ایک عہد ساز شخصیت، طارق عزیز (جواں عزم) تحریر: محمد فاروق عزمی

ہم وہ سیہ نصیب ہیں طارقؔ کہ شہر میں کھولیں دُکاں کفن کی تو سب مَرنا چھوڑ دیں

0 304

کل خبریں کے ہمارے دوست جناب زید حبیب صاحب کی ایک سطری پوسٹ نے دل دہلا کر رکھ دیا، لکھا تھا ”طارق عزیز بھی نہ رہے“ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ آہ …… زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے؟ کیا کیا صورتیں ہوں گی جو خاک میں پنہاں ہوگئیں۔ میں نے پوسٹ پڑھی اور کرسی کی پشت سے ٹیک لگا کر آنکھیں موند لیں۔ جہاں پلکوں کے ساحل پر گرم کھارے پانی کی لہریں سرپٹک رہی تھیں، دیر تک میں اسی کیفیت میں جامد و ساکت بیٹھا موت کی بے رحم حقیقت کے بارے میں سوچتا رہا۔

10 جون کی شام اچانک اطلاع ملی کہ میرے بڑے بھائی چوہدری محمد اسلم اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے، اللہ اُن کی مغفرت فرمائے۔ زندگی کیسے ہمارے ہاتھوں سے پھسلتی جارہی ہے، ہر طرف موت کا رقص جاری ہے، اگلے لمحے کیا ہوجائے کچھ نہیں کہا جاسکتا، ہر روز ہم صبح اٹھ کر موت کی خبریں سنتے ہیں، موجودہ وبائی موسم میں زندگی کی فصلیں کٹتی جارہی ہیں، شجرحیات سے روزانہ کتنے پھول جھڑ جاتے ہیں، اجل کی آندھی کتنے پتے اڑا کر اپنے ساتھ لے جاتی ہے اس کا شمار ممکن نہیں، میں آنکھیں بند کیے دیر تک زندگی کی بے ثباتی پر غور کرتا رہا۔

ذرا طبیعت سنبھلی تواٹھ کر الماری سے طارق عزیز کی پنجابی نظموں کی کتاب ” ہمزاد دا دکھ“ نکال لی، بے دھیانی میں جو صفحہ کھولا، اس کا نمبر تھا 168، 169۔ ان صفحات پر جو نظم ہے اس کا عنوان ہے ”پتہ نئیں کیہ ہونا ایں“ پہلے دو شعر اس طرح ہیں:

پچھلا پہر اے شام دا دل نُوں عجب اُداسی اے
اِنج لگ دا اے سارے نگر دی کوئی وَڈی چیز گواچی اے

طارق عزیز حقیقتاً ”وڈی چیز“ تھے، جو ہم سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے کھو گئی۔ طارق عزیز ایک عہد ساز شخصیت تھے ان کے سانحہ ارتحال سے ایک عہد تمام ہوا، وہ تاریخ کاایک نایاب باب تھے جو آج بند ہوگیا۔ دیکھتی آنکھوں اور سنتے کانوں کو طارق عزیز اپنا آخری سلام کرکے اپنے رب کے حضور پیش ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے (آمین)۔ وہ لاکھوں کروڑوں پاکستانیوں کے دل میں بستے تھے جس گھر میں ٹیلی ویژن تھا، اس گھر میں ایک طارق عزیز بھی رہتا تھا، کل سے میں نے جس سے بھی بات کی، ایسا لگا کہ طارق عزیز اُسی کے گھر کا فرد تھا۔ ہر آنکھ اشکبارہے، ہر دل سوگوار ہے۔

مجھے یاد ہے ہمیں گھر میں ٹیلی وژن رکھنے کی اجازت نہیں تھی، والد صاحب مرحوم اپنے مذہبی رجحان کی وجہ سے ٹیلی وژن پسند نہیں کرتے تھے۔ 1978-79میں جب میں دوبئی سے ایک بار چھٹی آرہا تھا تو میں نے ابا جی کو خط لکھا کہ اگر آپ کی اجازت ہو تو میں یہاں سے Sonyکا ایک 21 انچ کا ٹیلی وژن لے آؤں جو کلر تصویر دیتا ہے او ریہاں سے قدرے سستا اور اچھا مل جاتا ہے لیکن ابا جی نے اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ میں نے پھر اگلے خط میں لکھا (یاد رہے کہ اُس زمانے میں خط ہی رابطے کا ذریعہ تھے موبائل فون توبہت بعد میں آیا)۔

ابا جی! جو ٹیلی وژن میں لانا چاہتا ہوں اس پر ہاکی میچ او رمحمد علی کلے کی باکسنگ کے مقابلے آپ رنگین دیکھ سکیں گے۔ مجھے چونکہ اندازہ تھا کہ ابا جی ہاکی کے بہت شوقین ہیں اور خود بھی ہاکی کھیلتے تھے اور اس دور میں مسلم امہ امریکی نژاد مسلمان باکسر محمد علی کلے کو اپنا ہیرو سمجھتی تھی اور اسے بہت پسند کیا جاتا تھااور جس جس گھر میں ٹی وی سیٹ ہوتا تھا وہاں ہاکی میچ اور محمد علی کلے کی باکسنگ ضرور دیکھی جاتی تھی، یوں مجھے ہاکی میچ اور محمد علی کلے کی باکسنگ کے حوالے سے ٹیلی وژن لانے کی اجازت مل گئی اور پھر یہ ہوا کہ ”نیلام گھر“ گھر بھر کا پسندیدہ پروگرام بن گیا،

 

جس کا ہفتہ بھر انتظار کیا جاتا اور ”نیلام گھر“ کو گھر کے تمام افراد ایک ساتھ بیٹھ کر بڑے اہتمام سے دیکھتے، لیکن جو خاص بات میں نے نوٹ کی وہ یہ تھی کہ ابا جی ہاکی میچز اور محمد علی کلے کی باکسنگ کے مقابلوں کے علاوہ ”نیلام گھر“ ہی وہ واحد پروگرام تھا جسے دیکھتے اور بہت پسند کرتے تھے یا پھر کبھی کبھی ”خبرنامہ“ دیکھ لیتے اور کبھی فرصت ہوتی تو پاکستان ٹیلی وژن سے شام 7بجے نشر ہونے والا انگلش نیوز بلیٹن سنتے جسے شائستہ زید پڑھا کرتی تھیں۔ شاید اب وہ بھی اس دنیا میں نہیں رہیں۔ پاکستان ٹیلی ویژن کے مقبول ترین پروگراموں میں نیلام گھر کا نمبر سب سے اوپر رہا جو بعد میں ”بزم طارق عزیز“ اور”طارق عزیز شو“ کے نام سے بھی جاری رہا۔ اس کا سارا کریڈٹ طارق عزیز صاحب کی شخصیت کی جاذبیت اور سحر انگیز اندازِ گفتگو کو جاتا ہے۔

 

بس وہ بولا کریں اور سنا کرے کوئی، لگتا ہے”تلفظ“ آج یتیم ہوگیا ہے۔ شعر پڑھنے کا جو انداز طارق عزیز صاحب کا تھا وہ سب سے الگ اور منفرد تھا۔ انہیں عبدالحمید عدم، مجید امجد، منیر نیازی، حبیب جالب، اقبال ؒ او ردیگر بے شمار معروف شاعروں کے ہزاروں شعر یاد تھے۔ موقع محل کی مناسبت سے وہ بر محل اور برجستہ شعر سناتے تھے اور شعر کو مکمل صحت، وزن اور تلفظ کی بہترین ادائیگی کے ساتھ اس طرح پڑھتے کہ وہ سننے والے کے دل میں اتر جاتا۔

طارق عزیز 28 اپریل 1936 ء کو ضلع جالندھر (ہندوستان) تحصیل شاہ کوٹ میں پیدا ہوئے ان کے والد میاں عبدالعزیز، سرکاری ملازم تھے اور اس وقت کے اخبارات میں آرٹیکل وغیرہ بھی لکھتے تھے۔ اپنے نام کے ساتھ 1936 ء سے وہ”میاں عبدالعزیز پاکستانی“ لکھتے تھے۔ کسی نے انگریز آفیسر سے شکایت کر دی۔انگریز آفیسر نے بُلا کر پوچھا یہ تم ہو جو اپنے نام کے ساتھ ”پاکستانی“ لکھتے ہو؟ جواب ہاں میں پاکر اُس انگریز نے قائد اعظم اور دیگر مسلمان راہنماؤں کو بر ا بھلا کہنا شروع کردیا تو انھوں نے ہاتھ میں پکڑی فائل انگریز کے منہ پر دے ماری اور اسے گھونسا بھی جڑ دیا جس سے اس کے منہ سے خون بہنے لگا۔

 

نوکری جاتی رہی اور عبدالعزیز پاکستانی یہ کہہ کر وہاں سے نکل آئے کہ اب میں کھل کر لکھوں گا۔ میاں عبدالعزیز پاکستانی1947 ء میں ہجرت کرکے پاکستان آگئے۔ طارق عزیز نے ابتدائی تعلیم ساہیوال سے حاصل کی، جہاں انہیں مجید امجد اور منیر نیازی کی صحبت میسر رہی جس سے ان کے شعرو شاعری کے ذوق کو جِلا ملتی رہی۔ طارق عزیز نے ریڈیو پاکستان لاہو رسے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز کیا۔ جب 1964 ء میں پاکستان ٹیلی ویژن کا قیام عمل میں آیا تو طارق عزیز پاکستان ٹیلی وژن کے سب سے پہلے مرد اناؤنسر تھے۔

 

یہ اعزاز ہمیشہ ان کے پاس ہی رہے گا۔ 1975 ء میں انہوں نے وہ پروگرام شروع کیا جسے دنیا ”نیلام گھر“ کے نام سے جانتی ہے۔ یہ وہ سٹیج شو تھا جس نے طارق عزیز کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ یہ پروگرام پاکستان ٹیلی وژن کا 40 سال تک لگاتار نشر ہونے والا مقبول ترین پروگرام تھا۔ اگر اسے بعض سیاسی اور انتقامی وجوہ کی بنا پر بلا جواز روک نہ دیا جاتا تو دنیا بھر میں طویل عرصے تک مسلسل نشر ہونے والے پروگرام کا اعزاز حاصل کرنا اور گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں درج ہونا، کچھ ایسا مشکل یا ناممکن نہ تھا جس سے پاکستان کی ہی نیک نامی اور شہرت ہوتی۔

طارق عزیز ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔ ریڈیو سے آغاز کے بعد وہ ٹیلی وژن پر چھائے رہے۔ انہوں نے فلموں میں اداکاری بھی کی۔ 1967 میں ان کی پہلی فلم ”انسانیت“ تھی۔ ”سالگرہ“،”قسم اُس وقت کی“، ”چراغ کہاں روشنی کہاں“، ”کٹاری“ اور ”ہار گیا انسان“ ان کی مشہور فلمیں ہیں وہ شعر و شاعری کا بلند ذوق رکھنے والے ایک سلجھے ہوئے محب وطن پاکستانی تھے۔ خود بھی شاعری کرتے تھے۔ ان کی پنجابی نظموں کامجموعہ ” ھمزاد دا دُکھ“چھپ کر قبولِ عام کی سند پاچکا۔ ”داستان“ کے نام سے ان کے کالموں کا خوبصورت انتخاب 1998 میں شائع ہوا جس کے سر ورق پر طارق عزیزی کی اپنی تصویر کے نیچے ان کا یہ مشہور شعر درج ہے جو اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ وہ ”بدنصیبوں“ کے درد کو بہت گہرائی اور گیرائی میں جا کر

 سمجھتے اور محسوس کرتے تھے:

ہم وہ سیہ نصیب ہیں طارقؔ کہ شہر میں
کھولیں دُکاں کفن کی تو سب مَرنا چھوڑ دیں

اس ”داستان“ کا انتساب انہوں نے مجید نظامی مرحوم کے نام کیا تھا۔ وہ اپنی سوانح عمری بھی لکھ رہے تھے جس کا عنوان”فٹ پاتھ سے پارلیمنٹ تک“ تجویز ہوچکا تھا۔ ہاتھوں میں رعشہ آجانے کی وجہ سے لکھنا ان کے لیے دشوار ہوگیا تھا لیکن ان کی خواہش تھی کہ اپنی زندگی کی ”سر گزشت“ وہ اپنے ہاتھوں سے ہی تحریر کریں۔ لہٰذا یہ کام تاخیر کا شکار ہوتا رہا اور اجل نے طارق عزیز کو ہم سے جدا کر دیا۔ اپنے آخری ماہ و سال میں وہ گھر تک محدود ہو گئے تھے۔ ان کی اردگرد کتابیں ہوتی تھیں۔ سہیل وڑائچ صاحب کے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا تھا ”جس گھر میں کتاب نہ ہو وہاں برکت نہیں ہوتی“۔

لوگ کہتے تھے کہ انہیں غصہ بہت آتا ہے جب اس بارے ان سے پوچھا گیا تو کہا ”وہ شخص بڑا بے غیرت ہوتا ہے، جس میں غصہ نہ ہو لیکن اس کی جگہ ہوتی ہے، اگر ایسی جگہ ہے جہاں غصے کو استعمال کرنا چاہیے تو وہاں غصہ آنا چاہیے“۔
ُٓاپنے سارے اثاثے انہوں نے حکومتِ پاکستان کو دان کر دیئے ہیں، لیکن ان کا اصل اثاثہ تو ان کی پھیلائی ہوئی محبت ہے، ان کی نصیحتیں ہیں، وطن سے محبت کا جذبہ ہے، وہ نعرہ ہے جو وہ اپنے ہر پروگرام کے اختتام پر لگاتے تھے ”پاکستان زندہ باد“ کا نعرہ جس جذبے اور جوش سے بازو ہوا میں لہرا کر بلند کرتے تھے، وہ جذبہ زندہ رہنا چاہیے۔

ایسے لیجنڈری لوگ صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں اور پھر کبھی نہیں مرتے، وہ ہمیشہ کے لیے امر ہوجاتے ہیں۔ لوگوں کے دلوں میں زندہ رہتے ہیں۔ وہ باکمال شخص جس کا نام طارق عزیز تھا، وہ شاعر تھا، مصنف، اداکار، سیاست دان اور نہ جانے کیا کیا کچھ تھا، لیکن وہ کلین شیو صوفی بھی تھا، وہ درویش بھی تھا، ایسا درویش کہ جسے پتا تھا کہ لوگ میرے لیے روئیں گے لہٰذااس نے اپنی کتاب کے صفحہ 171 پر خود ہی کہہ دیا

مَیں تے اِنج ای کرنا سی
میرے لئی نہ رو
میں تے اِنج ای مرنا سی
میرے لئی نہ رو

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.