فاتح قلوب حضرت خواجہ معین الدین چستی اجمیری سنجری رحمتہ اللہ علیہ صارم اقبال رائیار دودھ پتھری بڈگام کشمیر

حضرت خواجہؒ کے نزدیک فقرو قناعت،تزکیہ نفس،تصفیہ قلب،نفسیاتی خواہشات سے پرہیز اور معبود حقیقی کی عبادت و ریاضت کو خاص اہمیت حاصل ہے۔

0 192

بر صغیر ہندو پاک میں اشاعت اسلام کا سہرا بززردگان کے سہر رہا ہے۔بزردگان دین کی مساعی جمیلہ کے طقیل ہندو پاک میں نہ صرف اسلام کی شمع روشن ہوئی بلکہ موجودہ پاکستان و ہندوستان کے وسیع و عریض علاقوں میں بسنے والوں لوگوں کو معاشرتی اور اخلااق تربیت کی تکمیل انہیں بزردگان دین و اولیائے کا ملین کے ذویعے ممکن ہوئی۔اللہ کے ان بندوں نے نہ صرف دین اسلام کی بصیریت سے لوگووں کے دلوں کو منور کیا بلکہ ان کے حسن سلوک اور اسلام کی اعلی اخلاقی قدروں کے باعث یہاں کے مقامی معاشرے میں اخلاقی اوصاف کے بلند درجے پر فائز کیا۔ان اولیاء کا ملین اور بزرگ ہستیوں نے اپنے اخلاق اور بلند کردار سے لوگوں کے دلوں کو تسخر کیا اور ہزاروں بلکہ لاکھوں لوگوں کو ایمان کے نور سے منور کیا۔یہ اکابر صوفیا اپنیے ذاہد و تقوای اعمال صالح اور تبلیغی کاموں کی وجہ سے بے حد ممتاز رہیے اور ان مخلصا نہ کو ششوں کے ہندو پاک کے معاشرے سے ہندوں کا فکری جمودنہ صرف ٹوٹ گیا بلکہ بیے شمار جاہلانہ رسوومات ضحیف الااعتقادی اوہام پرستی ذات پات کا نظام اور کفروشرک کی جو گٹھائیں صدیوں سے پھیلی ہوئی تھی دور ہوگئی۔

 

توحید و رساالت کا علم بلند ہوا۔کفر و شرک سے آلودہ دلوں سے نور توحید سے سر شاد ہوئے۔ان بزرگ و اولیاء کا ملین میں سر زمین ہنندوستان پر اللہ رب الفرت نے جس ہستی کو ودعوت و تبلیغ کے لیے منتخب فرمایا وہ سلسلہ چستیہ کے ممتاز نام مبارک حضرت خواجہ خواجگان معی الدین چستی اجمیر یؒکا اسم مبارک قابل ذکر ہے۔حضرت خواجہ خواجگان معین الدین چستی ؒنے ارشاد غیبی سے ہند کی سر زمین کو اسلام اور اس کی رروحانیت سے سرفراز کیا۔حضرت معین الدین حسن چستی ؒموضوع سنجرخراسان 14رجب 537میں پیدا ہوئے۔ آپ ؒ کے والد کا نام حضرت غیاث الدین حسن ہے اور والدہ ماجد کا اسم مبارک بی بی امالورع اور بی بی ماہہ نور سے مشہور تھی۔حضرت خواجہ صاف والد کی طرف سے حسینی اور والدہ کی طرف سے حسنی سیدہ ہیں۔حضرت خواجہ غریب نواز ؒکے والد حضرت غیاث الدین حسنؒ اپنے وقت کے جدید عالم تھے۔حضرت خواجہ ؒ صاحب بچپن میں ہی ذہین تھے اور بنا یا جاتا ہے کہ آپ ؒ نے نو سال کی عمر میں ہی قران مجید حفیظ کر لیا۔آپؒ نے چھوٹے ہی عمر میں اپنے ہی گاوئں کے مکتب میں داخلہ لے کر تفسیر،فقہ اور حدییث کی تعلیم پائی اور دیگر علوم میں مہارت حاصل کی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ خواجہؒ صاحب بچپن میں ہی والد کے سایہ سے محروم ہوئے جب آپؒ کی عمر مبارک خالص پندرہ سال تھی جو کہ آپ ؒکوکسی بڑے صدمے سے کم نہ تھا۔ والد صاحب کے انتقال کے ساتھ ہی ترکے میں ملا سب مال و اسباب فروخت کر کے ساری رقم غرباء میں تقسیم کیا اور خود محبوب حقیقی کے جلووں کی تلاش میں عازم سفر ہوئے اور تقدیر اللہی نے سمر قند پہنچایا۔

 

سمر قند میں آپؒ نے دینی علوم کی تکمیل کی۔آپؒ نے عرب و عجم کے مختلف بلاد جوار کی سیاحت کر کے خاصکر ہارون میں حضرت خواجہ عثمان ہارونیؒ کی قدم بوسی میں تقریبا بیس سال کا عرصہ گزارا اور اپنے مرشد پاک کی خدمت میں حج و عمرہ کا فریضہ انجام دیا۔مکہ و مدینہ شریف میں کچھ وقت اپنے پیرومرشد کے ساتھ قیام فرمانے کے بعد حضرت خواجہؒ نے ہندوستان کی طرف پیش قدمی کرنے کا فیصلہ فرمایا تاکہ اللہ کے دین کی سر بلندی میں اس ملک کی بھی آبیاری ہو سکے۔حضرت خواجہ غریب نوازؒ نے سمر قند،بخارا،عروس البلاد،بغداد شریف،نیشا پور تبریز،اسفہان،سبزوار،خراسان،خرقان استر آباد،بلخ، غزنوی سے ہوتے ہوئے حضرت داتا گنج بخش علی ہجویریؒ لاہور کے مزار اقدس پر حاضری دے کر ہندوستان میں دہلی پہنچے۔ اپنے اس طویل سفر میں آپؒ نے سینکڑوں اولیاء کاملین و عالم الدین کے ساتھ ملاقات کی۔ دہلی میں قیام فرمانے کے بعد آپؒ نے اجمیر شریف کا رخ کیا اور بزم صوفیا میں اس حوالے سے درج ہے کہ حضرت خواجہ صاحبؒ نے اپنی روحانی اور اخلاقی طاقت سے دہلی سے اجمیر کے سفر کے دوران سات سو غیر مسلموں کو مسلمان کیا۔
۰۹ ۱۱؁ء میں حضرت خواجہ غریب نوازؒ وارد ہندوستان ہوتے ہی اس وقت ہندوستان پورا ملک کفروشرک کی آمجگاہ تھا۔خدا کی خدائی میں ایک دوسرے کو شریک کرتے تھے۔اجمیر اس وقت راجپوت فرمانروا پرتھوی راج چوہان کے زیر اثر تھا جو طاقت و حکومت اور ہندو مذہب کا بہت بڑا مر کز تھا۔ پرتھوی راج چوہان کے زیر اثر حکومت میں اجمیر اور دہلی خواص تھے۔خواجہ معین الدین ؒ کی ہندوستان آمد سے پہلے پرتھوی راج چوہان کے ساتھ سلطان شہاب الدین غوری نے پہ در پہ حملے کئے تھے لیکن ہر بار شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

 

اس سے پہلے اگرچہ سلطان محمد غزنوی نے ہندوستان پر چڑھائی کی تھی مگر یہ حملے ہند میں ایک خاص قسم کا دباوء رکھنے کا تھا۔محمود غزنوی کی فتوحات کا سلسلہ سلطان شہاب الدین غوری نے آگے بڑھایا مگر راجپوت پرتھوی کو شکست نہ دے سکا۔ جب خواجہؒ کی آمد کی خبر فرمانرو ا پرتھوی راج وقت کو ملی تو آپؒ کی استقامت کا امتحان شروع ہو گیا۔پرتھوی راج چوہان نے نے جب اسلام کی شمع کو پھیلتے دیکھا تو اپنی کوتاہ پھونکوں سے شمع اسلام بجھانے کی نا پاک سعی کرنے لگا اور اسلام کے اس عظیم داعی کے خلاف سازشیں کرنے لگا جو سب بے کار ثابت ہوئی۔راجہ کی جب ساری ترکیبیں بے کار ثابت ہوئی تو اس وقت کے جوگیوں کا سہارا لیا۔خواجہؒ نے جوگیوں اور جادوگروں کو اپنے روحانی کمالات کے ذریعے زیر کر لیا۔ اس دور میں ہندوستان میں کفروشرک و اوہام پرستی کی جڑیں کافی ٹھوس اور مظبوط تھیں۔ طبقاتی نظام اور چھوت چھات کے نظام سے بھرا پڑا ہوا تھا۔حضرت خواجہ صاحبؒ کو اللہ کریم نے ہندوستان بھیجا تا کہ آپؒ دین کی سر بلندی کیلئے سعی و کاوش کریں اور شرک و ظلمت کے مراکز کا خاتمہ کر کے توحید کی شمع فرواں کر دیں۔اجمیر میں وارد ہوتے ہی خواجہ صاحبؒ نے انا ساگر کے مقام پر قیام فرمایا اور اصلاح معاشرہ اور تبلیغ دین اسلام کا فریضہ انجام دے کر ہزاروں نفوس کو اسلام کے دائرے میں داخل فرمایا۔حضرت خواجہؒ نے اپنے اخلاق و کردار،استقامت و کرامت اور جہد مسلسل سے جس گلستاں کی آبیاری کی وہ آج بھی شاداب ہے۔حضرت خواجہؒ کی ہند آمد سے پہلے اسلام ضرور آیا تھا مگر اسلام با قاعدہ طور پر پھیلا نہیں تھا اور آپؒ کے وجود با برکت کی برکت سے دیار ہند میں ہر طرف اسلام کا اجالا پھیلا۔ اللہ نے اپنے دین کی سر بلندی کے لئے خواجہؒ کی راہ میں بنی روکاوٹ اجمیر کے فرمانروا پرتھوی راج کو سلطان شہاب الدین غوری کے ہاتھوں ترائن کے مقام پر۰۹ ۱۱ ؁ء میں زبردست شکست دی اور پرتھوی راج کو قیدی بنا لیا گیا۔

 

اسی طرح ہندوستان میں باقاعدہ ایک مسلم سلطنت کا قیام عمل میں لایا گیا۔جو لوگ راجہ کے خوف سے خواجہ صاحبؒ سے دوری اختیار کئے ہوئے تھے اب بلا کسی خوف و خطر کے کلمہ حق کی طہارت حاصل کر کے اپنے خالق حقیقی اللہ کے حضور سجدہ ریز ہو نے لگے۔آپؒ کی تعلیمات سے خواص و عام راجہ پرتھوی کے خاص آدمی کے ساتھ ساتھ ان کا ایک بیٹا بھی مشرف اسلام ہوا۔ خواجہؒ نے اسلام کی تعلمیات ہر گھر میں پہنچائی۔دور دور تک شمع حق کی روشنی اپنی تابانیوں سے بنی آدم کے دلوں کی تاریکیاں دور کر رہی تھی۔خواجہ صاحبؒ نے اپنے تبلیغ دین اسلام کے لئے اللہ کے نبی ﷺ کے دوباتوں کو پیش نظر رکھا کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا کہ(کسی قوم کی زبان سیکھ لو تو ان لوگوں کے شر سے محفوظ ہو جاو گے) دوسری بات (لوگوں کے ان ذہنی اور عقلی سطح کے مطابق ان سے گفتگو کیا کرو)۔حضرت خواجہ صاحب نے اپنی تبلیغی سرگرمیوں میں اللہ کے نبی ﷺ کے نقش قدم کو اپنا مشن بنا کر اسلام کو ان کے حقیقی معنی میں لوگوں میں متعارف کیا جس وجہ سے آپؒ نے دنیائے اسلام کے عظیم داعی بن کر ہمیشہ رہنے والی تواریخ رقم کی۔ حضرت خواجہؒ نے اپنے تمام محبان کو اللہ کی قربت حاصل کرنے کا ذریعہ بھی مرحمت فرمایا جس وجہ سے خواجہ صاحب کے چاہنے والے آپؒ کے مزار مقدس پر سینکڑوں میل مسافت طے کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔آپؒ کو علوم ظاہری و باطنی میں کمال حاصل تھا۔آپ ؒ کی نگاہ ولایت جس پر پڑتی تھی وہ آپؒ کا گرویدہ ہو جاتا تھا۔ابو لفقل آئین اکبری میں لکھتے ہیں کہ خواجہؒ اجمیر شریف میں گوشہ نشین ہوئے اور ہدایت کے بے شمار چراغ روشن کئے،آپ کے نفس قدسیہ کی برکت سے لوگوں کی بڑی بڑی جماعتیں اسلام میں داخل ہوئیں۔حضرت سلطان الہندؒ نے ہندوستان میں کفرو شرک کے خلاف ایسا مورچہ سنبھالا جو کام ہزاروں تلواریں نہ کر سکیں وہ اللہ کے ولیؒ نے خاموشی اور اپنی اخلاقی تحریک نے دکھا کر کے ہندوستان کو دارا الاسلام بنا دیا۔اکثر مورخین بیان کرتے ہیں کہ حضرت خواجہؒ نے کم و بیش نوے لاکھ نفوس کو اسلا میں داخل کر کے ایسا لازوال کارنامہ انجام دیا جس کی مثال تاریخ پیش کرنے سے قاصر نظر آتی ہے۔

یہ کیوں نہ ہوتا کہ خود حضور پرنورﷺ کی بارگاہ میں حضرت خواجہ خواجگان ؒ کو ہند کی طرف دین اسلام کی دعوت کے لئے منتخب فرمایا تھا اور جس کی اطلاع خواجہؓ کو باطنی طور مل گئی تھی۔طلب شہرت،اونچے مقام و منصب کی خواہش،داد و تحسین کی آرزو نہ رکھتے ہوئے خواجہ ؒ نے اپنے اندر اللہ کے نبیﷺ کی اطاعت و محبت کو مد نظر رکھ کر مکی زندگی سے روشنی اور توانائی حاصل کر کے صبرو شکر کی ریتلی زمین و پہاڑوں کو سر کر کے اللہ کے دین کو پھیلایا اور ایک کامیاب داعی بن کر صفہ ہستی میں ابھرنے کے ساتھ ہی ساتھ لوگوں کے دلوں میں بلا مذہب و ملت حکومت کی۔ہندوستان میں برطانوی دور میں وائسرائے ہند لارڈ کرزن کہا کرتا تھا۔”میں نے اپنی زندگی میں دو ایسے بزرگ دیکھے ہیں جو اپنی وفات کے بعد بھی لوگوں کے دلوں پر اس طرح حکمرانی کر رہیے ہیں،جسے وہ بہ نفس نفیس ان کے درمیان موجود ہوں۔ان میں ایک اورنگ زیب اور خواجہ معین الدین چستیؒ کی ہے۔“حضرت خواجہ غریب نوازؒ ایک ایسی عظیم ہتی گزری ہیں جس کے دربار میں حاضری دینا وقت کے شہنشاہ اور سلاطین اپنے لئے باعث فخر سعادت سمجھتے تھے۔سلطان شمس الدین التمش،شہنشاہ اکبر،جہانگیر، و دیگر اس وقت کے ریئس آپؒ کے دربار میں حاضری دے کرآپؒ کی اللہ کی دی ہوئی فیض و برکات سے مستفید ہوتے تھے۔ ہند کے مشہور محدث حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ اپنے ایک رسالے القول الجمیل فیء شفاء العلیل میں فرماتے ہیں کہ حضرت خواجہ معین الدین چستیؒ اس امت کے عمدہ اولیاء میں ہیں جن کے ہاتھوں پر ہزاروں کفار و مشرکین مسلمان ہوئے۔

قدیم تذکروں سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت معین الدین اجمیریؒ حیات مبارکہ بڑی سادگی میں گزری مگر نہایت ہی دلگش گزری۔حضرت خواجہ معی الدین اجمیریؒ شہرت پسند نہیں فرماتے تھے۔خلقت سے دور رہ کر اللہ کی یاد میں مگن ہونے کے ساتھ ہی ساتھ اللہ کے مخلوق کو ان کی دینی و روحانی رہبری بھی فرماتے تھے۔ حضرت خواجہؒ کے نزدیک فقرو قناعت،تزکیہ نفس،تصفیہ قلب،نفسیاتی خواہشات سے پرہیز اور معبود حقیقی کی عبادت و ریاضت کو خاص اہمیت حاصل ہے۔آپ نے تمام انسانوں کو ملک میں باہمی اتحاد و اتفاق اور جزباتی ہم آہنگی قائم رکھنے کی تلقین کی۔حضرت خواجہ صاحب کی تعلیمات کا ہی اثر تھا کہ انگریزوں کو اپنے ملک سے واپس اپنے وطن کی طرف دھیکلنے میں یہاں کے ہر مذہب کے فرد نے بلا کسی مذہب کی درجہ بندی کے اپنا کلیدی رول نبھایا۔حضرت خواجہؒ نے اپنے تبلیغی مشن میں اخوت اور بھائی چارے کو اپنا بنیادی مقصد قرار دیا۔ آپؒ کی مجلس میں بیٹھا حاکم و رعایا دونوں برابر رہیے۔ حضرت خواجہ ؒکو غریبوں کے ساتھ ہمدردی اور شفقت تھی یہی وجہ ہے کہ آپ ؒ دنیا میں غریب نواز ؒ کے مقدس اسم مبارک سے مشہور معروف ہوئے۔عصر حاضر تک صدیاں گزر گئی برطانوی سامراجیت نے بھی ہندوستان سے غریب نوازؒ کے اقتدار کو کوئی ٹھیس نہ پہنچائی بلکہ آپؒ کی شان میں تعریفوں کے پل باندھے اور آج بھی حضرت خواجہؒ کے ان کے دین کی سر بلندی کے لئے انتھک محنت کی داستان بیان کرنے میں کتابوں کے انبار لگے لیکن ہر کسی کے زباں پر”حق تو یہ ہے حق ادا نہ ہوا“ کا جملہ دہرایا جاتا ہے۔اگر ہم مسلمانوں کی اسپین میں سات سو سالہ حکومت کی طرف نظر دوڈایں تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ وہاں مسلمان اقتدار کے سہارے رہیے۔

مسلمانوں کی حکومت جانے کے ساتھ ہی مسلمانوں کو چن چن کر ختم کیا گیا مگر ہند میں حضرت خواجہ ؒ جیسے صوفی بزرگ ہستی کی وجہ سے اگر چہ مسلم اقتدار بہت بار سمٹا مگر مسلمان ابھی بھی باقی ہیں۔یہ سب اللہ کے ولی کی کاوشوں اور تعلیمات کی تاویل کا نتیجہ ہے کہ آپؒ کی محبت ہر مذہب و ملت کے فرد کے دل میں گھر کر گئی ہے۔حضرت خواجہ معین الدین اجمیریؒنے ہندوستان میں دعوت و تبلیغ کا فریضہ انجام دیا اس وقت عالم اسلام منگولوں کی تاراجی میں بکھرا پڑا ہوا تھا۔خاندانی اور تخت و تاج کے لئے لڑایاں لڑی جا رہی تھی۔مسلمانوں میں فرقہ وارانہ فسادات نے جڑ پکڑی ہوئی تھی۔مسلمانوں نے مال و دولت حاصل کرنے لئے اقتدار حاصل کرنا چاہتے تھے۔اس دوران خواجہؒ نے اپنے نبیﷺ کے مشن کو آگے بڑھایا اور اللہ کے حضور تا روز قیامت تک فیض حاصل کیا۔چناچہ ۶رجب المرجب ۶۱ مارچ ۶۳۲۱؁ء فجر کے وقت وصال فرما گئے اور ہمارے دلوں کو اپنے محبت سے رنگ کے تا قیامت تک اللہ کے ساتھ جوڑنے کا فریضہ انجام دیا۔آپؒ کا مزار شریف موجودہ راجھستان کے اجمیر شریف کے شہر میں واقع ہے جہاں مذہب و ملت کے شیدائی حاضری دے کر اللہ کے حضور میں رحمتیں اور برکتوں سے فیضاب ہو رہیے ہیں۔یہ تو خواجہؒ کی کاوشوں کا نتیجہ ہے کہ درگاہ اجمیر شریف پر بلا کسی مذہب کے ایسا ہجوم لگا رہتا ہے کہ نہ دن کی روشنی کا پتہ چلتا ہے اور نہ رات کی سیاہی کا۔اللہ اکبر حضرت خواجہ معین الدین اجمیریؒ نے اطراف عالم میں سیر کر کے دردمندوں کی چارہ سازی،تشنگان علوم و معارف کی سیرابی فرماتے رہیے۔

یا الہی تا ابد آستانہ یار رہیے۔ یہ آسرا ہے غریبوں کا یو نہی بر قرار رہیے۔
sarimiqbal19@gmail.com

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.