رمضان کا مہینہ اور ہماری مصروفیت ! تحریر : فوزیہ سعید (ماہر نفسیات)

اے خیر کے طالب آگے بڑھو۔ اور برائی کرنے والے۔ برائی سے رک جا۔

0 214

دنیا کتنی مصروف ہو گئی تھی۔جس کو دیکھو ایک ہی رونا رو رہا ہوتا تھا۔کہ وقت نہیں ہے۔سب اپنی اپنی فکروں میں مصروف تھے۔کسی کو پیسے کمانے کی فکر،کسی کو بہن کی شادی کی فکر تو کوئی اپنے پڑوسی کی ترقی سے حسد کر رہا تھا۔تو کوئی سوسائٹی میں اونچا مقام حاصل کرنے کی فکر میں تھا۔اپنے اپنے معاملات میں دن رات اپنی وجہ سے بھاگ دوڑ کو مصروفیت کا نام دے رہا تھا۔ کسی کے پاس کسی کے لئے کوئی وقت نہیں تھا۔ حتی کہ بیٹا ماں باپ کو بھی وقت نہیں دے رہا تھا۔ خاوند کے پاس بیوی بچوں کے لئے بھی ٹائم نہیں تھا۔

 

 

 

کہ 2019کے آخر میں کروناCOVID-19 کی وباء نے چین کے شہر ووہان سے جنم لیا۔اور سب کو ایک ہی صف میں لا کھڑا کیا۔ مان گئے ناں ہر مشکل کے پیچھے بھی کوئی نہ کوئی بھلائی ضرور پنہان ہوتی ہے۔ یاد رکھو! اللہ کی مدد اور نصرت صبر کے ساتھ ہی ہے۔اور ہر تکلیف اور مصیبت کے بعد کشادگی ہے۔اور بلا شبہ ہر مشکل کے بعد آسانی ہے۔
رمضان میں اختیاط کرونا! یہ عمل ہم مسلمانوں کو اس موزی بیماری کرونا Covid-19سے نجات دلائے گا۔ یہ رمضان عام رمضان سے محتلف ہو گا۔ اس میں ہم نے کرونا COVID-19سے بچاؤ کرتے ہوئے روزے رکھنے ہیں۔ اور زیادہ تر لوگوں کو تاکید کی جاتی ہے۔

 

 

 

کہ وہ بلا ضرورت گھر سے باہر نہ جائیں۔اور اس رمضان میں نمائشی افطاریاں کرانے سے بہتر ہے۔ ان غریبوں کی مدد کر دی جائے جو روزے رکھ رہے ہیں۔ سب سے پہلے تو ہم تہیہ کر لیں اگر کوئی مجبوری نہ ہو توہم روزے ضرور رکھیں گے۔ حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔ کہ جب رمضان کی پہلی شب ہوتی ہے۔ تو شیطان اور سرکش جنون کو جکڑ دیا جاتا ہے۔جہنم کے تمام دروازے بند کر دیے جاتے ہیں۔ کوئی بھی دروازہ کھلا نہیں چھوڑا جاتا۔ اور جنت کے سب دروازے کھول دئے جاتے ہیں۔ کوئی بھی دروازہ بند نہیں رکھا جاتا۔اور ایک صدا دینے والا صدا دیتا ہے۔

 

 

 

اے خیر کے طالب آگے بڑھو۔ اور برائی کرنے والے۔ برائی سے رک جا۔اور بہت سے لوگ جہنم سے آزاد کئے جاتے ہیں۔اور ایسا ہر شب کو ہوتا ہے۔تو اس خاص با برکت مہینے میں۔ آپ خود کو سب سے پہلے عبادت میں مصروف رکھیں۔ اس طرح ایک تو ہم اللہ کے قریب ہو جائیں گے۔ دوسرے کرونا جیسی وباء سے نجات مل جائے گی۔ انشااللہ۔آج ہم آپکو کچھ Tipsبتائیں گے۔ جن سے آپ مصروف بھی رہیں گے۔ اور کروناجیسی بیماری سے بھی بچے رہیں گے۔
1۔روزہ کی اہمیت۔سب سے پہلے اس سال ہم نے روزے ضرور رکھنے ہیں۔حضرت ابو ہریرہ سے روائت ہے۔ کہ نبی پاک ﷺ نے فرمایا۔جو شخص رمضان کا ایک روزہ بھی بلا عذر شرعی(سفر،مرض کے بغیر)چھوڑے گا۔ تا عمر اسکی تلافی کے لئے روزے رکھتا رہے، مگر اسکی تلافی نہیں ہوگی۔اس حدیث سے معلوم ہوا روزہ کی کتنی اہمیت ہے۔

 

 

 

کیونکہ اللہ فرماتا ہے۔ بنی آدم کا ہر عمل اس کے لئے ہے۔ مگر روزہ میرے لیے ہے، اس کی جزا میں دوں گا۔روزہ وسے بھی ڈسپلن سکھاتا ہے۔ ٹائم کی پابندی سکھاتا ہے۔

 

 

2۔سونا۔کسی بھی صحت مند انسان کو ریسٹ بھی لازمی کرنی چاہئے۔ تاکہ وہ دوبارہ سے فریش ہو کر اپنے کام بحوبی کر سکے۔ اس کے لئے 6گھنٹے تک سونا ضروری ہے۔ ویسے بھی ماہرین کہتے ہیں۔ ضروری ریسٹ سے انسان کا (Immune System) قوت مدافعت مضبوط ہوتا ہے۔ جو بیماریوں سے محفوظ رکھتا ہے۔کرونا سے بچنے کے لئے اپنا قوت مدافعت مضبوط رکھنا ضروری ہے۔

 

 

3۔ سکون قلب۔ اس مہینے خاص اللہ کی رحمت سے نوازا جاتا ہے۔ لوگ اطمینان محسوس کرتے ہیں۔ جس سے تفسیاتی دباؤ۔ سڑیس کم ہو جاتی ہے۔ اس مہنے اللہ اپنے انسان کو اپنا بندہ بنانا چاہتا ہے۔انسان کو متوجہ کیا جاتا ہے۔کہ وہ اپنا اور اپنے رب کا ٹوٹا ہوا رشتہ بحال کرے۔اس مہینے رحمت خداوندی کا دریا موجزن ہوتا ہے۔یہ دعاؤں کی قبولیت کا مہینہ ہے۔انسان کو معلوم ہوتا ہے اس مہنے کوئی دعا رد نہیں کی جائے گی۔یہی سوچ انسان کو سکون قلب عطا کرتی ہے۔ ہم اس ماہ کرونا جیسی وباء سے نجات کی دعا ضرور کریں گے۔

 

4۔ہلکی ورزش۔ کہتے ہیں۔ جان ہے تو جہان ہے۔ روزے کے دوران اگر مشکل لگے۔ لیکن روزہ کھولنے کے بعد کم از کم آدھے گھنٹے سے ایک گھنٹہ تک وارزش یا واک ضرور کرنی چاہیے۔ اس سے ایک تو آپ کا وزن نہیں بڑھے گا۔ دوسرے آپ تناؤ اور دباؤ سے بچے رہیں گے۔ تیسرے آپ کا وقت بہت اچھی طرح سے کٹ جائے گا۔

 

5۔سحری اور افطاری۔ سحری اور افطاری بھی ایک عملی عبادت ہے۔ حدیث ہے ۔ کہ سحری کھاؤ کیونکہ سحری کھانے میں برکت ہے۔یقینا اللہ اور اسکے فرشتے سحری کھانے والوں پہ درود بھیجتے ہیں۔کچھ لوگ اٹھنے کی تکلیف سے بچے رہنے کے لئے رات کو ہی روزہ رکھ لیتے ہیں۔ انکو معلوم ہونا چاہیے۔ کہ افطاری کی طرح سحری بھی بہت اہم ہے۔

 

جب بھی لوگ روزے سے ہوتے ہیں۔ روزے کے ساتھ ساتھ کام کرتے ہیں۔ جس سے انکی صحت تو اچھی ہوتی ہی ہے۔ ساتھ میں سنت اور فرایض کا ثواب الگ ملتا ہے۔ افطاری سامنے رکھ کر بھی لوگ انتظار میں ہوتے ہیں۔ کب اذان ہو تو وہ روزہ افطار کریں۔ اس سے ان میں خود پہ کنٹرول (Self Control)کرنے کی کمانڈ پیدا ہوتی ہے۔ساتھ ساتھ آخرت کے لئے بھی زاد راہ بھی جمع ہوتا جاتا ہے۔تحمل مزاجی پیدا ہوتی ہے۔اللہ کی چھوٹی چھوٹی نعمتیں بھی بڑی لگتی ہیں۔ انسان اپنا احتساب خود کرنا سیکھ جاتا ہے۔ جس سے وہ اپنی غلطیاں خود ہی سد ھارنے لگتا ہے۔

 

6تقوی۔انسان رمضان میں پہلے سے زیادہ متقی اور پرہیز گار بن جاتا ہے۔ حرام وہلال کی تمیز کرنے لگتا ہے۔ عبادت گزار بندہ بن جاتا ہے۔ یہ سوچ اس کے لئے کافی ہوتی ہے۔ کہ روزہ اللہ کے لئے ہے۔ اس کی جزا بھی اسی کے پاس ہے۔ اور اللہ اپنے بندوں سے ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے۔ اللہ پہ ایمان اور بھی مضبوط ہوتا جاتا ہے۔ یہ سب اس کو زہنی سکون دییتے ہیں۔ اسی لئے کہا جاتا ہے۔ رمضان میں پہلا عشرہ رحمت۔دوسرا عشرہ بخشش اور تیسرا عشرہ دوزخ سے آزادی کا ہے۔

 

7۔غصہ پہ کنٹرول۔ اس ماہ مبارک کی برکت سے انسان اپنے غصے پہ قابو پانا سیکھ جاتا ہے۔ وہ جان جاتا ہے غصہ خرام ہے۔ اور گالی گلوچ سے پرہیز کرتا ہے۔ کیونکہ وہ جانتا ہے۔ روزہ صرف بھوکے رہنے کا نام نہیں ہے۔ انسان کے ہاتھ،زبان، ناک، کان، آنکھ سب کا روزہ ہوتا ہے۔ زور سے چلاتا نہیں۔ وہ سمجھتا ہے ایسا کرنے سے روزہ مکروح ہو جاتا ہے۔ آنکھ کا روزہ یہ ہے۔ حرام نہ دیکھے۔ کان کا روزہ یہ ہے حرام نہ سنے۔زبان کا روزہ یہ ہے۔کہ گالی گلوچ نہ کرے۔ غیبت نہ کرے۔چغلی نہ کرے۔ہاتھ کا روزہ یہ ہے کہ ہاتھ سے ظلم نہ کرے۔ کم نہ تولے۔غلط نہ لکھے۔پاؤن کا روزہ یہ ہے۔ کسی غلط محفل میں نہ جائے۔

 

8۔غیرمتعصب ہونا۔ انسان اس مبارک مہینے بہت زیادہ اللہ کے قریب ہونے کی وجہ سے۔ غیر متعصب ہو جاتا ہے۔ غریبوں اور ناداروں کا خیال کرنے لگتا ہے۔ انسانوں کی قدر سیکھ جاتا ہے۔ نبی پاک ﷺ نے فرمایا۔لوگوں کے ساتھ لڑائی جھگڑے سے اجتناب کرو۔کیونکہ اس سے نا تجربہ کاری ظاہر ہوتی ہے۔اور عزت دفن ہو جاتی ہے۔مزید کہا۔بت پرستی کے بعد مجھے جس چیز سے جتنی شدت سے لوگوں کے ساتھ جھگڑنے سے منع کیا گیا۔اتنا کسی اور چیز کے لئے منع نہیں کیا۔حضرت علی نے فرمایا۔ لوگوں کے ساتھ دشمنی جاہلوں کا شیوہ ہے۔یہ باتیں اس کو تناؤ اور دباؤ سے دور رکھتی ہیں۔جو گھر کا ماحول اچھا کر دیتی ہیں۔

 

9۔صبر۔گرمی کے موسم میں روزہ ایک جہاد ہے۔روزے کی خالت میں ہم اپنی نفسانی خواہشات سے دور رہتے ہیں۔جس سے ہم برائی پہ قابو پانا بھی سیکھ جاتے ہیں۔یہ سب ہم اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے کرتے ہیں۔اللہ کی محبت سب محبتوں سے افضل ہے۔
تیر ا خیال اگر جزو زندگی نہ رہے
جہاں میں میرے لئے کوئی دلکشی نہ رہے

 

 

10۔وقت کی قدر۔اس ماہ ہم کو وقت کی قدر بھی سیکھ جاتے ہیں۔ وقت پہ کھانا۔ وقت پہ عبادت۔ وقت پہ سونا۔ وقت پہ جاگنا۔ غرض ہم اچھی حاصی ٹایم مینجمنٹ سیکھ جاتے ہیں۔وقت نہائت قیمتی چیز ہے۔دولت سے بھی بڑھ کر وقت قیمتی ہے۔بلکہ دنیا کی ہر چیز سے بھی زیادہ۔ دولت اگر ختم ہو جائے یا ضائع ہو جائے۔تو آپ پہلے سے زیادہ محنت کرتے ہیں۔ دولت اور خاصل کر لیتے ہیں۔ مگر گیا وقت پھر کبھی ہاتھ نہیں آتا۔ فارغ انسان ا ور زہن ویسے بھی شیطان کا گھر ہے۔ اس لئے مصروفیت ہی زندگی ہے۔اللہ سے دعا ہے کہ کرونا سے نجات ملے اور پوری دنیا میں زندگی نارمل ہو جائے۔آمین ویسے بھی اپنی زندگی اس قدر مصروف کر لو کہ دوسروں کے عیب دیکھنے کی فرصت ہی نہ ملے۔

 

رمضان کے دوران اکثر خواتین کا اعتراض ہوتا ہے۔ کہ ان کا وزن روزے رکھنے سے بڑھ گیا ہے۔ تو اس کو کنٹرول کرنے کے لئے ضروری ہے۔ ہماری بہنیں چند باتوں کا خاص خیال رکھیں۔ سب سے پہلے تو اگر خواتین گھر کے کام خلوص نیت سے کریں تو گھر بھی صاف اور خاتون خانہ بھی سمارٹ رہے گی۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ چند ضروری باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔

 

1۔کھانے میں سب کچھ شامل کریں۔ بدل بدل کر چیزیں کھائی جائیں۔

2۔کھانے میں کاربوہایڈریٹس ضرور لیں۔جو کسی بھی قسم کی دال میں پائی جاتی ہے۔

3۔فیٹ(مرغن غزا) کو کھانے میں کم سے کم استعمال کریں۔بکہ نہ ہی کریں تو اچھا ہے۔

4۔فروٹ اور سبزیاں کھائیں۔

5۔نمک اور چینی کا استعمال کم کریں۔ ہو سکے نہ ہی کریں۔

6۔روزانہ اپنی خوراک میں پروٹین ضرور شامل کریں۔جوانڈے اور کسی بھی قسم کی گوشت میں پائی جاتی ہے۔

7۔ا ٓٹھ سے دس گلاس پانی ضرور پئں۔

8۔وزن کو بڑھنے نہ دیں۔

9۔واک ضرور کریں۔آدھے گھنٹہ سے ایک گھنٹہ تک۔

10۔وزن کو ایک دم نہیں آہستہ آہستہ کم کریں۔ایک دم کم کیا جانے والا وزن ایک دم ہی واپس آ جاتا ہے۔

رمضان میں اگر تھوڑی سی احتیاط کر لی جائے تو ہم اپنا وزن اپنی خواہش کے مطابق کم بھی کر سکتے ہیں۔اور ہم صحت مند بھی رہ سکتے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہی ہے۔ اس مہینے سارا دن فضول چیزیں کھانے سے بچے رہتے ہیں۔ افطاری کے وقت اگر ہاتھ روک کے کھایا جائے۔ شربت اور بوتلیں پینے کی بجائے سادہ پانی پیا جائے۔ تو اچھے صحت مندانہ نتائیج نکل سکتے ہیں۔

 

جن لوگوں کی صحت اچھی ہوگی ان پہ کوئی بھی وائرس جلدی حملہ آور نہیں ہو سکتا۔ اللہ ہم سب کو صحت مند زندگی عطا کرے۔ ہم کو اور ہمارے ملک کو ہر وباء اور ہر بلاء سے محفوظ رکھے۔آمین۔ امید ہے یہ رمضان ایک اچھی سی نوید عید لائے گا۔ انشاء اللہ

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.