ملاوٹ مافیا، گرانفروش، اور ذخیرہ اندوز معاشرے کے مجرم ہیں ! تحریر : مقصود احمد سندھو

عوام کی جیبوں پہ ڈاکہ ڈالنے والے ناسوروں کو نشان عبرت بنایا جائے

0 96

ملک میں جب بھی کوئی بحران پیدا ہوتا ہے موقع پرست،منافع خور،ذخیرہ اندوز،گرانفروش اور بد عنوان عناصر فوری طور میدان میں آجاتے ہیں اور تما م اخلاقی v اقدار کو بالائے طاق رکھتے ہوئے عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے میں مصروف ہوجاتے ہیں اور ان کے خلا ف سوائے زبانی جمع خرچ کے کوئی سخت کاروائی نہیں ہوتی اور وہ اس نرمی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اگلے کسی ایسے موقع کی تاک میں بیٹھ جاتے اور انہیں جونہی کوئی ایسا موقع دستیاب ہوتا ہے وہ ایک بار پھر کمر کس کے میدان میں آجاتے ہیں اور لوگوں کی جیبوں پہ ڈاکہ ڈال کر اپنی تجوریاں بھرنے میں مصروف ہو جاتے ہیں اگر اِکاَّ دُکاَّ کوئی پکڑا بھی جائے تو شہر بھر کی اشرافیہ اور نام نہاد تنظیمیں ان کی پشت پر موجود ہوتی ہیں اور

 

 

وہ ایک بار پھر ایسے ہی کسی موقع سے فائدہ اٹھانے کے لئے آزاد ہوتے ہیں اب کی بار بھی کچھ ایسا ہی منظر نظر آیا جیسے ہی کرونا بحران نے سر اٹھایا ذخیرہ اندوز اور موقع پرست متحرک ہو گئے ایک طرف پوری دنیا کرونا جیسی آفت کا مقابلہ کرنے اس کے تدارک اور روک تھام میں مصروف تھی دوسری طرف ہمارے ہاں مفاد پرست عناسر اشیائے خوردو نوش اوراس بیماری سے متعلقہ سامان کی مصنوعی قلت پیدا کرکے مال بنانے کی فکر میں تھے اور پھر ایسا ہی ہوا اور دو سے پانچ روپے والا ماسک تیس روپے اور ساٹھ سے ستر روپے والا سینیٹائزر دو سو ستر روپے میں فروخت ہوا چار سو اسی روپے والی سیمنٹ کی بوری چھ سو تک پہنچ گئی

 

اس وباء میں ممکنہ طور پر استعمال ہونے والی ملیریا کی دواء مارکیٹ سے غائب ہونے کی اطلاعات موصول ہوئیں جیسے ہی سعودی حکومت نے اپنے اقامہ ہولڈر شہریوں کوچند دن کے نوٹس پر واپس بلایا تو چالیس ہزار والا ٹکٹ ڈیڑھ لاکھ روپے تک فرخت ہونے کی خبریں موصول ہوئیں اور ان کی مجبوری سے خوب فائدہ اٹھایا گیا اس کے علاوہ مستحقین میں ناقص اور زائد المیعاد سامان بانٹنے کی رپورٹس بھی منظر عام پہ آئیں چندہ کرکے جمع کی گئی رقوم سے گھٹیا،زائدالمعیاد اور ناقص سامان کی ترسیل سے فائدہ اٹھایا گیا حتیٰ کہ گورنمنٹ کی طرف سے دی جانے والی امدادی رقوم میں سے بھی بعض خوف خدا سے عاری اہلکاروں نے کٹ لگانے میں عار نہ سمجھی پوری دنیا اس وقت خوف اور سراسیمگی کی کیفیت سے دو چار ہے

 

citytv.pk
citytv.pk

کرونا وائرس نام کا عفریت ایک وباء بن کر 200سے زائدممالک میں اپنے منحوس پر پھیلا چکا ہے اور اس نے کرہ ئارض پر موجود تمام ممالک کودہشت اور غیر یقینی کی صورت حال سے دوچار کر رکھا ہے اطلاعات کے مطابق اس کے مریضوں کی تعداد بیس لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے اور سوا لاکھ سے زائد لوگ اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں دنیا بھر میں میڈیکل ایمرجنسی قائم ہے اور ا س کے تدارک اور اس سے بچاؤ کی کوششیں ہو رہی ہیں مگر ہمارے ہاں جہاں لوگ خدمت خلق میں مصروف ہیں وہیں لوٹ مار بھی نظر آرہی ہے اور ایسی صورت میں لوگ پوچھ رہے ہیں کہ عوام کی صحت اور زندگیوں کے ساتھ کھیلنے،

 

 

ان کی جیبوں پہ ڈاکہ ڈال کر ان کے مال پہ ہاتھ صاف کرنے والے ان معاشرتی ناسوروں کے خلاف کریک ڈاؤن کیوں نہیں کیا جاتا؟مشکل کی اس گھڑی میں پریشان حال لوگوں کی پریشانی میں ا ضافہ کرنے والے ان ظالموں اور فرائض میں کوتاہی کے مرتکب افراد کے خلاف تادیبی کاروائی کیوں عمل میں نہیں آرہی؟اشیائے ضروریہ اور خوردونوش کی قلت پیدا کرکے گراں فروشی کے مرتکب ہونے والے ان بد قماشوں کو نکیل کیوں نہیں ڈالی جاتی؟ اس قبیح فعل کو مسقل طور پہ روکنے کے لئے قانون سازی کیوں نہیں کی جاتی؟کیوں انہیں قانون کے ساتھ کھلواڑکرنے کی کھلی چھٹی ملی ہوئی ہے؟ شائد اس کی ایک بڑی وجہ سال ہا سال سے اداروں کی بے توجہی اور ان کے خلاف اختیار کی گئی چشم پوشی ہے

 

 

جس کی وجہ سے یہ مافیاء خود کو مادر پدر آزاد سمجھتا ہے یہی وجہ ہے کہ قومی،مذہبی تہواروں،رمضان المبارک جیسے مقدس مہینے اوراچانک پیدا ہونے والی بحرانی کیفیت میں قیمتیں بڑھا کر عوام کودونوں ہاتھوں سے لوٹنا ان کی عادت ثانیہ بن چکی ہے متعلقہ اداروں کی ان کے خلاف کاروائیاں محض رسمی ثابت ہوتی ہیں جو زیادہ تر کاغذی کاروائیوں اور سیلفی تک محدود نظر آتی ہیں بعض اوقات چھاپے کے وقت محکمہ کے اندر سے کوئی کالی بھیڑ انہیں قبل از وقت اطلاع دے دیتی ہے جس سے وہ ہوشیار ہو جاتے ہیں اور اپنے بچاؤ کو یقینی بنا نے میں کامیاب ہو جاتے ہیں

 

citytv.pk
citytv.pk

جس سے سفید پوش طبقہ کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے کسی بھی کامیاب حکومت کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ وہ ہنگامی صورت میں حالات کو کنٹرول میں رکھنے کے لئے مفاد عامہ کے خلاف سر گرم عناصر اور مافیاز پر گہری نظر رکھے اور انہیں من مانی کرنے سے روکنے کے لئے ممکنہ اقدامات اٹھائے تاکہ یہ بد قماش لوگ اپنے مذموم عزائم میں کامیاب نہ ہوسکیں ناجائز منافع خوری،ذخیرہ اندوزی اور ملاوٹ کو ایک سنگین جرم تصورکرتے ہوئے ان کے خلاف سخت کاروائی کی جائے کیونکہ مردہ ضمیر، نا عاقبت اندیش،اور حرام خور وں کا نہ ضمیر ملامت کرتا ہے، نہ انہیں خوف خدا ہے، نہ ہی انہیں اخلاقی اقدار کی پاسداری ہے حلال حرام کی تمیز کی پرواہ کئے بغیر یہ لوگ اپنی تجوریاں بھرنے میں مصروف رہتے ہیں

 

جبکہ ملت پر مشکل وقت آنے کی صورت میں ایک دوسرے کی مدد کرنا ہمارا قومی فریضہ ہے اس کے علاوہ اسلام میں ناجائز منافع خوری کی سختی سے ممانعت ہے ملاوٹ اورذخیرہ اندوزی کو بد ترین گناہ تصور کیا جاتا ہے ا ور اس کیلئے سخت وعید سنائی گئی ہے اس لئے ذاتی مفادات کے حصول میں مصروف اس گروہ کے خلاف عوام الناس کو بھی آواز اٹھانا ہوگی تاکہ اس منافع خور اور موقع پرست مخلوق کو لگام ڈالی جاسکے اس کے علاوہ حکومت پرائس کنٹرول کمیٹیوں کو زیادہ فعال بنائے پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی کارکردگی بہتر بنانے کے لئے

 

انہیں زیادہ اختیارات دئیے جائیں انہیں سیاسی اثرو رسوخ سے بے نیاز کیا جائے جس کے لئے ان کو زیادہ تنخواہیں دی جائیں نہ کہ ا نہیں اعزازی طور پہ تعینات کیا جائے یہ مصائب و مسائل اپنی جگہ قومی اور صوبائی حکومتوں کے عوام کی بہتری کے لئے اٹھائے گئے اقدامات قابل ستائش ہیں اور مباکباد کے مستحق ہیں ایسے تمام افسران ادارے،تنظیمیں اور افراد جو لوگوں کی فلاح اور غریب عوام کے پیٹ کے دوزخ کی آگ بجھانے کا بندو بست کرنے میں مصروف ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.