ثانیہ نشتر کی بھیس بدلنے کی ادا ( خصوصی کالم ) تحریر : عائشہ مسعود

وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ

0 157

احساس ایمرجنسی کیش پروگرام حساس ثانیہ نشتر کی زیرنگرانی چل رہا ہے اور وہ روپ بدل بدل کر ایمرجنسی کیش سینٹرز پہنچ جاتی ہیں تاکہ شفافیت کو اور عوام کے مسائل کو اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں ورنہ لوگ سنی سنائی پر یقین کر کے بہت کچھ خسارے میں ڈال دیتے ہیں لیکن یہ بات سماجی تحفظ کی قوت کو کمزور کر دیا کرتی ہے، وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ بالکل درست کرتی ہیں کہ خلفاء کی رسم نبھاتی ہیں ، اور روپ بدل بدل کر سینٹرز پر پہنچ جاتی ہیں، پچھلے دنوں وہ برقعہ پوش بن کر ایک جگہ موجود تھیں اور دوسری بات یہ ہے کہ وہ کام پر یقین رکھتی ہیں اور کورونا لاک ڈائون کی وجہ سے بے روزگار ہونے والے افراد کے لیے بہت اچھا اور محنت سے کام کررہی ہیں۔ہمارے ہاں خواتین کی صلاحیتوں کا اعتراف زرا دشوار ہوتا ہے ، اتنا بڑا پروجیکٹ کوئی مرد کر رہا ہوتا تو زیادہ تحسین و داد ملتی مگر ہم ثانیہ نشتر کو 86لاکھ سے زائد افراد میں ایک سو چار ارب اکانوے کروڑ روپے تقسیم کرنے پر مبارکباد پیش کرتے ہیں ۔

ایک بات اور بھی اچھی نظر آ رہی ہے کہ لفظ سماج کا استعمال کیا گیا ہے ورنہ حکومتیں سماج اور عوام کا لفظ بھول چکی تھیں۔ اور حکومتوں کے اعلیٰ افسران کی بیگمات ہی ”سماجی خدمتگار ”تھیں ، اور یہ خدمت کر کے بھی کافی سارا شو آف کیا جاتا تھا ۔ثانیہ نشتر دھیمے مزاج کی خاتون ہیں جو درد مندی سے اس مشن کو آگے بڑھا رہی ہیں ۔ جو وزیراعظم عمران خان کی خواہش ہے اور عوام کی اشد ضرورت ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے ایک بات کی کہ معاشی سرگرمیوں میں اور کورونا کے حفاظتی اقدامات میں توازن رکھنا ہے دراصل اس توازن کو برقرار رکھنے میں عوام کی اپنی ذمہ داری بھی بہت زیادہ ہے ۔ عمران خان کو بحثیت وزیراعظم تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور وہ خاموشی سے مشکلات کے اندر رہ کر ڈلیور کرنے کے لیے کوشاں رہتے ہیں ۔ملک کے مشکل حالات میں ہونا تو یہ چاہیے کہ سب ایک چھتری تلے جمع ہو کر اس مصیبت کا مقابلہ کریں جو مسلط ہو ئی ہے،مگر اس کے باوجود سیاست کا کھیل تو جاری رہتا ہے اور یہ ایسی ظالم چیز ہے کہ سیاست دانوں کو شک ہوتا ہے کہ اس قوم کے سامنے ”آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل والا معاملہ نہ ہوتا” مگر ان کو یہ معلوم نہیں کہ قائد اعظم محمد علی جناح جیسے لیڈر ہوتے ہیں جو کام کی بنیاد پر جتنا آنکھوں سے اوجھل ہیں اتنا ہی دلوں میں زندہ ہیں ۔

سماجی تحفظ کی معاون خصوصی بھی اس مثال کو سامنے رکھ کر مصیبت زدہ لوگوں کے لیے کام کرتی رہیں تاکہ لوگوں کے دلوں میں ہمیشہ کے لیے زندہ رہ جائیں ملک پر اس سے مشکل وقت بھی اور کونسا ہو گا؟ ہر طرح کے مسائل کی موجودگی میں اگر اتنے اچھے کام بھی ہو رہے ہیں تو یقیناً اچھے کی امید رکھنی چاہیے۔ وزیراعظم عمران خان کے لیے مرتضیٰ برلاس کا شعر ہے کہ
میری زندگی کی جو نائو ہے وہ سمندروں کے سفر میں ہے
کبھی نائو الجھی ہے موج سے کبھی موج الجھی ہے نائو سے
ہمیں کیسے اس کا یقین ہو یہ دیار اہل شعور ہے کہ
صحیفے علم کے بک رہے ہیں ،یہاں تو ردی کے بھائو سے
کیا مٹی کا قرض گورنر پنجاب چوہدری غلام سرور کے ذمے ہے ؟

معروف شاعر مرتضیٰ برلاس کا ایک شعر ان کے لیے ہے جو اس ملک کی ”مٹی ” کا قرض ادا کرنے کی با ت کرتے رہتے ہیں
ویسے تو ہر کوئی یہاں مٹی کا تھا قصیدہ خواں
مٹی کا جس پر قرض تھا اس نے ادا نہیں کیا
اس ملک کی مٹی کا سب سے زیادہ قصیدہ خوانی وہ کرتے ہیں جنہوں نے مٹی کا قرض ادا نہیں کیا بلکہ مٹی کو قرضوں میں ڈبو دیا ہے۔ اداروں کو ڈلیور کرنے اور منافع بخش ہونے تک پہنچانے کے بارے میں سوچا ہی نہیں جاتا البتہ مٹی کا قرض چکانے کے نعرے لگانے والوں کی اپنی زندگی تبدیل ہو جاتی ہے۔ مگر جس طرح گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے للکار کر کہا کہ بیوروکریسی راہ راست پر نہ آئی تو سب کو بے نقاب کرونگا کیونکہ مسئلہ یہ درپیش ہے کہ عوام کو پینے کا صاف پانی کے منصوبے پر کام کرنے میں رکاوٹیں ڈالی جارہی ہیں کیونکہ خود یہ لوگ منرل واٹر کی بوتلیں منگوا لیتے ہیں اورہمارے ہاں غریب ایسے ہیں کہ جو ان باتوں کو سمجھنے کا ارادہ ہی نہیں کرتے ہیں

کیونکہ پاکستان میں ووٹ دینے کا بھی وہی بوسیدہ طریقہ کار موجود ہے جسمیں ساری برادری اکٹھی ہو کر کسی ایک طرف ہوجاتی ہے اور ووٹوں کو کچھ اور معاملات کے پیش نظر کسی ایک خاندان کی آغوش میں ڈال دیا جاتا ہے کیونکہ اور بد قسمتی سے اس وقت نہ مٹی سامنے آتی ہے اور نہ مٹی کا قرض یاد رہتا ہے مگر بیوروکریسی پر تو اس مٹی کا قرض ادا کرنا فرض ہے اس ملک ے ساتھ ان کی وابستگی ہونی چاہیے اور ان کو غیر سیاسی ہو کر دفتروں میں بیٹھنا چاہیے گورنر پنجاب نے تو سرعام یہ کہہ دیا ہے کہ عوام کے لیے صاف پانی کی فراہمی میں بیوروکریسی رکاوٹ بنی تو پریس کانفرنس میں بے نقاب کردوں گا ۔

سوال یہ ہے کہ پاکستان اس عوام کابھی ہے اور صرف بیورو کریسی یا چند خاندانوں کے عیش و عشرت کے لیے نہیں بنا تھا۔سوال یہ ہی پیدا ہو تا ہے کہ مٹی کے قصیدہ خوانوں کو بھی تو مٹی کا قرض اتارنا ہے اور اس قرض اتارنے کا طریقہ یہ ہے کہ عوام کی خدمت کریں اور غیر سیاسی ہو کر ادارے کو چلائیں اور انہیں ترقی دیں۔ اس سارے سلسلے میں پنجاب کی عوام کو پینے کا صاف پانی دینے میں رکاوٹیں ڈالنا بڑی عجیب سی بات ہے اس طرح تو یوں محسوس ہو تا ہے کہ مٹی کا قرض ادا کرنا صرف گورنر پنجاب چوہدری غلام سرور کے ذمے ہے ۔!!

وفاقی دارالحکومت کی ”فرینڈلی ”انتظامیہ۔ وفاقی دارالحکومت کی ضلعی انتظامیہ نے مشروط طور پر دکانیں کھولنے کی اجازت دی ہے ۔ مگر ضلعی انتظامیہ کو معلوم ہونا چاہیے کہ یہ قوم اس قسم کی شرطوں کے عادی نہیں ۔ بلکہ یہ شرطیں لگاتے ہیں تو تاش کی بازی میں یا پھر مرغے لڑوانے میں کیونکہ وہاں تویہ خود کو شرطوں کا پابند بنا لیتے ہیں مگر اس قسم کی ذمہ داریوں میں شرائط کے معاملے میں یہ پروین شاکر والی سوچ رکھتے ہیںکیونکہ وہ پیار کی بازی اس شرط پر کھیلنے کو تیار ہو تی ہے کہ ”جیتوں تو تجھے پائوں ہاروں تو پیا تیری” یعنی ہار جیت دونوں میں وصال ہی وصال ہے۔

ہمارے بعض دکانداروں نے بھی تو لوہے کے دروازے آدھے گراکر کاروبار جاری رکھا تھا ۔جبکہ آدھا شیلٹر گرا ہو ا انتظامیہ کی مشروط پا بندی پر بھی پورااتر رہا تھا انتظامیہ کو تو کورونا کے شدید دنوں میں ہی اس بات کی خبر نہیں کہ گلیوں کے اندر تمام بیوٹی پارلرز کھلے ہو ئے تھے۔اندرہی خواتین کا بنائو سنگھار جاری رہا اور انتظامیہ کا کوئی بندہ ایک مہینے بعد وہاں کا چکر لگا کر واپس چلاجایا کرتا تھا، اور بظاہر پارلرز بندہونے کی شرط کی پابندی بھی دکھائی دے رہے تھی ۔ اب آپ ہی بتائیں کہ اس قوم کو شرائط کا پابند کیسے بنا سکیں گے ۔؟ اب وفاقی دارالحکومت کی انتظامیہ نے دکانیں کھولنے کی شرائط میں یہ باتیں بتائی ہیں کہ جمعہ سے ہفتہ تک یعنی پانچ دن دکانیں کھلیں گی اور سحری سے شام پانچ بجے تک کھلی رہیں گی، یعنی کے سحری کھائیں اور بازاروں کو نکل جائیں ۔

اور شاپنگ کر کے آکر سو جائیں کیونکہ روزے میں سحری کے بعد سوئیں تو پھر دوپہر کو اٹھ کر جانا دشوار ہو تا ہے اور پھر چونکہ ہم ابھی ڈسپلن کی پابندی کرنے کے بھی عادی نہیں ہیں ورنہ امریکہ کے ایک سٹور میں میرے ساتھ یہ ہوا تھا کہ دور دور سے چیزوںکا انتخاب کر کے شاپنگ کی ۔اورجب کائونٹر پر ڈالرز دینے کے لیے لائین میں لگنے کے لیے تیار کررہی تھی کہ مائیک میں آوازآئی کہ سات بج گئے ہیں جو لائن سے باہر ہیں وہ اشیاء سٹور میں چھوڑیں اور تشریف لے جائیں اور کل پھر تشریف لائیں۔
امریکہ میں کچھ بھی مشروط نہیں ہو تا سب کچھ صاف ستھرا بیان کر دیا جاتا ہے ہمارے ہاں تو شادی بیاہ پر بھی شرطیں رکھ دی جاتی ہیں ۔

لہذا اس قسم کی عادات والی قوم اور پیسے لے کر بیوٹی پارلرز کورونا میں ہی کھلے رکھنے والی انتظامیہ ”مشروط” اجازت کے ساتھ کیا کھلواڑ کر تی ہے اس کا اندازہ جلد ہو جائے گا ۔اور ادھر کھلے کیواڑوں کے اندر شاپنگ کرتے لوگ ابھی تک تویہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ کرونا تو ہے ہی نہیں اوپر سے انتظامیہ بھی فرینڈلی ہو گئی تو کورونا کا رونا پھر شروع ہو جائے گا ، اور ذمہ داری انتظامیہ کی ہو گی۔

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.