کورونا وائرس اور ماضی کی قاتل وبائیں صرف احتیاط تحریر: علی رضا رانا حیدر آباد سندھ

ایک زمانے میں“طاعون”اور“کوڑھ”کو آسمان کا قہر اور خدا کی جانب سے عذاب ہی تھا

2 165

ملک پاکستان سمیت پوری دنیا اسوقت جس مشکل دور سے گزر رہا اس بات سے اندازا لگایا جاسکتا ہے کہ ہم کتنا سنجیدہ شخصیت کے مالک ہیں، ملک کیا دنیا قدرتی آفت وبائی آفت کورونا سے دوچار ہے، انسان مشکل میں ہے مگر پھر بھی احتیاط نہیں کررہا ہے نہ اپنے خاندان کی فکر ہے، ایک انسان کی غلطی خاندان قریبی عزیز و اقارب اور محلے پڑوس والوں کو بھی بھگتنی پڑھ سکتی ہے صدیوں پہلے جب آج کی طرح انسان نے سائنس اور طب کے میدان میں ترقی نہیں کی تھی، تب کسی بیماری کے وبائی صورت اختیار کرجانے کا ایک ہی مطلب ہوسکتا تھا۔۔۔۔ ہزاروں نہیں، لاکھوں انسانوں کی موت۔۔۔ایک زمانے میں“طاعون”اور“کوڑھ”کو آسمان کا قہر اور خدا کی جانب سے عطا کردہ عذاب ہی تھا، یہ وہ بیماریاں تھیں جس کے شکار افراد بدترین جسمانی تکلیف اور اذیت ناک صورت حال کا سامنا کرتے اور گویا سسک سسک کر موت کے منہ میں چلے جاتے۔

 

بیشک دنیا کا یہ ہرجائی پن ایک وقتی ردعمل سہی مگر ایک نئے انقلابی دور کا آغاز دکھائی دیتا ہے کہ فی الوقت تو اس بیجان ذرہ نے انسانی معاشرت،اخلاقیات، اقتصادیات اور غرضیکہ ہر شعب زندگی کوتہہ وبالاکرکے ایک بہچال برپا کر رکھا ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے: یعنی جب میں بیمار ہوتا ہوں تو اللہ تعالی ہی مجھے شفا عطا فرماتا ہے
” رسول کریم ﷺ نے جذام میں مبتلا مریض سے دور رہنے کی ہدایت فرماکر احتیاطی تدابیر اور اسباب اختیار کرنے کی تلقین فرمائی” یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ طبّی تحقیقات کے بعدکورونا کے ہرقسم کے مریض سے چھ فٹ کا فاصلہ رکھنے کی جو ہدایت آج کی جارہی ہے۔ وہ اپنی جگہ اہم ہے۔ پھونک اور چھینک وغیرہ کے پھیلاؤ کاوسیع دائرہ بھی ثابت ہے۔ہمارے سید الحکماء ﷺ نے آج سے چودہ سو سال قبل اس کی طرف توجہ دلائی اور فرمایا کہ کوڑھی سے ایک نیزے کے فاصلہ پر رہو اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک نیزہ کی پیمائش ساڑھے چھ فٹ بنتی ہے۔

 

 

گزشتہ برسوں پہلے وبائیں اجتماعی قاتل بن کر آئی ہیں، اور ان کی وجہ سے جس پیمانے پر ہلاکتیں ہوئی ہیں اس کا تصور ہم آج کوروناوائرس کے دور میں بھی نہیں کر سکتے۔چھٹی صدی عیسوی میں جسٹینئن پلیگ یعنی طاعون سے تقریباً پانچ کروڑ افراد ہلاک ہوگئے تھے، جو شاید اس وقت دنیا کی نصف آبادی کے برابر تھا۔ پھر 14ویں صدی میں بلیک ڈیتھ یا کالی موت کہلائے جانے والے طاعون کی وجہ بیس کروڑ افراد ہلاک ہوئے۔20ویں صدی میں چیچک کی وجہ سے تقریباً تیس کروڑ ہلاکتیں ہوئیں، حالانکہ اس مرض کے خلاف ایک مؤثر اور دنیا کی پہلی ویکسین سنہ 1796 سے دستیاب تھی۔پانچ سے دس کروڑ افراد سنہ 1918 میں انفلوئنزا کی عالمی وبا کے نتیجے میں ہلاک ہوئے، یہ تعداد اسی دوران لڑی جانے والی پہلی جنگِ عظیم میں ہونے والی ہلاکتوں سے زیادہ ہے۔

 

اس وبا سے روئے زمین پر ہر تین میں سے ایک شخص متاثر ہوا تھا۔ایچ آئی وی کی عالمی وبا اب بھی موجود ہے اور اس کی کوئی ویکسین بھی نہیں ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ایچ آئی وی سے تین کروڑ بیس لاکھ ہلاکتیں ہو چکی ہیں جبکہ ساڑھے ساتھ کروڑ افراد اس میں مبتلا ہیں، جس میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔یہ اعداد و شمار اس لیے حیران کن ہیں کہ آج تاریخ کے اسباق میں وباؤں کا ذکر نہیں کیا جاتا۔ جبکہ زیادہ پرانی بات نہیں کہ یہ زندگی کی تلخ حقیقتیں تھیں۔ ان امراض کا شکار ہونے والے افراد کی یادگاریں کم ہی بنی ہیں۔مگر جب کوئی وائرس، جیسا کہ کوروناوائرس، کسی کو لگ جاتا ہے تو متاثرہ شخص کا جسم وائرس پیدا کرنے والی فیکٹری بن جاتا ہے۔ تاہم بیکٹریا میں سازگار ماحول میسر آنے پر خود کو بڑھانے کی صلاحیت موجود ہے۔ایک وبائی جرثومے کی وجہ سے پیدا ہونے والی علامات، جیسے چھینکیں، کھانسی یا خون کا رساؤ، اسے اگلا اور پھر اس سے اگلا میزبان بنانے میں مدد دیتی ہیں۔

 

وائرس کی اس متعدی صلاحیت کو R0 میں ناپا جاتا ہے، یعنی یہ کہ کتنے افراد کو متاثر کرنے کی صلاحیت کا حامل ہے۔ (اِمپیریل کالج لندن نے اس نئے کوروناوائرس کے R0 کا تخمینہ 1.5 سے 3.5 لگایا ہے۔ اور انسان چونکہ آپس میں ہاتھ ملانے سے لے کر جنسی مباشرت تک میل جول رکھتے ہیں لہذا جراثیم بھی ان کے ساتھ سفر کرتے ہیں۔مختصر یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ میں نے دین و دنیا اور سائنس کے اس علمی تجزیے میں یہ ہی اندازہ کیا ہے کہ انسان خود پر آنے والی مشکل اور مسائل کا خود زمہ دار ہے بہتر یہ ہی کہ طب اور سجدہ دونوں علاج اور خدا سے روجو واحد علاج ہے، انسان اپنے اچھے برے اعمال کا خود زمہ دار ہے، اللہ ہم سب کو تمام وبائی و آسمانی آفات سے محفوظ فرما آمین یارب العالمین

 

 

  1. Get Prescription Online کہتے ہیں

    viagra online
    100mg Sildenafil Citrate
    buy viagra online

  2. CBD for Sale کہتے ہیں

    I like it when people get together and share thoughts. Great site, continue
    the good work!

    Visit my website :: CBD for Sale

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.