کورونا پر سیاست نہیں،خدمت اہم ہے! تحریر:شاہد ندیم احمد

ہم نعرے لگاتے پھرتے ہیں ، کورونا سے ڈرنا نہیں لڑنا ہے

0 97

ملک جب کٹھن مراحل طے کررہا ہو تو قوموں کو یکسو اور یکجان ہونا پڑتا ہے، ایسا نہ ہو تو معاملات بجائے سنورنے سلجھنے کے بگڑنے اور الجھنے لگتے ہیں۔ہم خود کو تسلی دینے کے لیے باہمی اتفاق و اتحاد کی باتیں تو بہت کرتے ہیں،مگر عملی طور پر انتشار کا شکار رہتے ہیں۔اس میں سب سے ذمہ دار سیاسی قیادت ہے جوکورونا وبا میں بھی ماضی کے افسوسناک طرز عمل کو دہرانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے،تازہ شاخسانہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی طرف سے وزیر اعظم پر تنقید ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے وزیر اعظم کے اس بیان کی گرفت کی کہ لاک ڈاؤن کی ذمہ دار ایلیٹ کلاس ہے، انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کام نہیں کر سکتے تو استعفیٰ دیدیں۔اس پرظاہرہے حکومت نے بھی ردعمل دینا تھا۔

 

 

وزیر اطلاعات شبلی فراز کو کہنا پڑا کہ بلاول اپنی ناکامیاں وفاق کے سر پر نہ تھوپیں،اس گرم سیاسی بیان بازی پر دیگر سیاستدانوں نے بھی دونوں طرف سے لفظی گولہ باری شروع کر دی ہے۔ اس موقع پر بھلامسلم لیگ(ن) کیوں پیچھے رہتی فوراً ن کے رہنماؤں نے بھی وزیر اعظم سے سوال کر دیا کہ حکمران تو آپ ہیں پھر لاک ڈاؤن کرنے والی حکمران اشرافیہ کون ہے؟

 

اس میں شک نہیں کہ ہردور حکومت میں اشرافیہ حکومتی فیصلوں پر اثرانداز ہوتی رہی ہے،موجودہ دور حکومت میں نہ چاہتے ہوئے بھی اشرافیہ کاکردار تبدیل نہیں ہوا،اس کا اظہار بڑی جرأت سے وزیر اعظم نے کیا ہے،عوام حقائق جاننے کا حق رکھتے ہیں،جبکہ ماضی کے حکمران عوام کو حقائق جاننے سے محروم رکھنے کی روش پر گامزن ہیں۔ اس وقت ملک میں چار ہفتے سخت لاک ڈاؤن کے گزرنے کے باوجود بہتری کی کوئی امید نظر نہیں آ رہی، جس کی سب سے بڑی وجہ وفاق اور صوبوں کی حکومتوں کا آپس کا اختلاف ہے جوعوام کو زبردست معاشی بدحالی اور ملکی معیشت کو ختم کر رہا ہے۔

 

 

اس کا سب سے بڑا ردِعمل صوبہ سندھ میں دیکھا جا سکتا ہے اور یہ ٹکراؤدن بدن بڑھتاہی جا رہا ہے، اگر اسی طرح حکومتوں میں رسہ کشی جاری رہی تو سب سے زیادہ ٹیکس دینے والا شہر کراچی اس لاک ڈاؤن کی وجہ سے ٹیکس دینے کے قابل ہی نہیں رہے گا، یہاں کے عوام اب سڑکوں پر بھی آنے کے لئے تیار ہیں،سندھ حکومت مسلسل ایسی کارروائیاں کر رہی ہے جس کے باعث عوام کا قانون کی خلاف ورزی کرنے پر مجبور ہیں، ایک طرف مارکیٹیں،فیکٹریاں، بازار بند ہیں تو دوسری طرف دیگر کاروباری سر گرمیوں کو محدود کردیا گیا ہے،اس صورت حال میں حکومت کو ٹیکس کہاں سے ملے گا،جبکہ سند ھ حکومت سب اچھا ہے کے زبانی جمع خرچ پرچل رہی ہے، عملی طور پر نہ سندھ حکومت کو عوام کا دکھ نظر آتا ہے اور نہ وفاقی حکومت کو عوام کا احساس وہمدردی ہے۔

 

 

حزب اقتدار اور حزب اختلاف دونوں ہی موقع کی نزاکت کا احساس کیے بغیر سیاسی پوائنٹ سکورنگ کرنے میں لگے ہیں،جبکہ عوام کورونا کے ساتھ ساتھ بھوک سے خودکشیاں کرنے پر مجبور ہورہے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے گلے شکوے اور قدرے تلخ نوائی کے پیچھے صرف عوام کا درد نہیں،بلکہ عالمی اداروں سے ملنے والی کورونا امداد سے اپنے حصے کا مطالبہ ہے،حکومت کسی طور پر سندھ حکومت کو کیش مالی مدد دینے کیلئے تیار نہیں ہے،کیو نکہ وزیر اعظم اچھی طرح جانتے ہیں کہ سیاست کو کاروبار سمجھنے والے نام نہاد عوامی نمائندوں کی لالچی نظریں کورونا امداد پر لگی ہیں۔ تحریک انصاف حکومت کا فرض ہے کہ وہ عوام کی امدادی رقم عوام پر لگانے کو یقینی بنائے،

 

 

مگر اس کی آڑ میں حکومتی وزرا اور اپوزیشن قائدین کی سیاسی پو ائنٹ سکورینگ کرنا درست نہیں ہے۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے بظاہرگلے شکوے، سبھی درست نہ بھی ہوں،مگر حقائق کی نظر سے دیکھا جائے تو کچھ غلط بھی نہیں ہیں،باقی بدنیتی عوام اچھی طرح جانتے ہیں۔اگر چہ اس وقت کورونا کی صورتحال بہت زیادہ خراب نہیں ہے، مگر ہمارے ہاں ادراہ صحت کے اانتظامی معاملات انتہائی ناقص ہیں۔ ہماراٹیسٹ سسٹم نامکمل ہی نہیں، بلکہ ڈاکٹرز کے پاس عام ضروری سامان تک موجود نہیں ہے اور ہم میڈیا پر نعرے لگاتے پھرتے ہیں کہ ہمیں کورونا سے ڈرنا نہیں لڑنا ہے،خالی ہاتھ خطرناک وبا سے لڑوانے کے دعوئے عوام کو خودکشی کرنے کے مترادف ہیں،اسی لیے کورونا مریض تو ایک طرف،فرنٹ لائین پر خود طبی عملہ کے افراد بھی لقمہ اجل بن رہے ہیں،

 

 

ایسے میں وفاق اورصوبوں میں کھنچا تانی قابل تشویش ہے،اس وقت الزام تراشی کی بجائے مل کر ایک جامع اور موثر حکمتِ عملی وضع کرنی چاہئے، تاکہ کورونا پر بھی قابو پایا جا سکے اور صوبائی منافرت کی راہ بھی روکی جا سکے۔ یہ امر واضح ہے کہ صوبائی حکومتوں کی ذمہ داریاں اپنی جگہ،مگر وفاقی حکومت کا مشاورتی کردار مثالی ہو ناوقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر چہ اس وقت پا کستان کے کورونا وبا کے حوالے سے مجموعی حالات دنیا کے دوسرے ممالک کی طرح تشویشناک نہیں، لیکن جس قدر متاثرہ افراد سامنے آنے لگے ہیں، اس شرح سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آئندہ آنے والے ہفتوں میں حالات تشویشناک ہو سکتے ہیں۔ اب تک کورونا کنٹرول کی کوششوں میں وفاق اور صوبائی حکومتیں ایک دوسرے سے تعاون کی کوشش کرتی رہی ہیں۔

 

 

وفاق کی جانب سے صوبائی حکومتوں کے تعاون کو سراہا بھی جاتا ہے،لیکن یہ معاملہ شاید کورونا پر حکمت عملی کے غلط یا ٹھیک ہونے کا نہیں،بلکہ پس پردہ کچھ آئینی ترامیم کے حوالے سے تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کے درمیان متوقع محاذ آرائی کا ہے۔ وزیر اعظم کہہ چکے ہیں کہ اٹھارویں ترمیم کے ثمرات نچلی سطح پر منتقل نہیں ہوئے‘ وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر بھی متعدد بار نشاندہی کر چکے ہیں کہ ٹیکسوں کی وصولی کے اختیارات ملنے کے باوجود صوبے مرکز سے فنڈز کا تقاضا کر کے زیادتی کر رہے ہیں۔ معاملہ انتظامی ہوتا تو صوبے کے چیف ایگزیکٹو خود بات کرتے،

 

 

لیکن یہاں تو صوبائی خود مختاری میں بھی جان بوجھ کر سیاسی جھگڑا بنایا جا رہا ہے، اس لئے چیئرمین پیپلز پارٹی نے سیاسی انداز میں بات کی اور قائد حزب اختلاف نے بھی موقع کی مناسبت سے بھر پورتنقیدی کرکے سیاسی پوائنٹ سکورنگ کی ہے۔ ملک کے حالات کیسے بھی ہوں،سیاست دانوں کا کام ہی سیاست کرنا ہے، وہ اس نازک موقع پر بھی ذاتی مفادات کے پیش نظر یہ بات فراموش کر دیتے ہیں کہ اس موقع پر سیاست نہیں خدمت اہم ہے۔

 

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.