ایک روشن دماغ تھا نہ رہا (حسب منشا) تحریر۔منشا قاضی

حکیم عنایت اللہ نسیم کو ایک روشن دماغ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ودیعت ہوا تھا اور آپ نے اس سے مثبت فائدہ اٹھایا

0 61

دنیا عاقل کی موت پر اور جاہل کی زندگی پر صبح قیامت تک آٹھ آٹھ آنسو بہاتی رہے گی۔ عاقل و حکیم کی بزرگی کو ہم عمرِ رواں سے نہیں ناپتے اس کا پیمانہ بزرگی ہے اور بزرگی عقل و حکمت اور دانائی سے ہوتی ہے۔ یونان کی کہاوت بھی اس پر دال کرتی ہے کہ سفید بال عمر کی نشاندہی کرتے ہیں عقل کی نہیں۔ اگر دنیا میں آپ کو سونے سے زیادہ قیمتی چیز ڈھونڈنی ہو تو وہ عقل ہے۔ دانش ہیرے جواہرات سے زیادہ قیمتی ہے۔ دور اندیشی، حکمت، تدبر، تفکر، تعقل، شعور، دانش، کردار، یاداشت، خیالات، جذبات اور تجربات کے پیکر متحرک ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں جنہوں نے اپنی مذکورہ بالا صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر حیرت انگیز انقلابی حکمت عملی سے پائیدار نظریہئ حیات سے نہ صرف اپنا نام تا ابد زندہ کر دیا بلکہ آنے والی نسلوں کو بھی حق و صداقت کی شاہراہ پر ڈال دیا۔

مولانا ظفر علی خان کے دست راست حکیم عنایت اللہ نسیم سوہدروی نے طب اور احیائے طب کے لئے وہ کام کیا جس کی نظیر ہمیں عصر حاضر میں دور دور تک نہیں ملتی۔ آپ معاشرتی طور پر سکندر اور معاشی طور پر ارسطو تھے۔ آپ ہمیشہ دینے والوں کی صف میں رہے اور آپ نے اپنے تجربات اور حکمت و دانائی ورثے میں چھوڑی ہے اور حکیم عنائت اللہ نسیم کے فرزند دلبند حکیم راحت نسیم سوہدروی نے نہ صرف اپنے والد گرامی کا نام بلند کیا ہے بلکہ آپ ملک و ملت کی آبرو ہماری آرزو کی تکمیل کا باعث بنے ہیں۔ جس باپ کا بیٹا عصر حاضر کے جلیل القدر زعمائے ملت سے خراج تحسین وصول کر رہا ہو اور وہ معاصرین کی نظر میں نیر طب، حکمت و ادب کا امتزاج، سوہدرہ کی پہچان، خوش کلام ماہر فن، چھوٹا سا حکیم سعید، علم دوست علم پرور، راحت افزا راحت نسیم، حکیم الادب، طب شاہین، ایک قد آور علمی شخصیت کے طور پر پوری دنیا میں اپنا نام روشن رکھے ہوئے ہیں۔اس باپ پر دنیا فخر نہ کرے تو کیا کرے۔

حکیم راحت نسیم سوہدروی جیسے نیک طینت بیٹے خاندان کی شان اور اپنے والدین کی نیک نامی کے چلتے پھرتے سفیر ہوتے ہیں۔ حکیم عنائت اللہ نسیم سوہدری کا نام حکمت، شاعری، سیاست، ادب کی تاریخ میں ہمیشہ آبِ زر سے لکھا جائے گا۔ حکیم اور دانا کی زندگی کرب ناک اور اذیت ناک حالات سے گزرتی ہے۔ وہ آنے والی نسلوں کی بہترین فصلوں کے لئے اپنی صلاحیتیں وقف کر دیتا ہے اس لئے دنیا میں بے خبر لوگ عیش کر رہے ہیں اور جاننے والوں کے لئے یہ دنیا بہت بڑی آزمائش ہے اور اس آزمائش میں حکیم عنائت اللہ نسیم سوہدروی ہمیشہ مبتلا رہے ہیں۔ تعلیم، حکمت، سیاست، سماجیات، اخلاقیات ہر میدان میں آپ نے اِن شعبوں کو زندہ رکھا اور مشکل اوقات میں اپنی زندگی کے شب و روز ملت کی راحت اور نسلِ نو کی راحت افزائی کے لئے وقف کر دیئے۔
سودا جو بے خبر ہے کوئی وہ کرے ہے عیش
مشکل بہت ہے اُن کو جو رکھتے ہیں آگہی

آگاہی کی دولت کو تقسیم بھی کرتے رہے اور چارہ گری بھی کرتے رہے اور سیاسی جغادری ریا کاروں کے خلاف جہاد بھی کرتے رہے اور ان نام نہاد چارہ گروں کے لتے بھی لیتے رہے ان کے بد تمیز اور ٹھنڈے چہرے پر تھپڑ بھی رسید کرتے رہے۔ آپ بقول وحید نسیم کے
اے چارہ گر و موقوف کرو للہ یہ رسم چارہ گری
ہم تم کو مسیحا مان گئے، ہم درد کادرماں دیکھ چکے
موروثی سیاست جو ملوکیت کی بدترین شکل ہے اس کی پیٹھ پر مولانا ظفر علی خاں نے جو کیل ٹھونکی تھی اس پر حکیم عنائت اللہ نسیم تازیست ضربیں لگاتے رہے اور اس میدان کارزار میں لڑتے لڑتے اپنی جان جان آفریں کے سپرد کر دی۔ آپ بانی ءِ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے سچے سپاہی، شاعر مشرق علامہ اقبال ؒ کے عقیدت مند مولانا ظفر علی خاں کی صدائے بازگشت تھے۔

میں نے آپ کی تقریروں سے لطف اٹھایا ہے اور آپ کی تقریر کی تاثیر میں لاتعداد سامعین کو اسیر پایا ہے۔ مولانا ظفر علی خاں کی ذات سے آپ کو عشق تھا۔ آپ کا حافظہ بلا کا حافظہ تھا اور آپ کی بصیرت و بصارت کا ایک زمانہ معترف تھا۔ آپ کی کہی ہوئی باتیں صد فیصد درست ثابت ہو رہی ہیں اسی لئے تو سوفٹ کہتا ہے کہ بصارت یہ ہے کہ دکھائی نہ دیتی چیزوں کو بھی دیکھ لیا جائے اور آپ خوب غور و فکر کرتے تھے اور مغرب کا دانشور اسی لئے تو کہتا ہے کہ جو خوب غور و فکر کرتا ہے وہ پیشین گوئی کر سکتا ہے۔ حکیم راحت نسیم سوہدروی کے والد گرامی حکیم عنائت اللہ نسیم ایک سچے، حق بین و دانشور عالم دین و دنیا تھے اور حکمت عملی کی قوت سے سرفراز تھے اور دانش وہ سرمایہ ہے جس پر کسی خاص طبقے، گروہ، قوم یا فرد کی اجارہ داری نہیں۔

عقل سے بہتر ہمارا کوئی رفیق نہیں ہے۔ حکیم عنایت اللہ نسیم کو ایک روشن دماغ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ودیعت ہوا تھا اور آپ نے اس سے مثبت فائدہ اٹھایا اور ملت اسلامیہ کی راہنمائی کے لئے اپنی زندگی وقف کر دی۔ 9 دسمبر 2019 ء کو آپ کا یومِ وفات ہے اور آپ کی یاد میں مولانا ظفر علی خاں ٹرسٹ میں ایک تقریب رکھی گئی ہے جس میں ملک کے نامور دانشور، صحافی، ادیب، خطیب اور حکیم اس مسیحائے ملت کی دلفریب شخصیت کے ہر پہلو پر اظہارِ خیال فرمائیں گے
شہر میں ایک چراغ تھا نہ رہا
ایک روشن دماغ تھا نہ رہا

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.