کچھ کر نہیں پاتے ۔۔ مگر کچھ کر بھی سکتے ہیں ! تحریر : زر غو نہ خالد خان

ہماری سوسائٹی کا ایک یہ بہت تاریک پہلو ہے کہ اگر حق و سچ کا مقابلہ ہے تو تمام جھوٹے لوگ ایک ساتھ مل جاتے ہیں ۔ سچ کو نیچا دکھانے کیلئے اس کا کوئی ساتھ نہیں دیتا۔

0 221

ہم جہاں رہتے ہیں جس سوسائٹی میں، وہ ہماری پہچان ہے۔ ہمیں بناتا اور بگاڑتا ہے، جس معاشرے میں قانون، عدل انصاف کی دھجیاں اُڑائی جاتی ہیں، جہاں امیر امیر تر غرب غریب تر ہو جاتا ہے، غربت، افلاس کے بارے لوگ کسمپرسی کی زندگی گزاریں وہ معاشرہ کیسے پروان چڑھے گا، جس معاشرے میں انصاف کی کمی ہو، وہ معاشرہ کبھی ایسے عوام کو آگے نہیں پہنچا سکتا۔ عدل انصاف ایک معاشرے کا لازمی جزو ہے۔ معاشرے میں بگاڑ تب ہوتا ہے جب افراد اپنی ذمہ داریاں نبھانے سے قاصر ہوں۔ اس معاشرے میں ہرشخص کا کردار ادا ہونا چاہیے۔ پر ہماری خوش نصیبی ہے کہ ہم سب اس معاشرے میں رہتے تو ہیں پر اپنا کردار ادا کرنا جرم سمجھتے ہیں۔

سب اس معاشرے اور گھسی پٹی سوسائٹی کو مجروح کرنے میں ہر اول داستہ لیئے ہوتے ہیں۔ ہمارا آج کا معاشرہ ایک ایسی نہج پر پہنچ چکا ہے جس کا کوئی پرسان حال نہیں، قانون غریبوں کے لئے الگ امیروں کے لئے الگ، غریب بغیر قصور بند، امیر قصور کر کے آزاد، غریب کی سنتا کوئی نہیں امیر سنتا کسی کی نہیں۔ کیسے کوئی نظام سدھر سکتا ہے جب اوپر سے نیچے تک بدترین کرپٹ ہوں ہر ادارہ کھانے اور کھلانے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہا ہو، اگر ایک ٹھیک کام کرنے والا آ جائے تو اس کا حشر نشر کر دیتے ہیں۔ ہماری سوسائٹی کا ایک یہ بہت تاریک پہلو ہے کہ اگر حق و سچ کا مقابلہ ہے تو تمام جھوٹے لوگ ایک ساتھ مل جاتے ہیں ۔ سچ کو نیچا دکھانے کیلئے اس کا کوئی ساتھ نہیں دیتا۔ یہاں تک کہ سچ انے لئے بھی بولتے ہوئے گھبراتا ہے کہ میں ٹھیک ہوں، صحیح ہوں، سچا ہوں۔ اس طرح کے حالات میں ہماری آنے والی نسل کیا سیکھتی ہے، جھوٹ، نفرت، گھناؤنے کھیل، سفارش۔ حق حلال کی کمائی کے بغیر، حرام کی کمائی سے پرورش پانے والی نسل کیسی ہوگی؟ کمزور ایمان والی گمراہ خیالات والی، قانون انصاف سے دور، آسانی تلاش کرنے والی، ہم سوچتے ہی نہیں کیا کر رہے ہیں؟

citytv.pk
citytv.pk

ایک ملک اپنی نوجوان نسل کے ہاتھوں آگے بڑھتا ہے، اسی نسل تو اعلیٰ تعلیم یافتہ مضبوط ایمان والی مضبوط عقیدوں والی، ٹھیک غلط کو پہچاننے والی مگر اپنی نسل کو تباہ کرر ہے ہیں، جیسے کچھ پتہ نہیں پتہ صرف مغر ب کی تقلید، فیشن کے مارے، کیا یہ نسل آگے اج کر اپنے ملک کی باغ دوڑ سنبھالے گی یا نہیں؟ کیا معاشرہ جو عوام سے بنتا ہے سدھرے گا، سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ہمارا ملک کیسے آگے بڑھے گا، کیسے پروان بڑھے گا۔ عدالتیں انصاف پہنچانے کیلئے ہیں لیکن یہاں عدالتیں دکانیں ہیں، جہاں طاقت ور پیسے والا براجمان ہے۔ پیسہ ہے تو اس دن بھی ضمانت جب چھٹی ہے، مگر ہاں پیسہ ن ہیں تو سال ہا سال تاریخ پڑتی رہتی ہیں۔ ڈاکٹڑ ہیں تو اپنی دکان داری میں مصروف غریبوں کے بچے روڈ پر پیدا ہو رہے ہیں۔ غلط انجکشن لگنے سے نوجوان مر رہے ہیں، والدین سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں، یہی صورتحال ہے مرنے والے مرتے جا رہے ہیں، کوئی سوچا نہیں کیا ہونے جا رہا ہے، کیا ہوگا؟

اساتذہ اکیڈمیاں پڑھانے کے چکروں میں ہیں، تاکہ اکیڈمیاں روشن ہوں۔ خوب آمدن ہو۔ سب افراتفری میں ہیں۔ سکون شاید کسی کو نہیں کیونکہ ہم حلال سے حرام کا سفر کرتے ہیں اور بگاڑ پیدا ہوتا ہے معاشرے میں۔ہم معاشرے کا حصہ ہیں۔ معاشرہ ہم سے بھی بنتا ہے۔ جب ہم مجروح کمزور ایمان والے افراتفری میں، بے حسی میں، ہوں گے تو کیسے معاشرہ مضبوط ہوگا۔ کیسے ملک ترقی کرے گا۔یہ ہمارے لئے سوچنے کا مقام ہے، کچھ کرنے کا، سب کو اپنا اپنا حصہ ڈالنا پڑے گا۔ اس ملک کی ترقی، خوشحالی، آبرو کے لئے یہ معاشرہ یہ ملک اور ہم انسان سب ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔ ہمیں اپنی نسل کو حرام حلال کی تمیز دینی ہوگی۔ حق سچ اچھے برے کی پہچان کراونی ہوگی۔ حلال کی چھٹی سے ہی پہچان ہوگی۔ ہماری نسل کو حرام کی خوراک تباہی کے دہانے پر لے جاتی ہے۔ سو اب یہ سوچنے کا نہیں بلکہ عمل کرنے کا وقت ہے ہمارے لئے۔

citytv.pk
citytv.pk

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.