبھی کچھ نہیں بنا شعور سے ھم کوسوں دور ھیں یہی کامیاب نہ ھونے کی بڑی وجہ ھے کچھ ادارے تنظمیں اسی کام کو کرنے کے لیئے بنی ھیں مگر عمل ندارد ۔۔۔ صرف مال بنایا اور کھوکھلا نام ۔۔۔۔ شرم آتی ھے یہ مہذب قوموں کا حال نہیں یہ انسانیت نہیں ۔۔ کئ سفید پوش انسان اپنی عذت نفس کو مجروح نہیں ھونے دیتے لیکن وہ سچ میں مدد کے قابل ھوتے ھیں

 

انھیں یہ امداد عذت کیساتھ ملنی چاھیئے مگر کہاں جی یہ نمود و نمائش کے بھکاری ھمارے بڑے بھکاری تصویر بنانی ویڈیو بنانی اپنا اولین فرض سمجھتے ھیں کہ تب تک وہ اس شخص کی مدد نہیں کریں گے جب تک کوئی ان کے نیکی کی آڑ میں چھپے بد کارناموں کی گردان نیکی میں نہ کریں ۔۔ ڈوب کے مر جائیں ایسے بڑے بھکاری این جی او کی آڑ میں حرام کھا رھے ھیں جھوٹی شان و شوکت کے متلاشی ۔۔

کب اللہ نے کہا؟ نیکی کرو اور ڈًھنڈوڑا پیٹتے پھرو اللہ رب العزت تو بڑی شرم والا ھے اس نے فرمایا ایک ھاتھ سے دو تو دوسرے کو خبر نہ ھو یہی اس کی شان ھے ۔۔ ھم کب اپنے اللہ کے دی ھوئی ان گنت نعمتوں، رحمتوں کا شکر کرتے ھیں ناشکری ھمارے خون میں بھاگتی پھرتی ھے ھر انسان کے آگے جھکتے پھرتے ھیں جیسے وہ خدا ھو وہی سر خدا کے آگے جھکا لیں سب میں نمایا ھو جاو گے ۔۔

 

"ھم اھل درد، سخن فہم شہر کے باسی
کہاں شکایت ناقدری ء ھنر کرتے”

میں نے بہت بڑے نام بڑے بھکاریوں کے آگے جھکتے دیکھے ۔۔ صد افسوس !!
دو بڑی این جی اوز میں بطور۔ ڈائریکٹر کام کیا کچھ عرصہ کام کرنے کے بعد احساس ھوا کہ یہ سب برا ھو رھا ھے بہت برا دن رات محنت بھی کی ذاتی پیسہ بھی لگایا لیکن وہ نیکی سب بیکار سو چھوڑ دیا اس نیکی کے لبادے میں چھپے کاروبار کو ۔۔

ان بڑے بھکاریوں کی حثیت کو خوب پہچانا کیے کھانا کھلاتے ھیں کن کی مدد کرتے ھیں اور جن سے ایڈ لینی ھوتی ھے کیسے ان کے تلوے چاٹتے ھیں کچھ ھماری عوام بھی اپنی خوداری کو مار چکی ھے وہ سمجھتے ھیں ان کی چاپلوسی کرنے سے ھمیں کچھ مل جائے گا اور کچھ نمود نمائش کے لیئے ان کے پیچھے پیچھے دم ھلاتے پھرتے ھیں اس بات کو یکسر بھلا کر کہ رزق تو صر اللہ نے ھی دینا ھے جو پٹھر میں بھی کیڑے کو دیتا ھے اور عذت انسان اپنی خود بناتا ھے کچھ اصول بنا کر اپنے اعمال سے اپنا مقام پیدا کرتا ھے تو پھر کیوں ان بڑے بھکاریوں کے تلوے چاٹے جاتے ھیں انھیں بتایا جائے آئینہ دکھایا جائے کہ تم کونسی نیکی کر رھے ھو ؟؟

نمود و نمائش کے بھکاری اور خوب جانتے ھیں کیسے مانگنا ھے ان بڑے بھکاریوں نے چار جماعتیں پڑھ کر تعلیم کے شعور سے بھی ناآشنا ھیں خالی ڈگری ھونے سے کیا ھوتا ھے یہ سب اندھے گونگے بہرے پڑھے لکھے ھیں وہ بھی جو بڑے پڑھے لکھے ھو کر ان کے پیچھے پیچھے پھرتے ھیں یہ خو بھی پڑے لکھے اندھے گونگے بہرے ھیں یہ بھید کتنا بھی چھپالیں شعور کی آنکھ ان بڑے بھکاریوں کو دیکھ ھی لیتی ھے
اگر انھیں یہاں نہ روکا گیا تو یہ کھیل نجانے کیا رنگ دکھائے گا جاگو اور ان بھکاریوں کو پروان چڑھنے سے روکو

"رھبر ھی راھزنی کریں جس دیس میں
چھن جاتی ھے سروں سے ردا میں نے دیکھا ھے”

این جی او کا مطلب یہ ھے کیا ؟

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.